بدھ، 7 ستمبر، 2022

7 ستمبر ایک تاریخ ساز دن

 تحریر: قاری زاھدحسین زاھد

6 ستمبر 1965ء کا دن دفاعی لحاظ سے عالمی تاریخ میں کبھی نہ بولنے والا ایک قابلِ فخر دن ہے جس دن کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور بھاری بھر کم دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا۔ مگر اس چھوٹے مگر غیور ملک نے اپنے دشمن کے بزدلانہ حملے کا اس جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے ۔ اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے والا غیور اور چھوٹا ملک پاکستان ہے۔

چھ سمبر کو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ ہوا۔ چھ ستمبر کی طرح سات ستمبر بھی ملک خداد پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین بلکہ عظیم ترین دن ہے، یہ دن صرف پاکستان ہی کے لیے نہیں ، بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اسی دن حضوراکرم ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ ہوا۔ اسی دن آنحضرتﷺ کی عزت و ناموس کا جھنڈا بلند ہوا۔ اسی دن آپ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ذلیل و رسوا ہوۓ ، اسی دن آپﷺ کی تاج ختم نبوت کو چوری کرنے والے ناکام و نامراد ہوۓ ، یہی وہ دن ہے جس دن پاکستانی پارلیمنٹ اور پوری قوم نے مل کر مرزائی اور قادیانیوں کو جسد ملت اسلامیہ سے کاٹ کر علیحدہ ثابت کر دیا ۔ اور انہیں آئینی و قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیدیا گیا ، اس پر صرف پوری پاکستانی قوم نے ہی نہیں، بلکہ پوری  امت مسلمہ نے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر ادا کیا، کیوں کہ قادیانیت کے تعفن اور نحوست نے پوری امت مسلم کو بے چین اور مضطرب کیا ہوا تھا۔

7 ستمبر 1974ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام ممبران قومی اسمبلی کی اجتماعی جدوجہد سے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا۔ یہ سابقہ وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت کا واقعہ ہے، کہ 22 مئی 1974 ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ چناب نگر کے راستے پشاور کے تفریحی دورے پر جا رہے تھے کہ پنجاب کے شہر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اپنی لٹریچر تقسیم کر نے لگے ، جس پر انہوں نے احتجاج کیا۔ اور لٹریچر لینے سے انکار کیا۔ تفریحی دورے سے واپسی پر 29 مئی- 1974 ء کو انہی طلبہ کی ریل گاڑی خلاف ضابطہ پنجاب کے شہر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر روک کر نہتے طلبہ پر قادیانیوں نے حملہ کر کے بدترین تشدد کیا، انکے ناک، کان اور جسم کے دیگر اعضا بے دردی سے علیحدہ کیے۔ جس سے 30 طلبہ شدید زخمی ہوگئے، تاریخ میں اسے سانحہ ربوہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں پریشانی کی ایک بڑی لہر دوڑ گئی ، دینی و مذہبی و جماعتوں کی اپیل پر پاکستان کے مختلف شہروں  میں پرجوش ہڑتالوں اور مظاہروں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اور یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ، کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ اس واقعے کے تھوڑے عرصے بعد مولانا شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی میں 30 جون 1974 کو احمد ہوں اور لاہوری گروہ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی کہ " یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ تعالٰی کے آخری نبی اور رسول ھے، لہذا اس باطل عقیدے کی

بناء پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جاۓ ۔" قومی اسمبلی میں اس وقت مولا نا عبد المصطفی اظہری پروفیسر غفور احمد مولا نا مفتی محمود ، مولا تا عبدالحق اور دیگر علماء سمیت نوابزادہ نصر اللہ خان بھی موجود تھے ۔ فوری طور پر اجلاس ہوا ، مرزائی ، لاہوری گروپ کے نمائندوں کو ان کی خواہش کے مطابق اپنی صفائی کا مکمل موقع بھی دیا گیا، اور دو ماہ اس پر بحث ہوتی رہی پوری قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک کمیٹی کی شکل دے دی گئی تھی۔ اور کئی کئی گھنٹے کیمرے کے سامنے بیانات و دلائل و جرح کا سلسلہ جاری رہتا تھا ،اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار فریقین کے مؤقف کو سن کر ایک دوسرے تک بیان پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ آخر کار قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم عبدالحفیظ پیرزادہ وزیر قانون کے ذریعے پیش کی گئی۔7 ستمبر  1974 کو 4 بجے قومی اسمبلی کا فیصلہ کن اجلاس ہوا ، اور 4 بجکر 35 منٹ پر قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اس تحریک میں سب مکا تب فکر کے علمائے گرام شامل تھے، علما کے علاوہ دیگر بہت سے سیاست دانوں نے بھی اس میں حصہ لیا ،سواۓ چند ایک رکن قومی اسمبلی کے اکثر ارکان نے اس قرار داد کی حمایت میں دستخط کردیے۔ بہت سے سیاست دان اس تحریک سے قبل اس مسئلے کی سنگینی سے ناواقف تھے، لیکن جب
انہیں کیمرے کے سامنے مرزائی اور قادیانی نمائندوں ( مرزا ناصر وغیرہ) کے قول واقرار سے اصلی صورت حال کا علم ہوا، تو وہ بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے سلسلے میں سنجیدہ ہو گئے، بالآخر ۔ مرزا ناصر سے ایک سوال ہوا کہ اگر کبھی دنیا میں کہیں تم لوگوں کی حکومت قائم ہو جاۓ تو تم ( مرزائی/ قادیانی ) غیر مرزائی کلمہ گو مسلمانوں کو وہاں کس درجے میں رکھو گے؟ تو اس نے جواب دیا کہ ہم انہیں اقلیت سمجھیں گے ، یوں اس کے کلیہ کے مطابق قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔

اس قانون کے پاس ہوتے ہی قادیانیوں نے عدالتی سہارا لینے کیلئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس قانونی ترمیم کو چیلنج بھی کیا، مسلمانوں کی طرف سے ڈاکٹر سید ریاض احسن گیلانی اور قادیانیوں کی طرف سے فخر الدین جی ابراہیم نے اس کیس کی پیروی کی لیکن مرزا غلام احمد کی  تصانیف میں لکھی ہوئی اسلام مخالف باتیں دلائل قاطعہ ثابت ہوئیں ، اور قادیانی اعلی عدالتوں میں بھی خود کو مسلمان ثابت نہ کر سکے۔ اب پاکستان کے مسلمان ہر سال غیر سرکاری طور پر17 ستمبر کو یوم فتح ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں۔ 


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

پیر، 5 ستمبر، 2022

شہد شفا ہی شفا


شہد 🍯کو سینکڑوں سالوں سے دنیا کے مختلف حصوں میں بطور دوا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو بہترین غذا بھی سمجھا جاتا ہے۔ شہد کو ایک صحت مند ناشتہ تصور کیا جاتا ہے، جب کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے صحت میں بہتری آتی ہے۔

شہد کو اس کی طبی خصوصیات کی بنیاد پر سپر فوڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے میٹھے ذائقے کی وجہ سے اسے تمام عمر کے افراد پسند کرتے ہیں۔ یہ گاڑھا سیال نہ صرف ذائقہ دار ہوتا ہے بلکہ اس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے۔

شہد کے ایک چمچ یا اکیس گرام میں چونسٹھ کیلوریز موجود ہوتی ہیں، اس کے علاوہ شہد پائے جانے والے غذائی اجزاء میں کیلشیم، میگنیز، میگنیشیم، نیاسین، فاسفورس، پینٹو تھینک ایسڈ، ریبوفلاوین، زنک، اور پوٹاشیم شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہد بہت سے مفید امائینو ایسڈز اور انزائمز حاصل کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔



شہد کے فوائدِ 


اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ

اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل

کولیسٹرول لیول میں بہتری

شفاف جِلد

ٹرائی گلیسرائڈز میں کمی

سر کی خشکی کا خاتمہ

زخم بھرنے میں مددگار

کھانسی کا مؤثر علاج

یادداشت میں بہتری

وزن میں کمی

معدے کے لیے مفید

شہد کے فوائد

شہد کو اگر روازنہ استعمال کیا جائے تو مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ

شہد میں بہت سے کیمیکلز پائے جاتے ہیں جو اینٹی آکسیڈنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کی کچھ اقسام میں سبزیوں اور پھلوں جتنے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جسم کو فری ریڈیکلز کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان سے بچاتے ہیں۔

فری ریڈیکلز کی وجہ سے بڑھاپے کی آثار جلدی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس کے علاوہ دائمی بیماریوں جیسا کہ کینسر اور دل کے مسائل کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ طبی تحقیقات کے مطابق شہد میں پولی فینول نامی سوزش کو کم کرنے والا جز پایا جاتا ہے جو آکسی ڈیٹو دباؤ کو کم کرتا ہے۔


شہد کے استعمال سے سانس کی نالی، ہاضمے کے نظام، دل کی صحت، اور اعصابی نظام میں بھی بہتری آتی ہے۔


اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل

طبی تحقیقات کے مطابق شہد کے غذائی اجزاء میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں، جب کہ شہد کی مختلف اقسام میں اینٹی بیکٹیریل اور فنگل خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔

کولیسٹرول لیول میں بہتری

نقصان دہ کولیسٹرول یا ہائی ڈینسٹی لپو پروٹین کی وجہ سے دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے، اس کے علاوہ اس کی وجہ سے خون کی شریانوں میں فیٹ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے فالج اور دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

شہد کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے نقصان دہ کولیسٹرول میں کمی آتی ہے اور فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔


شفاف جِلد

شہد چوں کہ ایک زبردست اینٹی آکسیڈنٹ ہے اس لیے اس کو ہر روز استعمال کرنے سے جسم سے زیادہ تر زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں، جب کہ اس کی جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے جِلد شفاف ہوتی ہے اور اس کی صحت میں بھی بہتری آتی ہے۔

ٹرائی گلیسرائڈز میں کمی

ہائی بلڈ ٹرائی گلیسرائڈ کی وجہ سے بھی دل کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، جب کہ اس کی وجہ سے انسولین کی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ذیابیطس ٹائپ ٹو لاحق ہو سکتی ہے۔


طبی تحقیقات کے مطابق شہد کے استعمال سے ٹرائی گلیسرائڈ کی سطح میں کمی آتی ہے اور چینی کے مقابلے میں اس کا استعمال محفوظ اور فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔


سر کی خشکی کا خاتمہ

شہد کو بالوں پر استعمال کرنے سے سر کی خشکی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس کو سر پر باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے سر کی جِلد نم رہتی ہے جس کی وجہ سے خشکی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔


سر کی خشکی سے نجات حاصل کرنے کے لیے دو چمچ شہد اور چار چمچ نیم گرم پانی کو مکس کے کریں اور اس کی مدد سے کچھ منٹوں تک انگلیوں کی مدد سے مالش کریں، مالش کرنے کے بعد سر کو آدھے گھنٹے بعد کسی اچھے شیمپو سے دھو لیں، سر کی خشکی سے چھٹکارا پانے کے لیے یہ ایک نہایت آزمودہ نسخہ ہے۔


زخم بھرنے میں مددگار

شہد کو زخموں کے علاج کے لیے سینکڑوں سالوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہد کے استعمال سے زخم تیزی کے ساتھ مندمل ہونا شروع ہو جاتے ہیں کیوں کہ یہ اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہد ذیابیطس کی وجہ سے لاحق ہونے والے پاؤں کے السر کے علاج کے لیے بھی مفید ہے۔


طبی ماہرین کے مطابق شہد کے استعمال سے جِلد کے مختلف مسائل جیسا کہ چنبل جیسی علامات میں بھی کمی آ سکتی ہے، اس کے علاوہ شہد زخموں کے اردگرد ٹشوز کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔


کھانسی کا مؤثر علاج

شہد کو کھانسی کا مؤثر علاج سمجھا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے سانس کی نالی کی صحت میں بہتری آتی ہے اور کھانسی کی علامات بھی کم ہوتی ہیں۔ طبی تحقیقات کے مطابق کھانسی کے علاج کے لیے شہد دواؤں کی نسبت زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد کو بچوں کی کھانسی ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔


یادداشت میں بہتری

کچھ طبی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہد میں شدید ذہنی تناؤ سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اس کے استعمال سے جسم میں ایسا دفاعی نظام بحال ہوتا ہے جس کی وجہ سے یادداشت میں بہتری آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہد میں پایا جانے والا کیلشیم دماغ میں آسانی کے ساتھ جذب ہو جاتا ہے، جو بالآخر دماغی افعال کی کارکردگی میں بہتری لاتا ہے۔


وزن میں کمی

شہد کو اگر متوازن مقدار میں استعمال کیا جائے تو وزن میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وزن میں کمی لانے کے لیے شہد کو گرم پانی اور لیموں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ خیال رہے کہ شہد کے ایک چمچ میں چونسٹھ کیلوریز پائی جاتی ہیں، اس لیے آپ کو باقی غذا سے کیلوریز کم لینا ہوں گی۔


اس کے علاوہ شہد کے استعمال سے بھوک کم لگتی ہے اور کھانا کم کھانے کی وجہ سے وزن میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔


معدے کے لیے مفید

شہد کو جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے معدے کے لیے بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔ صبح نہار منہ شہد کو استعمال کرنے سے ایسے امراض کی علامات میں کمی آتی ہے جو ہاضمہ کے نظام سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہد کے استعمال سے معدے کے معمولی زخم بھی ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔



شہد کے مزید فوائد کے متعلق معلومات کسی ماہرِ غذائیت سے حاصل کی جا سکتی ہیں، کسی بھی ماہرِ غذائیت کے ساتھ آسانی سے رابطہ کرنے کے لیے آپ ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں، کیوں کہ ہیلتھ وائر نے رابطوں کو بہت آسان بنا دیا ہے۔



اتوار، 4 ستمبر، 2022

آج کی شخصیت: ڈاکٹر بخت زمان یوسفزئی

 تحریر و تحقیق: عامر شہزاد 

دلکش شخصیت، اعلی صلاحتیوں کا پیکر، اور شعبہ صحافت کا ایک جگمگاتا مایہ ناز ستارہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر بخت زمان یوسفزئی 

مشہور و معروف براڈ کاسٹر ، خوش آواز گلوکار، قابل ادا کار، مکالمہ نگار۔ اور پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ کے اولین پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر بخت زمان یوسفزئی پاکستان کے خوبصورت علاقے تربیلا میں عبدالقادر کے ہاں پیدا ہوئے۔خداداد صلاحیتوں کی بناء پر بچپن سے ہی ان میں ایک عظیم شخصیت کے آثار نمایاں تھے اس ذہین اور ہونہار طالبعلم نے میٹرک اور انٹر کے امتحانات امتیازی نمبروں کے ساتھ جبکہ گریجویشن پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ سے گولڈ میڈل کے اعزاز کے کیا۔۔بعد ازاں اپنے تعلیمی شوق کی تسکین کے لیئے انٹر نیشنل ریلیشنز میں بھی ماسٹرز کیا۔۔ان دنوں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہےجبکہ کیمپس ریڈیو کے انچارج کے فرائض بھی سر انجام دے رہیں ہے۔۔۔آپ پشاور یونیورسٹی کے سینٹ ممبر اور پیوٹا کے پہلے منتخب میڈیا سیکرٹری رہ چکے ہیں۔۔۔۔شعبہ صحافت کے پہلے ایم فل ہولڈر کے ساتھ ساتھ کچھ ہی عرصہ قبل اپنے فیلڈ میں درجہ کمال کو پہنچتے ہوئے پی ایچ ڈی کا اعزاز حاصل کر لیا۔ان کے ایم فل مقالے کا عنوان تھا ''غیر قانونی ریڈیو سٹیشنز کا کردار'' اور ان کے پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان تھا '' کمیونٹی ریڈیو سٹیشن ''جس کا انھوں نےاپریل 2022 میں کامیابی سے دفاع کیا۔۔۔۔معتبر ترین اسلامیہ کالج پشاور یونیورسٹی میں سات سال تک 2000سے 2007 تک صحافت کا مضمون پڑھاتے رہے ہیں ۔۔۔عرصہ 20 سال سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہے جبکہ ساتھ میں پی ٹی وی کے ساتھ بطور نیوز کاسٹر اور سکرپٹ رائٹر جڑے ہوئے ہیں ۔جب کہ ایف ایم ریڈیو سے ڈرامہ کرنے والوں کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔پی ٹی وی ہوم اور نیشنل پر پشتو خبریں جبکہ نیشنل سرکٹ سے رات 9 بجے کا خبر نامہ بھی پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے۔پی ٹی وی سے ہی کرنٹ افئیر کا پروگرام ' پارلیمانی نوٹ بک '' بطور سکرپٹ رائٹر اور اینکر پرسن کرتے رہے ہیں ۔اے وی ٹی اور پی ٹی وی کے لیئے متعدد ڈاکومینٹریز تیار کیں۔مختلف این جی اوز کے ساتھ کام کیا اور فورمز اور سیمینارز میں شرکت کی۔اخبارات کی دنیا سے بھی وابستہ رہے مختلف اخبارات میں بطور سب ایڈیٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے کام کیا2009 سے 2011 تک تقریبا 100 ڈرامے پروڈیوس کئے ۔۔ہمہ جہت شخصیت بخت زمان یوسفزئی نے کئی تنظیموں کے ساتھ بطور تحقیق کار، رپورٹ رائٹر، کوآرڈینیٹر؟، میڈیا سیکرٹری اور ریسورس پرسن کے کام کیا۔۔حمید نظامی ایوارڈ کا بڑا صحافتی اور ادبی اعزاز بھی حاصل کیا۔۔جہاں تک بات بیرونی دنیا کی ہے تو وائس آف جر منی سے وابستہ رہے اور جاپان کے ٹی وی کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ بین الاقوامی اخبارات میں بھی کالم لکھتے ہیں ۔۔جبکہ اسی سلسلے میں کئی ممالک امریکہ، فرانس، بیلجیئم،ہالینڈ اور متحدہ عرب امارات کےلئے عازم سفر بھی ہو چکے ہیں ۔۔اس با صلاحیت تحقیق کار نے پاکستان سپر لیگ میں کے پی کے کی اپنی ٹیم پشاور زلمی کے لیئے گانا تیار کر کے پھر خود ہی اس پر گلوکاری کے سر اور رنگ بکھیر دیئے۔۔۔۔



تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇


https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

خطبہ حج 2023

شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے، ایسی ہر چیز جس سے اتحاد ٹوٹے دور رہنے کا حکم ہے: خطبہ حج میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن مح...