تحریر: قاری زاھدحسین زاھد
6 ستمبر 1965ء کا دن دفاعی لحاظ سے عالمی تاریخ میں کبھی نہ بولنے والا ایک قابلِ فخر دن ہے جس دن کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور بھاری بھر کم دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا۔ مگر اس چھوٹے مگر غیور ملک نے اپنے دشمن کے بزدلانہ حملے کا اس جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے ۔ اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے والا غیور اور چھوٹا ملک پاکستان ہے۔
چھ سمبر کو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ ہوا۔ چھ ستمبر کی طرح سات ستمبر بھی ملک خداد پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین بلکہ عظیم ترین دن ہے، یہ دن صرف پاکستان ہی کے لیے نہیں ، بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اسی دن حضوراکرم ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ ہوا۔ اسی دن آنحضرتﷺ کی عزت و ناموس کا جھنڈا بلند ہوا۔ اسی دن آپ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ذلیل و رسوا ہوۓ ، اسی دن آپﷺ کی تاج ختم نبوت کو چوری کرنے والے ناکام و نامراد ہوۓ ، یہی وہ دن ہے جس دن پاکستانی پارلیمنٹ اور پوری قوم نے مل کر مرزائی اور قادیانیوں کو جسد ملت اسلامیہ سے کاٹ کر علیحدہ ثابت کر دیا ۔ اور انہیں آئینی و قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیدیا گیا ، اس پر صرف پوری پاکستانی قوم نے ہی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ نے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر ادا کیا، کیوں کہ قادیانیت کے تعفن اور نحوست نے پوری امت مسلم کو بے چین اور مضطرب کیا ہوا تھا۔
7 ستمبر 1974ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام ممبران قومی اسمبلی کی اجتماعی جدوجہد سے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا۔ یہ سابقہ وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت کا واقعہ ہے، کہ 22 مئی 1974 ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ چناب نگر کے راستے پشاور کے تفریحی دورے پر جا رہے تھے کہ پنجاب کے شہر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اپنی لٹریچر تقسیم کر نے لگے ، جس پر انہوں نے احتجاج کیا۔ اور لٹریچر لینے سے انکار کیا۔ تفریحی دورے سے واپسی پر 29 مئی- 1974 ء کو انہی طلبہ کی ریل گاڑی خلاف ضابطہ پنجاب کے شہر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر روک کر نہتے طلبہ پر قادیانیوں نے حملہ کر کے بدترین تشدد کیا، انکے ناک، کان اور جسم کے دیگر اعضا بے دردی سے علیحدہ کیے۔ جس سے 30 طلبہ شدید زخمی ہوگئے، تاریخ میں اسے سانحہ ربوہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں پریشانی کی ایک بڑی لہر دوڑ گئی ، دینی و مذہبی و جماعتوں کی اپیل پر پاکستان کے مختلف شہروں میں پرجوش ہڑتالوں اور مظاہروں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اور یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ، کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ اس واقعے کے تھوڑے عرصے بعد مولانا شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی میں 30 جون 1974 کو احمد ہوں اور لاہوری گروہ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی کہ " یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے آخری نبی اور رسول ھے، لہذا اس باطل عقیدے کی
بناء پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جاۓ ۔" قومی اسمبلی میں اس وقت مولا نا عبد المصطفی اظہری پروفیسر غفور احمد مولا نا مفتی محمود ، مولا تا عبدالحق اور دیگر علماء سمیت نوابزادہ نصر اللہ خان بھی موجود تھے ۔ فوری طور پر اجلاس ہوا ، مرزائی ، لاہوری گروپ کے نمائندوں کو ان کی خواہش کے مطابق اپنی صفائی کا مکمل موقع بھی دیا گیا، اور دو ماہ اس پر بحث ہوتی رہی پوری قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک کمیٹی کی شکل دے دی گئی تھی۔ اور کئی کئی گھنٹے کیمرے کے سامنے بیانات و دلائل و جرح کا سلسلہ جاری رہتا تھا ،اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار فریقین کے مؤقف کو سن کر ایک دوسرے تک بیان پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ آخر کار قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم عبدالحفیظ پیرزادہ وزیر قانون کے ذریعے پیش کی گئی۔7 ستمبر 1974 کو 4 بجے قومی اسمبلی کا فیصلہ کن اجلاس ہوا ، اور 4 بجکر 35 منٹ پر قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اس تحریک میں سب مکا تب فکر کے علمائے گرام شامل تھے، علما کے علاوہ دیگر بہت سے سیاست دانوں نے بھی اس میں حصہ لیا ،سواۓ چند ایک رکن قومی اسمبلی کے اکثر ارکان نے اس قرار داد کی حمایت میں دستخط کردیے۔ بہت سے سیاست دان اس تحریک سے قبل اس مسئلے کی سنگینی سے ناواقف تھے، لیکن جب
انہیں کیمرے کے سامنے مرزائی اور قادیانی نمائندوں ( مرزا ناصر وغیرہ) کے قول واقرار سے اصلی صورت حال کا علم ہوا، تو وہ بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے سلسلے میں سنجیدہ ہو گئے، بالآخر ۔ مرزا ناصر سے ایک سوال ہوا کہ اگر کبھی دنیا میں کہیں تم لوگوں کی حکومت قائم ہو جاۓ تو تم ( مرزائی/ قادیانی ) غیر مرزائی کلمہ گو مسلمانوں کو وہاں کس درجے میں رکھو گے؟ تو اس نے جواب دیا کہ ہم انہیں اقلیت سمجھیں گے ، یوں اس کے کلیہ کے مطابق قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔
اس قانون کے پاس ہوتے ہی قادیانیوں نے عدالتی سہارا لینے کیلئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس قانونی ترمیم کو چیلنج بھی کیا، مسلمانوں کی طرف سے ڈاکٹر سید ریاض احسن گیلانی اور قادیانیوں کی طرف سے فخر الدین جی ابراہیم نے اس کیس کی پیروی کی لیکن مرزا غلام احمد کی تصانیف میں لکھی ہوئی اسلام مخالف باتیں دلائل قاطعہ ثابت ہوئیں ، اور قادیانی اعلی عدالتوں میں بھی خود کو مسلمان ثابت نہ کر سکے۔ اب پاکستان کے مسلمان ہر سال غیر سرکاری طور پر17 ستمبر کو یوم فتح ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں۔
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇
https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں