جمعہ، 24 جون، 2022

صلح میں خیر ھے۔

 صلح کروانا پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں صلح کروانے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے۔ پارہ26 سورۃ الحجرات کی آیت نمبر9 میں اللہ عزوجل کا فرمان عالیشان ہے:


(ترجمہ ) ’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کرائو‘‘۔
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' کیا میں تمہیں روزے،نمازاور صدقے سے بڑھ کر افضل درجات کے اعمال نہ بتاؤں؟ '' صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ''آپس کے میل جول اور روابط کو بہتر بنانا ۔ (اور اس کے برعکس) آپس کے میل جول اور روابط میں پھوٹ ڈالنا (دین کو) مونڈ دینے والی خصلت ہے ۔ ''


گدون کے علاقہ بادہ تحصیل ٹوپی میں آٹھ سالہ پرانی دشمنی جرگہ مشران کی کوششوں سے دوستی میں بدل گئی اوردونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ راضی نامہ ہوگیا۔

جرگہ مشران مولانا فضل باقی صاحب حاجی غفورخان  جدون 
گل عجب کاکا، ایس ایچ او تھانہ گدون انڈسٹریل اسٹیٹ  شمس القمر صاحب،  اجون خان جدون، محمد رحیم جدون تحصیل میئر ٹوپی، عادل خان تحصیل میئر چھوٹا لاہور سھیل خان ٹوپی،  قاری محمد سلیمان و دیگر جرگہ مشران کی کاوشوں سے بادہ گدون میں 02خاندانوں حاجی نوررحمان جدون گل حمید محلہ عیسی خیل اور نوراز ولد امان خان ہمٹ خیل کے مابین آٹھ سالہ دشمنی ختم ھوکر دونوں خاندان کے درمیان آج باقاعدہ ایک تقریب میں راضی نامہ ہوگیا۔


 جرگہ مشران کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت دونوں فریقین کے مابین صلح ممکن ہوا. 
ذرائع کے مطابق آٹھ سال سے دو خاندانوں گل حمید نوررحمان فضل الرحمان علی رحمان جلالی عیسی خیل اور نوراز ولد امان خان کے درمیان قتل مقاتلے کی دشمنی چلی آرہی تھی۔ دونوں فریقین کا تعلق ایک ہی گاوں سے ہے ۔آج علاقہ مشران و جرگہ مشران کی کوششوں سے دشمنی دوستی میں بدل گئی اور دونوں فریقین شیر و شکر ہوگئے اور مسجد میں جرگہ مشران اور عمائدین علاقہ کی موجودگی میں قران پاک پر حلف اٹھا لیا کہ آیندہ کے لئے بھائیوں جیسے زندگی گزاریں گے. جرگہ کی انتھک کوششوں سے اللہ تعالٰی نے آج صلح کو عملی شکل دی اور آج مسجد صدیق اکبرؓ بادہ گدون برجماعت میں دونوں فریقین ایک دوسرے کیساتھ بغلگیر ہوگئے۔

چائے سے معیشت کو خطرہ! جامعات میں طلبہ کو ستّو اور لسّی پلائیں، ہائیر ایجوکیشن

 احسن اقبال کا معیشت ٹھیک کرنے کے لیے قوم کو چائے کم پینے کا مشورہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے چند دن پہلے معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے قوم کو چائے کم پینے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر انکا ویڈیو کلپ وائرل ھوگیا، اور سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان برپا ہو گیا۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ھے کہ حکومت کا کام پالیسی بنانا مشورے دینا نہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے پاکستانی لوگوں اور پڑوسی ملک سے آنے والے ’حملہ آوروں کی تواضح‘ بھی چائے کی پیالی سے کرنے والی پاکستانی قوم کو احسن اقبال کا چائے کم کرنے کا مشورہ بالکل پسند نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ دن میں چائے کم پینے کا کہنے پر احسن اقبال نے پاکستانی عوام سے تاحیات دشمنی مول لی ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پتھر کھا کر گزارا کر لیں گے مگر چائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا !!

دودھ، پانی، پتی ہے، کوئی اسلحہ تو نہیں۔۔۔۔دو کپ چائے پی لی، اب ایک اور پی لوں کوئی مسئلہ تو نہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان چائے کی درآمد پر خاصی رقم خرچ کرتا ہے اور مگر بقول شاعر:

مانا کہ تم بہت حسین ہو مگر
محبت ہمیں پھر بھی چائے سے ہے۔۔۔

اور ہم تو بس اتنا کہیں گے: احسن اقبال صاحب غریب کو جینے دیں اور چائے پینے دیں!

اس میں شک نہیں کہ پاکستان کا شمار دنیا بھر میں زیادہ چائے پینے والوں میں ہوتا ہے۔
جہاں وقت کی کوئی قید نہیں, اور نہ ہی چائے پینے کی کوئی وجہ
ہمارے ہاں چائے کو بطور "دوا " بھی پیا جاتا ہے
*سر میں درد ہو رہا ہے.......... چاہ پی!!
تھکاوٹ ہو گئی ہے............ چاہ پی!!!
نیند نہیں آ رہی........ چاہ پی!!!!
اور پھر گھر میں مہمان آگے ہیں.... کڑیے چاہ بنا... 
نا!!! چاہ نہ ہوگئی امرت جل ہو گیا...
ویسے ایک بات تو ہے چائے میں.. زندگی میں دھوکے کے بعد چائے وہ چیز ہے جو بندے کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔
وغیرہ وغیرہ


حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان چائے درآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست پر آگیا ھے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان 59 کروڑ ڈالر کی سالانہ چائے درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے جبکہ پاکستان کے مقابلے میں امریکا نے 47 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی چائے درآمد کی حالانکہ امریکا پاکستان سے 100 گنا زیادہ دولت مند امیر ملک ہے اور اس کی آبادی پاکستان سے کافی زیادہ ہے اس طرح برطانیہ 34 کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی چائے امپورٹ کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ چین چائے امپورٹ کرنے والے ملکوں میں چوتھے نمبر پر اور مصر 5 ویں نمبرپر ہے۔ چین کی چائے کی سالانہ امپورٹ 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے اور مصر کی سالانہ امپورٹ 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔ اس طرح وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے جو یہ دانشمندانہ جملہ کہا تھا کہ پاکستان جو کم وبیش 60 کروڑ ڈالر کی چائے سالانہ درآمد کر رہا ہے چونکہ ہم پاکستانی یومیہ کئی کپ چائے پیتے ہیں اگر اس میں سے یومیہ ایک کپ بھی کم کر دیں تو پاکستان کا چائے کی درآمد کا مجموعی بل تیزی سے کم ہوجائے گا۔





آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں خیبرپختونخوا کے علاقے شنکیاری ضلع مانسہرہ میں چائے کے باغات موجود ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے یہاں پر چائے مقامی سطح پر کاشت کی جا رہی ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں بہت کم لوگوں کو اس بات معلومات ہے کہ پاکستان میں چائے کے اتنے خوبصورت باغات موجود ہیں۔  
دنیا میں چائے پیدا کرنے والے ممالک نے جہاں چائے کی کاشت سے زرمبادلہ کمایا وہاں ساتھ ہی ساتھ اس کی ٹورازم کو پرموٹ کر کے بھی بے پناہ پیسہ کمایا۔ 
لیکن ہمارے ہاں نہ تو چائے کی کاشت کو فروغ مل سکا اور نہ ہی اتنے خوبصورت شنکیاری ٹی گارڈن کی ٹورازم کو اجاگر کیا جا سکا۔ 
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں چائے کی کاشت کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات کی ٹورازم کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میں چائے کا قومی دن منانے کے لیے نیشنل ٹی گارڈن فیسٹیولز منانے کا بھی آغاز کیا ھے اس سلسلے میں اے ٹی ڈی سی پی ، این ٹی ایچ ار آئی اور پے اے آر سی کے تعاون سے پاکستان میں چائے کا قومی دن ڈکلیئر کیا گیا ۔ سنڈے 26 جون 2022 کو اسی سلسلے کا تیسرا سالانہ قومی ٹی گارڈن فیسٹیول 2022 کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں مقامی سطح پر خود کی اپنی چائے کی کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات کی سیاحت کو بھی فروغ مل سکے جس سے ہم اپنی چائے کی کاشت کو اپنی ٹورازم کی طاقت بنا کر اس گاؤں میں بے پناہ پیسہ انجیکٹ کر سکتے ہیں ۔ 
21 جون کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی طرف سے پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کو ایک لیٹر کے ذریعے مطلع کیا گیا کی پاکستان میں چائے کی مقامی سطح پر کاشت کو فروغ دیا جائے، اور مقامی کاشت کی گئی چائے کے ساتھ ساتھ مقامی مشروبات جیسے کہ ستو، لسی کو فروغ دیا جائے۔ 

گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے مانسہرہ میں قائم چائے اور دیگر بڑی فصلوں کے قومی تحقیقی ادارے (نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) شنکیاری مانسہرہ کا دورہ کیا۔اس موقع پران کے ہمراہ مرتضیٰ جاوید عباسی (وفاقی وزیر ، پارلیمانی امور )، سردار محمد یوسف، (ایم پی اے صوبائی اسمبلی کے پی کے) اور ڈاکٹر اکمل صدیق (مشیر برائے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق)نیز صوبائی محکمہ جنگلات اور زراعت کے نمائندگان بھی شریک تھے۔چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی اور ڈائریکٹر این ٹی ایچ آر آئی شنکیاری ڈاکٹر عبدالوحید دونوں نے مل کر شرکاءکو ملک کے ممکنہ ترقی پذیر علاقوں میں چائے کے فروغ کے لیے تحقیق اور ترقی کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے حکومت کے طور پر مقامی چائے کی پیداوار کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ حکومت چائے کی درآمد پر بھاری رقم یعنی 0.50 بلین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائے کی کمرشلائزیشن کے لیے تمام ضروری اقدامات پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی یعنی چائے کی پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ تاکہ چائے کی پیداوار کو ایک کامیاب کاروبار بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ چائے کی کمرشلائزیشن پلان میں نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جائے گا اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلات اور زراعت این ٹی ایچ آر آئی کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ساتھ چائے کی کمرشلائزیشن کے منصوبے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
 اس موقع پر احسن اقبال نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ چائے کی کمرشلائزیشن میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی زیر نگرانی چائے کی کمرشلائزیشن موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کو چائے پیدا کرنے والا ملک بنانے کے لیے چائے کی کاشت کے لیے موزوں مٹی اور موسمی حالات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ شرکاءنے NTHRI میں چائے کے باغات اور چائے کے پروسیسنگ پلانٹس (بلیک اینڈ گرین ٹی) کا بھی دورہ کیا اور چائے کی کاشت اور پروسیسنگ میں شامل اقدامات کے بارے میں روشنی ڈالی۔
  چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی نے چائے کی پیداوار اور پروسیسنگ ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے پی اے آرسی کے کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے شرکاءکو بتایا کہ چائے کی کاشت کی ترقی پر کامیاب تحقیقی کام اس ادارہ کے سائنسدانوں نے کیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ چائے کی پیداوار کو بڑے پیمانے پر تجارتی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کے شمالی علاقوں میں 158,000 ایکڑ رقبہ چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWShttps://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘

https://twitter.com/ZahidNewss

پیر، 20 جون، 2022

حکومت نے 2000 روپے دینا شروع کر دیا۔

 بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ھونے والی مستحق خواتین آج سے اپنی 2000 روپے کی رقم نزدیکی ریٹیلر سے انگوٹھے کی تصدیق کے بعد وصول کریں۔ 

دو ہزار رقم پوری نہ ملنے کی صورت میں اپنے تحصیل میں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں شکایت کا اندراج کریں۔
تفصیلات جانیں اس ویڈیو میں



تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مدنظر بینظیر کفالت میں رجسٹرڈ 80 لاکھ خاندانوں کو سستا پیٹرول / سستا ڈیزل سکیم کے تحت 2000 روپےکی ادایئگیوں کا آج سے آغاز کر دیا گیا ہے۔
  بینظیر کفالت کے رجسٹرڈ مستحقین خواتین سے گزارش ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ کی جانب سے رقم وصولی کا پیغام ملنے پر پنجاب سندھ اور بلوچستان کے رہائشی حبیب بنک جبکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے رہائشی بینک الفلاح سے 2000 روپے کی رقم وصول کریں۔ 
  وہ تمام مستحقین جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ نہیں ہیں اور انہوں نے 786 پر ایس ایم ایس کر کے خود کو رجسٹرڈ کرا چکے ہیں ان سے گرازش ہے کہ وہ رقوم کی ادائیگی کےلیے ایس ایم ایس پیغامات کا انتظار کریں۔ اہلیت کا معیار جانچنے کے بعد آپ کو جلد ہی ادائیگی کا پیغام موصول ہو جائے گا۔
مزید جانیں اس ویڈیو میں 
https://youtu.be/x7GwOO3gu2E

