جمعیت علمائے اسلام کے درویش صفت اور سادگی کی پیکر رہنماء اور وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان مولانا مفتی عبد الشکور شہید ایک نظریاتی ' فکری اور مستقل مزاج سیاسی ورکر تھے زمانہ طالبعلمی سے جے یو آئی کے ذیلی طلباء ونگ جے ٹی آئی کے متحرک کارکن تھے- فکر دیوبند اور مسلک دیوبند کے سچے پیروکار تھے، 2018 کے الیکشن میں جے یو آئی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے تھے اور گذشتہ سال عدم اعتماد کے نتیجے میں بننے والے پی ڈی ایم حکومت کے وفاقی وزیر مذہبی امور کا قلمدان سنبھال کر وفاقی کابینہ کا رکن بن گئے تھے۔
گذشتہ رات مفتی عبد الشکور کی ٹریفک حادثے میں وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئ پوری قوم نے اس المناک حادثے پر گہرے رنج والم کا اظہار کر دیا، لیکن دوسرے طرف کل سے سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ مفتی صاحب کی اچانک موت پر خوش ہو رہے ہیں۔ زندگی میں پہلی بار کسی کی موت پر تعزیت کی بجائے خرافات اور گالیاں دیکھ رہا ہوں۔ کیا ہم نے یہ وقت بھی دیکھنا تھا ؟ نفرتوں کے یہ بیج آخر کس مقصد کے حصول کے لئے بوئے گئے ہیں ؟ کچھ انسانیت کا ہی خیال رکھ لینا چاہئیے۔
یاد رکھیں کہ مردوں کو برا بھلا کہنا نہ صرف غیر انسانی غیر اخلاقی عمل ھے بلکہ مسلمانوں کو اس مکروہ عمل سے سختی سے منع کیا گیا ھے۔
ارشاد باری تعالی ہے :
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ {البقرة:134}
" یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ، ان کی کمائی ان کے لئے ہے اور تمہاری کمائی تمہارے لئے اور ان کے اعمال کے بارے میں تم سے باز پرس نہ ہوگی " ۔
ارشاد نبوی ہے :
"لا تسبو الاموات فانھم قد افضوا الی ما قدموا "
مردوں کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ جو کچھ اچھے برے اعمال وہ آگے بھیجے اس تک پہنچ گئے "
{ صحیح بخاری :1393 ، الجنائز – سنن النسائی :1936 ، الجنائز – مسند احمد6/180، بروایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا }
بلکہ ہمیں حکم یہ ہے کہ مردوں کے عیبوں کو ظاہر کرنے سے بچیں اور ان کی خوبیوں کو واضح کریں "
ارشاد نبوی ہے :
" اذکروا محاسن موتاکم وکفوا عن ساوئھم "
" اپنے مردوں کی خوبیوں کا ذکر کرو اور ان کے عیوب کو نہ چھیڑو "
{ سنن ابو داود :4900، الادب – سنن الترمذی :1019، الجنائز – مستدرک الحاکم :1/358 ، بروایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما }





