ہفتہ، 30 جولائی، 2022

شان سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

 شان سیدنا عمر فاروق

تحریر ؛ قاری زاھد حسین زاھد


یکم محرم سے نئے ہجری سال کا آغاز ہوتا ھے۔ نئے اسلامی سال کا آغاز ایک طرف تو ہمیں حضرات صحابہ کرام کی بے سروسامانی کی حالت میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اور مدینہ میں مقیم انصار کی بے مثال بھائی چارے ، ہمدردی ، اور اخوت کی یاد دلاتی ہے، دوسری جانب نبیوں کی اوصاف والے غیر نبی یعنی خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا حضرت عمر ابن خطاب کے یوم شہادت کا یاد بھی دلاتا ہے، حضرت عمر فاروق کے یوم شہادت پر یکم محرم کو صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے حسب معمول عام تعطیل کا اعلان خوش آئندہ اور وفاقی حکومت اور دوسرے صوبائی حکومتوں کے لئے قابل تقلید عمل ہے، ویسے تو تمام صحابہ کرام آسمان کے چمکتے  دھمکتے ستاروں کی مانند ہے (اصحابی کالنجوم۔  حدیث ) اور کیوں نہ ہونگے کہ اللہ تعالی نے خود صحابہ کرام کا انتخاب کر کے پورے امت محمدیہ ﷺ کے لئے معیارحق بنا دیا ہے ۔ تفسیر معارف القرآن میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ تمام صحابہ کرام کا ادب واحترام انکی تعظیم اور مدح وثنا ہے مسلمان پر واجب ہے، تمام صحابہ کرام میں سے با الاتفاق یار غار خلیفہ اول سید نا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رتبہ بلند وممتاز ہے۔ ابوبکر صدیق کے بعد خلیفہ ثانی ، خسر پیغمبر حق وصداقت کا علمبردار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ و مقام ہے، خلیفہ ثانی کی فضیلت کے لئے یہی ایک ہی حدیث کافی ہے کہ سرور دو جہان حضوراکرمﷺ نے ارشادفرمایا کہ : میرے بعد اگر نبی ہوتا تو عمر ہوتا، ایک اور مقام پر آپﷺ نے فرمایا کہ میرے دو وزیر آسمانوں میں ہیں اور دو زمین پر ہیں ، جبرائیل میکائیل میرے آسمانوں کے وزیر جبکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میرے زمین کے وزیر ہیں، ایک اور  موقع پر ارشادفرمایا کہ قیامت کے دن ہم ایسے اٹھینگے کے میرے دائیں جانب سے ابوبکر اٹھے گا ، اور میرے بائے جانب سے حضرت عمر اٹھے گا۔ ایک اور مقام پر ارشادفرمایا کہ عمر جس راستے سے گزرتا ہے شیطان وہی راستہ بدلتا ہے۔

آپ مراد نبی ہے، آپ کو حضور پاک ﷺ نے اللہ تعالی سے مانگا، حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے ایک رات اللہ تعالی سے دعا مانگی، کہ یا اللہ عمر ابن خطاب یا عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو قوت عطاء فرماۓ ، چنانچہ آپ کے حق میں یہ دعا قبول ہوئی ، اور آپ کو اللہ تعالی نے ایمانی دولت سے سرفراز فرمایا۔

شجاعت اور بہادری کا یہ عالم تھا کہ تمام غزوات میں بہادری کے جوہر دیکھائے ، کسی ایک غزوہ میں پیچھے نہ رہے، سب مسلمانوں نے خفیہ ہجرت کی ، جبکہ آپ نے جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو تلوار گلے میں لٹکا دی ، کمان کند ھے پر جبکہ تیر ہاتھ میں لئے اور خانہ کعبہ کے پاس جا کر بیت اللہ شریف کا طواف کیا، مقام ابرھیم پرنفل پڑھے، اور مشرکین کے ہجوم کے پاس جاکر فرمانے لگے ، تمہارے چہرے بدشکل ہو جاۓ، تم میں سے جو یہ چاہتا ھے کہاس کی ماں اس پر روئے، جو یہ چاہتا ھے کہ اس کی اولاد یتیم ھوجائے، تو وہ اس وادی کے پر لے کنارے پر آ جاۓ ، اور پھر وہاں سے ہجرت کے لئے روانہ ہوۓ ، حضور پاک ﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ دنیا سے پردہ فرمائے ، تو تلوار ہاتھ میں آٹھائی اور باہر نکل کر اعلان کیا کہ اگر کسی نے کہا کہ آپ ﷺ انتقال کر گئے ، تو میں اسکا سر قلم کر دونگا۔ ایک مرتبہ ایک منافق بظاہر مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان ایک تنازعہ آیا، دونوں آقائے دو جہان کے دربار میں گئے، تو آپﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کیا، منافق نے حضرت عمر فاروق کے پاس جانے کا اصرار کیا، جب دونوں حضرت عمر فاروق کے پاس حاضر ہوۓ تو دلائل سننے کے بعد یہودی نے کہا کہ آپﷺ نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا تھا، لیکن اسکو اعتراض تھا، کہ حضرت عمر کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے چلتے ہیں، آپ نے کہا کہ ٹھہرو میں گھر سے ہو کر واپس آتا ہوں ، گھر سے تلوار لا کر منافق کا سرقلم کر کے فرمایا کہ جس کو حضوراکرمﷺ کا فیصلہ قبول نہ ہوتو اس
اس کے حق میں میرا یہی فیصلہ ہے۔

حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ علم کے دس حصوں میں سے ایک حصہ ساری امت کو دیا گیا ،اور باقی نو حصے حضرت عمر فاروق کو دئے گئے ۔ قرآن کریم سے موافقت کا یہ کہ عالم تھا کہ قرآن کریم میں تقریبا ستائیس بار آپ کے رائے کے عین مطابق آیتیں نازل ہوئی ، جس میں عورتوں کے پردے کا حکم نازل ہونا ، مقام ابراہیم میں نماز پڑھنے کا حکم، منافقین کے نماز جنازہ نہ پڑھانے ، اور ان کے لئے استغفار نہ مانگنے وغیرہ کے احکامات شامل ہیں۔ زهد و قناعت ، عاجزی و انکساری ، اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے، ہمیشہ سوکھی روٹی تناول فرماتے تھے، خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ ایک بار سورۃ طور کی تلاوت فرما رہے تھے، کہ اس آیت تک پہنچے۔ ان عذاب ربك لواقع تو ایک آہ بھری اور بیس دن تک بیمار رہے، لوگ عیادت کے لئے آتے رہے لیکن کسی کو پتہ نہ چلی کہ کیا بیماری ہے ،اکثر اوقات خود کو مخاطب کر کے خود کو ملامت بھی کرتے تھے، بے شمار کارناموں میں ایک عظیم کارنامہ بغیر ٹیکنالوجی، جہازروں میزائیلوں اور سیٹلائیٹ ۔ سسٹم کے بائیس لاکھ مربع میل پر اسلام کا جھنڈا لہرانا ہے، اور اسلامی حکومت قائم کر کے اسکا انتظام اور انصرام چلانا ہے۔ آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں اتنا بڑا سلطنت کسی حکمران کے پاس نہیں آپ کے دور خلافت میں ایک ہزار چھتیس علاقے فتح ہوۓ ، نوسو جامع مسجد اور چار ہزا چھوٹی مساجد تعمیر کی گئی۔ 

الغرض خلیفہ ثانی امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر فاروق کی پوری زندگی اور انکی طرز حکمرانی ،عدل وانصاف، مساوات، زہد وقناعت
خدمت خلق، خوف خدا، حقوق کی ادائیگی
ہمارے عام عوام اور خصوصا حکمرانوں کے لئے۔
یک بہترین مشعل راہ ہے۔



#زاھدنیوز کو ضرور لائیک اور فالوکیجیے۔👇

https://Facebook.com/Zahidnews

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘

https://twitter.com/ZahidNewss
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

پیر، 18 جولائی، 2022

خلیفہ ثالث سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین

شان سیدنا حضرت عثمانِ ذوالنورین

تحریر ؛ قاری زاھد حسین زاھد

سلام اس کی شہادت پر کہ ہے پیش نظر قرآں

سلام اس خوں پر جس کا امیں ہے مصحف قرآں



ملک بھر کی طرح تحصیل ٹوپی میں بھی خلیفہ ثالث سید نا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی یوم شہادت مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت کے ساتھ منائی گئی ۔مظلوم مدینہ سیدنا حضرت عثمان بن عفان کا تعلق قبیلہ قریش کی مشہور شاخ بنو امیہ سے تھا۔ پیشہ کے لحاظ سے تجارت کیا کرتے تھے۔آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضور اکرمﷺ سے جا کر ملتا ہے۔ آپ کے بہت ساری امتیازی فضائل و مناقب ہے جو کہ آپ کو باقی صحابہ سے ممتاز کرتے ہے۔ سب سے بڑی فضیلت نبی کریم ﷺ کے دہرے داماد کے ہے کہ یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور ۔ حضرت ام کلثوم آپ کی نکاح میں آئی۔اس وجہ سے آپ" ذوالنورین " کا لقب پاۓ ۔حضرت علی فرماتے کہ عرش والے بھی آپ کو ذوالنورین ہی کے نام سے ۔ پکارتے ہیں۔ اور آپﷺ نے فرمایا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتی تو میں انکے انتقال کی صورت میں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان کی زوجیت میں دے دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور پاک ﷺ کو کتنے محبوب تھے۔

دربار رسالت مآب ﷺ سے متعدد بار آپ کو جنتی ہونے کی بشارتیں ملی ۔ امت مسلمہ آپ کو "جامع القرآن" کے لقب سے یادکرتے ہیں۔ جبکہ آپ کا تاریخ ساز کارنامہ مصحف عثمانی کی تدوین و اشاعت ہے۔ دین اسلام کی خاطر دو بار ہجرت کی ایک مرتبہ حبشہ کی طرف جبکہ دوسری بار مدینہ منورہ کو ہجرت کی ہے اور سب سے پہلے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کرنے کی شرف حاصل کی ۔ شرم وحیا کے پیکر جود وسخا اور انفاق فی السبیل اللہ کے خوگر، دوہرے داماد النبی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہہ نے مسلمانوں کے فلاح و بہبود اور اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے اتنا مال و دولت خرچ کیا کہ غنی کا لقب پائے۔

ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی تکلیف تھی۔ کیونکہ شہر کے باہر بیٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا۔ جو کہ ایک لالچی یہودی کی ملکیت میں تھا۔ وہ  مسلمانوں پر مہنگے داموں پانی کو فروخت کرتا تھا۔ آپ نے یہودی کومنہ مانگا قیمت دیکر کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیا۔اور جنت کی بشارت حاصل کی ۔اسی طرح مسجد نبوی کی توسیع کیلئے پلاٹ خرید کر وقف کی ۔اس طرح اسلام لانے کے بعد شہادت تک یہ معمول تھا کہ ہر جمعے کے دن ایک غلام خرید کر آزاد کیا کرتے تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کل دو ہزار چار سو (2400) غلام آزاد کئے ۔اسی طرح غزوہ تبوک کےموقع پر حضور نبی کریم ﷺ کی ترغیب پر 300 اونٹ 🐫  سازوسامان سے لدے ہوۓ پیش کئے ۔اور ساتھ ایک کی ہزار دینار نقد پیش کئے ۔تو آپﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد حضرت عثمان کا کوئی بھی عمل اسے نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ اور دعافرمائی کہ یا اللہ میں عثمان سے راضی ہوں، آپ بھی راضی ہو جا! اسی طرح دور صدیقی میں جب مسلمان سخت قحط میں مبتلا ہو گئے اور اشیائے خورد و نوش کے ذخیرے بھی ختم ہو گئے ، تو شام سے آنے والا کی اپنا ایک ہزار اونٹوں پرمشتمل غلہ سے لدا ہوا قافلہ صدقہ کیا۔ حالانکہ تاجر کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کے لئے راضی تھے۔

آپ کے چند نمایاں کارنامے: حضرت ابوبکر صدیق کی دور خلافت میں شروع ہونے والے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور  44لاکھ مربع میل پر اسلام کا پرچم لہرایا۔ یعنی کابل سے لیکر مراکش تک اسلام پھیلایا۔ جمعہ کے دن اذان اول کا حکم بھی آپ نے صادر فرمائی۔

مؤذنین کے لئے باقاعدہ تنخواہیں مقرر فرمائی۔

سب سے پہلے کہ پولیس اور اسکے عہدے مقرر کئے۔

تمام مسلمانوں کو ایک قرات (لغت قریش پر جمع کیا۔

بیت المال کی تنظیم نو کی۔

حجاز میں شہروں کا جال بچھا دیا،

مدینہ کو سیلاب کی پانی سے بچانے کے لئے ڈیم تعمیر کئے۔ سڑکیں، پل اور کنوئیں بناۓ۔

سرکاری دفاتر اور عمارتیں قائم کئے ۔

جانوروں کے لئے با قاعدہ چراگاہیں قائم کی۔

پرانے مساجد کی توسیع اور تزین و آرائش اور نئے مساجد کی تعمیر آپ خاصا رہی۔


ایک روایت کے مطابق حضور پاک ﷺ نے ایک آپ کو فرمایا کہ اللہ تعالی آپکو خلافت کی قمیص پہنائیں گے۔ جبکہ منافق لوگ آپ سے اتارنے کی کوشش کرینگے، لیکن مت اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آکر ملوں کے (یعنی کہ شہید ہو جاؤ) چنانچہ آخری وقت میں آپ ﷺ کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور ذی القعدہ کے آخری کے عشرے 35 ھ میں ایسے وقت میں جب کہ اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ گئے ہوئے ہیں۔ تھے۔ بلوائیوں، باغیوں اور منافقوں نے یہ موقع غنیمت جان کر آپ کے گھر کا محاصرہ کیا لیکن ان حالت میں بھی آپ نے صبر واستقامت کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان ظالموں نے چالیس دن تک آپ پر پانی اور کھانا بند سے کر دیا تھا۔ اور آپ کے اہل خانہ کو کھانے پینے کی کوئی چیز نہ پہنچنے دی۔اس کے باوجود آپ نے اپنے ساتھیوں اور خدام کو مقابلے سے روکا ۔اور فرمایا کہ میں نبی کی شہر میں خون بہانا نہیں چاہتا۔ چالیس دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کوان بلوائیوں نے گھر میں داخل ہو کر آپ کو بحالت روز ہ ، قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے 82 سال کی عمر میں بڑی بے رمی و بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ رضی اللہ عنہ


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل  لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇


https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS


جمعہ، 8 جولائی، 2022

خطبہ حج 2022

 امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے

آپ کی مصیبت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا ‘ بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو نیک کام میں جلدی کرتے ہیں۔ مسجد نمرہ میں محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کا خطبہ حج


اس سال خطبہ حج دینے والے شیخ محمد بن عبدالکریم کون ہیں؟


شیخ محمد سیاست دان ،مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ، بین الاقوامی اسلامی حلال تنظیم کے صدراورسابق سعودی وزیرانصاف کے عہدے پر بھی رہے ۔

ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم کو متعدد ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے ۔ وہ مذاہب کے مابین روابط اورمکالوں کو پیش کیے جانے ، شدت پسندی اورمختلف مذاہب میں نفرت انگیزی کے خلاف آواز اٹھانے کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں ۔

2020 میں ڈاکٹر شیخ محمد بن عبدالکریم کا نام دنیا کے 500 باثر مسلمانوں میں شامل تھا ۔

ڈاکٹرعیسیٰ نے امریکہ ، یورپ ، افریقہ اور ایشیا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مذہبی وسیاسی شخصیات سے ملاقات کیں۔ مذاہب کے مابین بہتر تعلقات کو فروغ دینے کے لئے بھی انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔

گذشتہ برس سعودی فرمانزوا نے حج 1442 ہجری کا خطبہ دینے کے لئے مسجد الحرام کے خطیب ڈاکٹر بند بلیلہ کومقررکردیاگیا تھا۔
محمد بن عبدالکریم العیسیٰ مسجد نمرہ خطبہ حج دے رہے ھے


محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے آج عرفات کی مسجد نمرہ میں حج 2022 کا خطبہ دیتے ہوئے کہاھے کہ مسلمانوں اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں وہ یکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اللہ نے فرمایا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراوَ اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارو ، اللہ نے اپنے اوپر رحم کو لازم کیا ، اللہ نے انسانوں کو اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے زمین اور آسمان کو 6 دن میں تخلیق کیا ، اللہ نے فرمایا اپنے نفس کا تزکیہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے رسول اللہﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا ، اللہ کی کتاب قرآن مجید دیگر آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اللہ نے قرآن میں فرمایا تم پر حج فرض ہے ، اللہ نے فرمایا اس نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور ان میں سے ہی پیغمبر چنا ، اللہ نے فرمایا متقی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے ، اللہ نے فرمایا میں نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم اللہ کے شکر گزار رہو ، بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو نیک کام میں جلدی کرتے ہیں، اللہ کے ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے ، ورنہ انسان تو سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ لوگوں پر خون و مال اور عزتیں ایک دوسرے پر حرام کر دی گئی ہیں، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر معاملے میں حکمت سے کام لو ، اللہ نے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا ، اسلام بھائی چارے اور اخوت کا درس دیتا ہے ، اللہ کا حکم ہے کہ والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کرو ، بہترین انسان وہ ہے جو خیر کی راہ پر گامزن ہو ، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے ، اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے۔
محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے جو بندہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے تو اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، اللہ کے سوا انسان کی مصیبت کوئی دور نہیں کرسکتا ، قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کسی عربی کو عجمی پراور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں ، قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے ، اللہ کا فرمان ہے جب بھی مجھے پکارو گے تو اپنے قریب ہی پاو گے ، اللہ کا فرمان ہے انسان ہو یا جانور،سب سے رحمت کا معاملہ کریں، اللہ نے فرمایا اپنے رب کی ایسے عبادت کرو جیسے اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ نے فرمایا اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا اس نے انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت میں اللہ کے رحم و فضل کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو گا ، اللہ نے فرمایا مرد اور عورت میں جو بھی بھلائی کا کام کرے اس کو اجر دیا جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دین کامل کر دیا، اللہ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو نیکی کا حکم دو، اچھی تربیت کرو۔
خیال رہے کہ عالمی وباء کورونا وائرس کے بعد پہلی بار 10 لاکھ سے زائد عازمین حج کی سعادت حاصل کررہے ہیں ، پاکستان سے بھی اس سال 85 ہزار کے قریب افراد حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ، مناسکِ حج کی ادائیگی کا سلسلہ 8 ذی الحج سے شروع ہوتا ہے جو 12 ذی الحج تک جاری رہتا ہے، 8 ذی الحج کو عازمین مکہ مکرمہ سے منیٰ کی جانب سفر کرتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں، 9 ذی الحج کو فجر کی نماز کے بعد عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام لازمی ہے اور اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں پر مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں اور رات بھر یہاں قیام لازم ہوتا ہے۔
10 ذی الحج قربانی کا دن ہوتا ہے اور عازمین ایک مرتبہ پھر مزدلفہ سے منیٰ آتے ہیں، جہاں قربانی سے قبل شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں، مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً 9 کلو میٹر ہے اور یہاں پر عازمین مخصوص مناسک کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جا کر ایک طوافِ زیارت کرتے ہیں اور منیٰ واپس آجاتے ہیں، 11 اور 12 ذی الحج کو تمام مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عازمین ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرم میں الوداعی طواف کرتے ہیں۔
حجاج کرم میدان عرفات میں جمع ھے۔


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

خطبہ حج 2023

شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے، ایسی ہر چیز جس سے اتحاد ٹوٹے دور رہنے کا حکم ہے: خطبہ حج میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن مح...