#زاھدنیوز کو ضرور لائیک اور فالوکیجیے۔👇

https://Facebook.com/Zahidnews

منگل، 7 جون، 2022

ٹوپی میں کتب میلہ کا انعقاد

 ٹوپی شہر کی تاریخ میں پہلی بار کتب میلہ کا انعقاد

تحریر؛ قاری زاھد ٹوپی
کہتے ہیں کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہےـ کتب بینی انسان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کرتی ہے ـ کتاب دوست لوگ معاشرے میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں جبکہ مطالعہ کے عادی افراد اپنے حلقے میں ہر دل عزیز ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ اپنی ذخیرہ الفاظ اور معلومات کی بنیاد پر دوسروں کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں ـ مطالعہ انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے ـ آج بھی جو لوگ اپنا رشتہ کتابوں کے مطالعے سے جڑے ہوئے ہیں، وہ بالکل ہی الگ شخصیت کے حامل دکھائی دیتے ہیں ـ آج ہم اپنے اطراف ذرا نظر دوڑائیں تو ہم پر منکشف ہوگا کہ معروف و کامیاب شخصیات نے زمانہ طالبِ علمی سے ہی کتاب بینی کی عادت اپنا رکھی تھی ـ اسی وجہ سے انکا ایک الگ نام اور پہچان ھوتا ھےـ

کتابیں روشنی ھے،  کتابیں علم بانٹتی ھے،  شعور بانٹتی ھے، کتاب لکھنے کےلیے مصنف برسوں لگا دیتا ھے، کتابیں رہتی دنیا تک انسانوں کو زندہ رکھتی ھے، کتابیں خریدنا اور پڑھنا  باشعور لوگوں کی پہچان ھے، کتابیں انسان کو سجاتی، سنوارتی، رہنے سہنے کا سلیقہ اور تہذیب سکھاتی ھیں.

ذوق مطالعہ ایک اچھی عادت ھے، کتابوں کی مطالعہ سے آپ کے علم میں اضافہ ھوتا ھے، نئی باتیں سیکھنے کو ملتی ھیں۔ انسان کے خیالات میں وسعت اور گفتگو میں ربط و گہرائی پیدا ھوتی ھے۔

ٹوپی شہر کی تاریخ میں پہلی بار ضلعی انتظامیہ صوابی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن پشاور کی جانب سے 7 اور 8 جون، 2022 کو گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول، ٹوپی (پرانا میلا لار ٹوپی) میں دو روزہ کتب میلہ کا افتتاح کردیا گیا ھے، جس میں مختلف پبلشرز کی نایاب اور معروف کتابیں، جس میں شاعری، افسانے، اسلامی کتب، اردو، انگریزی ادب اور طلباء و طالبات کی نصابی کتب %50 ڈسکاؤنٹ پر دستیاب ہونگی۔ بک فیئر کا باقاعدہ افتتاح آج ڈپٹی کمشنر صوابی جناب کیپٹن (ریٹائرڈ) ثناءاللہ خان صاحب نے فیتہ کاٹ کرکی۔ اس موقع پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی عدنان ممتاز خٹک، پروفیسرز، سکول ٹیچرز، عوامی نمائندے، طلباء، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صوابی نے اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی جناب عدنان ممتاز خٹک صاحب کے کوششوں کو سراہا جس کی بدولت تحصیل ٹوپی میں کتاب میلہ کو ممکن بنایا جاسکا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صوابی نے کہا کہ جو قومیں کتابوں کو اپنی اثاثہ سمجھ کر ان سے مستفید ہوتی ہیں وہ دنیا کے کسی بھی میدان میں ناکام نہیں ہوتیں، موجودہ سوشل میڈیا کے دور میں ہم کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں لیکن کتابوں کے بغیر علمی ترقی کے منازل طے نہیں کی جا سکتیں۔

تقریب کے اختتام پر سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر صوابی کے سامنے اپنے مسائل کے ڈھیر رکھ دئیے جس کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر صوابی نے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کیے۔

تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS




پیر، 6 جون، 2022

ووٹ کے اندراج اور تبدیلی کا طریقہ

ووٹ کی اندراج کا آخری موقع



ووٹس کی درستگی ہماری انتہائی اہم قومی ذمہ داری ہے  آپ سب لوگ جو جو یہ بلاگ پڑھ رہا ہے خود اپنے خاندان اپنے رشتے داروں اور دوست احباب کے لازمی طور پر ووٹس کی تصدیق کروائے اور ان کی درستگی کے بارے میں معلومات ان کو فراہم کرے آسان طریقہ کار 3 اسٹیمپ میں درج ذیل ہے۔

1: سب سے پہلے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8300 پر میسیج کریں جواب آنے کی صورت میں اپنا شماریاتی بلاک کوڈ نوٹ کریں اور اپنے قریبی ڈسپلے سینٹر چیک کرنے کے لیے درجہ ذیل لنکس کھول کر اپنا ضلع تلاش کریں اور PDF فائل کی صورت میں لسٹ ڈاؤنلوڈ کریں پھر اس میں سے اپنا قریبی ڈسپلے سینٹر تلاش کر فوری وہاں پہنچیں۔

اسلام آباد: 
https://drive.google.com/drive/folders/1reEhtreQCVrxKvZZnS_ej7klDMhQNQYn

پنجاب: 
https://drive.google.com/drive/folders/1enpsEgbsRCwP_9d9YcWeCchKftzahN5k

سندھ:
https://drive.google.com/drive/folders/1hy595JQf2DH9Ok7U3I2FJJ3GtR8WAUd0

کے پی کے:

https://drive.google.com/drive/folders/1pl8UjI8ggt40UmC3qsElET9K1LxcDT94

بلوچستان:
https://drive.google.com/drive/folders/13aGUCNaxqgbeGm7eQmcbc-G3sT8ij2Bl

2: اب آپ ڈسپلے سینٹر میں مجاز آفیسر کے سامنے کھڑے ہیں اس کے سامنے اپنا شناختی کارڈ اور نوٹ کیا ہوا شماریاتی بلاک کوڈ رکھیں اس سے کہیں میرا ایڈریس یہ ہے اور میرا ووٹ اس بلاک کوڈ میں ہے جو کہ درست نہیں میں اس کی درستگی چاہتا ہوں وہ آپ کو فارم 15 دے گا فارم پندرہ کی تصویر بھی نیچے موجود ہے اور اگر فارم پندرہ اس کے پاس نہ ہو یا دینے سے انکار کرے تو درج ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ کر کے اسکا پرنٹ نکلوا لیں۔

http://www.ecp.gov.pk/documents/er/Form%2015%20Urdu%2001-02-2022.pdf

3: جس جس ووٹر کی درستگی درکار ہو اسے اپنے ساتھ ڈسپلے سینٹر لائیں اور اسی افسر سے فارم پر کروانے کے بعد سائین انگوٹھے کر کے رسید حاصل کریں یوں آپ کا ووٹ درست ہو جائے گا۔


یاد رہے کہ
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک بھر میں غیرحتمی انتخابی فہرستوں کی اشاعت کے لئے ملک بھر میں ڈسپلے سینٹرقائم کر دیئے ہیں۔ جس میں غیر حتمی انتخابی فہرستیں عوام الناس کے معائنہ کے لئے رکھی گئ ھیں۔ اس دوران ووٹرز اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ناموں کے اندراج اورکوائف کی جانچ پڑتال کرسکتے ہیں ۔ڈسپلے سینٹر 19جون 2022 تک کھلے رہیں گے۔

✓✓اگر کسی 18 سال سے زائد عمر کے فرد کا ووٹ درج نہیں ہے تو وہ شناختی کارڈ کے مستقل یاعارضی پتہ کےمطابق اپنا ووٹ درج کروا سکتا ہے۔

✓✓نیزکسی غیر متعلقہ / فوت شدہ ووٹر کے ووٹ کااخراج اور شناختی کارڈ کے مطابق کوائف کی درستگی بھی کروائی جاسکتی ہے۔

✓✓سرکاری ملازمین او ر ان کے اہل خانہ عارضی پتہ پر اپنے ووٹ کا اندراج و منتقلی کرواسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں ملک بھر میں کل  20159 ڈسپلے سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ جن میں سے
صوبہ پنجاب 12037، 
سندھ 3609 ، 
خیر پختونخوا ہ میں 3040
جبکہ بلوچستان میں 1473 ہیں۔
تمام فارموں) اندراج ، اخراج ودرستگی ( پر کارروائی کے لئے 525 حاکم نظرثانی کی تعیناتی بھی کردی گئی ہے ۔ فارم ڈسپلے سینٹرز کے علاوہ ،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وں ، اسسٹنٹ رجسٹریشن افسران کے دفاتر اور اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ www.ecp.gov.pk پر بھی موجود ہیں ۔ ووٹ کے اندراج کے لئے بھی فارم 15 کوائف کی درستگی کے لئے فارم 17جبکہ ووٹ کے ٹرانسفر کے لئے بھی فارم 15 پُر کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ کوئی بھی ووٹر اپنے انتخابی علاقے کی انتخابی فہرستوں میں موجود کسی بھی غیر متعلقہ ووٹر کےخلاف فارم 16 پُرکرکے اعتراض بھی جمع کرا سکتا ہے ۔ 
تمام ڈسپلے سینٹر ز میں مطلوبہ فارم فراہم کر دیئے گئےہیں تاکہ عوام الناس کو مہیا کئے جائیں ۔
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS


#زاھدنیوز کو ضرور لائیک اور فالوکیجیے۔👇

https://Facebook.com/Zahidnews

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘

https://twitter.com/ZahidNewss

جمعہ، 3 جون، 2022

پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

 پیٹرول 30روپے اور بجلی 8روپے مہنگی؛


وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عوام کوماموں بنا دیا، جذباتی تقاریر کرکے مہنگائی کا ایسا طوفان لے آئے کہ غریب کا ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا۔

سابق حکومت پر تنقید کرنیوالی پی ڈیم ایم کی حکومت سے بھی مہنگائی کا جن قابو میں نہ آسکا۔ عمران خان کی حکومت کیخلاف مہنگائی مارچ کرنیوالے خود مہنگائی کا طوفان لے آئے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محض ایک ہفتے میں 60روپے تک اضافہ کر دیا گیا ھے،

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈبل سنچری کراس کرکے 200 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں دو ہفتوں کے دوران دوسری مرتبہ اضافہ کیے جانے پر جہاں شدید مہنگائی کی نئی لہر کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں ہر عوام کا کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے سزا صرف عام عوام کو نہیں ملنی چاہیے سب کو قربانی دینی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر صارفین پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مقتدر حلقے اصلاحات کے نام پر صرف عوام پر بوجھ نہ ڈالیں۔

خیال رہے کہ آج جمعے کے دن سے پاکستان بھر میں پیٹرول 209 روپے 86 پیسے، ڈیزل 204.15 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل 178 روپے 03 پیسے جب کہ مٹی کا تیل 181.94 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔

حکومت نے ایک ہفتے کے اندر دوسری بار پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت 30 روپے اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل27  مئی 2022 کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔

اور تاریخ میں پہلی بار پیٹرول کی قیمت ڈبل سنچری سے تجاوز کرکے فی لیٹر 209روپےہو گئی۔ پی ٹی آئی حکومت میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا تو یہی ن لیگ اور تمام پی ڈی ایم آسمان سر پر اٹھا لیتی لیکن آج خود پیٹرول مہنگا کرنے کا جواز پیش کر رہی ہے۔ بقول ن لیگی وزیر مصدق ملک کے حکومت کے پاس زہر کھانے کو تو پیسے نہیں لیکن اخبارات اور میڈیا پر اشتہارات کی مد میں کروڑوں اربوں روپے کی نوازشات کی جارہی ہیں۔ اخبار میں کروڑوں روپے کے خالی صفحات پر مبنی اشتہارات چلائے جارہے ہیں اور خوب پیسہ اڑایا جارہا ہے لیکن غریب عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کہتے تھے اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا دوں گا۔ لیکن آفسوس اب تک نہ کپڑے بِکے نہ آٹا سستا ہوا، اور پیٹرول کی قیمتوں کو تو جیسے پر لگ گئے ہوں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے طوفان کی ایسی لہر آئیگی کہ غریب آدمی کیلئے ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوجائیگا۔ اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بھی 8روپے تک اضافہ کر دیا ہے اور عوام کی چیخیں آسمان پر پہنچانے کی تیاریاں مکمل ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ بے تحاشا اضافہ ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔ اشرافیہ کے علاوہ ہر طبقہ خصوصاً مڈل کلاس لوگ جو کہ 90 فیصد سے زائد ھے اس حالیہ مہنگائی سے شدید متاثر ہوگا، فضول خرچیوں میں ضائع ہونے والے پیسوں سے کھربوں بچایا جا سکتا ہیں تو صرف پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کیوں ؟

عوام کا مطالبہ ھے کہ ‏وزیروں، مشیروں، ججوں، جرنیلوں، سرکاری افسروں وغیرہ کو فری پٹرول کی فراہمی بند کی جائے، اضافی مفت سہولتیں ختم کی جائے، امیروں سے ٹیکس لیا جائے، دفتروں میں فالتو بجلی AC کا استعمال کا استعمال روکھا جائے۔

پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عمران  خان نے ’پُرامن احتجاج‘ کی کال دے دی ھے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جنھوں نے ان کی حکومت گرانے کی ’سازش کی‘، ان کے پاس معیشت سنبھالنے کا کوئی منصوبہ نہ تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سابق وزیراعظم کہتے ہیں کہ ’موڈیز نے پاکستانی معیشت کے آؤٹ لُک کو نیچے گراتے ہوئے ’مستحکم‘ سے ’منفی‘ کر دیا ہے۔ جنھوں نے ہماری حکومت گرانے کی سازش کی ان کے پاس معیشت سنبھالنے کا کوئی منصوبہ نہ تھا۔ چئیرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا  ہیں کہ موجودہ حکومت کی بنیادی ترجیحات ہی خود کو این آر او ٹو یعنی بدعنوانی کے مقدمات سے نجات دلوانا، انتخابات کو آلودہ کرنا، اپنےغنڈوں کے ساتھ مل کر اداروں برباد کروانا اور مقدمات میں ریاستی قوت سے مخالفین کو کچلنا تھیں۔’مجرموں کا یہ گروہ ہمارے کسی بھی بیرونی دشمن سے کہیں بڑھ کر پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS







جمعرات، 2 جون، 2022

 مہینے 2000 وصول کرنے کا طریقہ


حکومت پاکستان نے پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد مستحق افراد کو ٹارگٹڈ پیٹرول و ڈیزل سبسڈی دینے کا اعلان کیا ھے، جسکو وزیراعظم سستا ڈیزل اور وزیراعظم سستا پٹرول سکیم کا نام دیا گیا ھے،
یر وہ پاکستانی جس کی ماہانہ آمدنی چالیس ہزار روپے سے کم ھو، ان افراد کے لئے رجسٹریشن کوڈ جاری کردیا گیا ھے۔
786 پر اپنا شناختی کارڈ Sms کریں 2000 ہر ماہ ریلیف ملے گا
یکم جون سے میسج کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے
73 لاکھ Bisp سے پیسے لینے والی خواتین کو msg کرنے کی ضرورت نہیں انہیں automatic ان کے نام پہلے سے رجسٹرڈ سموں کے ذریعے 2000 روپے کی subsidy ہفتے کے اندر ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائے گی باقی 67 لاکھ خاندان جو Bisp سے پیسے وصول نہیں کر رہے اور ان کی آمدن 40000 سے کم ہے یکم جون سے شادی شدہ خاتون یا بیوہ خاتون کا شناختی کارڈ نمبر اپنی سم سے 786 پر بھیجیں جانچ پڑتال کے بعد اہل خواتین کے اکاؤنٹ میں 2000 روپے کی سبسڈی جلد ٹرانسفر کر دی جائے گی،  پیغام کو اردگرد غریب لوگوں تک پھیلائیں تاکہ کسی ایک کا بھلا ہو سکے۔  شکریہ
مزید جانیں اس ویڈیو 👇میں
https://youtu.be/x7GwOO3gu2E


خطبہ حج 2023

شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے، ایسی ہر چیز جس سے اتحاد ٹوٹے دور رہنے کا حکم ہے: خطبہ حج میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن مح...