پیٹرول 30روپے اور بجلی 8روپے مہنگی؛
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عوام کوماموں بنا دیا، جذباتی تقاریر کرکے مہنگائی کا ایسا طوفان لے آئے کہ غریب کا ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا۔
سابق حکومت پر تنقید کرنیوالی پی ڈیم ایم کی حکومت سے بھی مہنگائی کا جن قابو میں نہ آسکا۔ عمران خان کی حکومت کیخلاف مہنگائی مارچ کرنیوالے خود مہنگائی کا طوفان لے آئے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محض ایک ہفتے میں 60روپے تک اضافہ کر دیا گیا ھے،
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈبل سنچری کراس کرکے 200 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں دو ہفتوں کے دوران دوسری مرتبہ اضافہ کیے جانے پر جہاں شدید مہنگائی کی نئی لہر کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں ہر عوام کا کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے سزا صرف عام عوام کو نہیں ملنی چاہیے سب کو قربانی دینی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر صارفین پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مقتدر حلقے اصلاحات کے نام پر صرف عوام پر بوجھ نہ ڈالیں۔
خیال رہے کہ آج جمعے کے دن سے پاکستان بھر میں پیٹرول 209 روپے 86 پیسے، ڈیزل 204.15 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل 178 روپے 03 پیسے جب کہ مٹی کا تیل 181.94 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔
حکومت نے ایک ہفتے کے اندر دوسری بار پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت 30 روپے اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل27 مئی 2022 کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔
اور تاریخ میں پہلی بار پیٹرول کی قیمت ڈبل سنچری سے تجاوز کرکے فی لیٹر 209روپےہو گئی۔ پی ٹی آئی حکومت میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا تو یہی ن لیگ اور تمام پی ڈی ایم آسمان سر پر اٹھا لیتی لیکن آج خود پیٹرول مہنگا کرنے کا جواز پیش کر رہی ہے۔ بقول ن لیگی وزیر مصدق ملک کے حکومت کے پاس زہر کھانے کو تو پیسے نہیں لیکن اخبارات اور میڈیا پر اشتہارات کی مد میں کروڑوں اربوں روپے کی نوازشات کی جارہی ہیں۔ اخبار میں کروڑوں روپے کے خالی صفحات پر مبنی اشتہارات چلائے جارہے ہیں اور خوب پیسہ اڑایا جارہا ہے لیکن غریب عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کہتے تھے اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا دوں گا۔ لیکن آفسوس اب تک نہ کپڑے بِکے نہ آٹا سستا ہوا، اور پیٹرول کی قیمتوں کو تو جیسے پر لگ گئے ہوں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے طوفان کی ایسی لہر آئیگی کہ غریب آدمی کیلئے ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوجائیگا۔ اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بھی 8روپے تک اضافہ کر دیا ہے اور عوام کی چیخیں آسمان پر پہنچانے کی تیاریاں مکمل ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ بے تحاشا اضافہ ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔ اشرافیہ کے علاوہ ہر طبقہ خصوصاً مڈل کلاس لوگ جو کہ 90 فیصد سے زائد ھے اس حالیہ مہنگائی سے شدید متاثر ہوگا، فضول خرچیوں میں ضائع ہونے والے پیسوں سے کھربوں بچایا جا سکتا ہیں تو صرف پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کیوں ؟
عوام کا مطالبہ ھے کہ وزیروں، مشیروں، ججوں، جرنیلوں، سرکاری افسروں وغیرہ کو فری پٹرول کی فراہمی بند کی جائے، اضافی مفت سہولتیں ختم کی جائے، امیروں سے ٹیکس لیا جائے، دفتروں میں فالتو بجلی AC کا استعمال کا استعمال روکھا جائے۔
پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عمران خان نے ’پُرامن احتجاج‘ کی کال دے دی ھے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جنھوں نے ان کی حکومت گرانے کی ’سازش کی‘، ان کے پاس معیشت سنبھالنے کا کوئی منصوبہ نہ تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سابق وزیراعظم کہتے ہیں کہ ’موڈیز نے پاکستانی معیشت کے آؤٹ لُک کو نیچے گراتے ہوئے ’مستحکم‘ سے ’منفی‘ کر دیا ہے۔ جنھوں نے ہماری حکومت گرانے کی سازش کی ان کے پاس معیشت سنبھالنے کا کوئی منصوبہ نہ تھا۔ چئیرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا ہیں کہ موجودہ حکومت کی بنیادی ترجیحات ہی خود کو این آر او ٹو یعنی بدعنوانی کے مقدمات سے نجات دلوانا، انتخابات کو آلودہ کرنا، اپنےغنڈوں کے ساتھ مل کر اداروں برباد کروانا اور مقدمات میں ریاستی قوت سے مخالفین کو کچلنا تھیں۔’مجرموں کا یہ گروہ ہمارے کسی بھی بیرونی دشمن سے کہیں بڑھ کر پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇
https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں