روزے کی تاریخ اور اسکی اقسام
تحریر:
قاری زاہد حسین زاہد ؔ ٹوپی
بارہ اسلامی مہینوں میں سے نویں مہینے کا نام رمضان ہے، رمضان عربی کے لفظ ”رمض“ سے نکلا ہے۔جس کے معنی جلا دینے کے ہیں۔ یعنی گناہوں کو جلا دینے والی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر عاقل بالغ مسلمان پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں۔ روزے کو عربی میں ”صوم“ کہتے ہیں، صوم کے لغوی معنی کسی کام سے رکنے، ترک کرنے اور چپ رہنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں صبح صادق سے لیکرشام تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے رُک جانے کا نام روزہ ہے۔
روزہ ہر دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں مذہبی یا نظریاتی توہماتی نظریات کی بنا پر رکھا جاتارہا ہے۔قدیم جنگلی قبائل میں بھی ایک مخصوص وقت کے لئے کھانے پینے سے اجتناب کی روایت ملتی ہے۔قدیم مذاہب میں عموما روزہ رکھنے کا رواج مذہبی پروہتوں تک محدود ہوتا تھا۔اور اسے دیوتا تک رسائی کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔قدیم یونانی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کھانے پینے کی چیزیں استعمال کرنے سے شیطانی قوتیں جسم میں داخل ہو جاتی ہیں۔ شائد اسی نظریئے نے ان میں کچھ وقت کے لئے کھانے پینے کی چیزوں سے اجتناب کو رواج دیا۔اسلام کے آنے سے پہلے عرب قبائل میں بھی روزہ رکھنے کا رواج موجود تھا۔اور عرب بت پرست کم و بیش اسی نمونے پر روزے رکھتے تھے۔جیسے کہ مسلمان۔ عراقی سابی بھی روزہ رکھتے تھے۔پارسی مذہب غالباً ایسی واحد مذہب ہے، جس میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے، پارسی مذہب کے پیروکاروں کے خیال میں یہ عمل انہیں کمزور کر دیتا ہے۔اور نتیجتاً وہ بُرائی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا حکم نہیں بلکہ زمانہ قدیم سے رائج ہے۔ اور روحانیت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔
مسلمانوں پررمضان کے روزے دو ہجری کو مدینہ منورہ میں فرض ہوئے۔اسی رمضان کے مہینے کی آخری عشرے کی طاق راتوں میں ایک رات ہے۔ جس کی عبادت کا ثواب قرآن کریم کے مطابق ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔اکثر علماء کا خیال ہے کہ یہ ستائیس ویں رات ہے۔
روزے کی فرضیت کے بارے میں فرمانِ خداوندی ہے۔ یَا اَیُّھَاالَذِینَ اٰمَنُو کُتِب َ عَلَیکُم الصِیَام ُ کَمَا کُتِبَ عَلی الذِینَ مِن قَبلِکُم (البقرہ: ۳۸۱) یعنی اے مسلمانوں! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جسطرح تم سے پہلے امتوں پر فرض کئے گئے تھے۔
اس ایت کریمہ سے یہ بھی واضح ہوا کہ کہ روزے صرف اسی امت پر فرض نہیں کئے گئے بلکہ پچھلی امتوں پربھی فرض کئے گئے تھے۔ یعنی جسطرح امت محمدی ﷺ روزے رکھتی ہے اسی طرح پچھلی امتیں بھی رکتی تھیں۔ البتہ روزے کے احکا م، تعداد میں فرق رہا ہے۔ آجکل بھی اکثر مذاہب میں روزہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہے اگرچہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی باتیں ملاکر اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔
روزہ کی چھ قسمیں ہیں۔ فرض، واجب، سنت، مستحب، نفل اور مکروہ
فرض روزے:۔ رمضان المبارک کے مہینے کے روزے فرض ہیں۔ ادا ہو یا قضا۔
واجب روزے:۔ کفارے کے روزے اور منت (نذر) مانے ہوئے روزے واجب ہے۔ کوئی نفلی روزہ جس کو توڑ دیا ہو تو اس کی قضا بھی واجب ہے۔
سنت روزے:۔ محرم الحرام کی دسویں تاریخ (یوم عاشورہ) کا روزہ اور اس کے ساتھ نویں تاریخ کا روزہ رکھنا سنت ہے۔
مستحب روزے:۔ ہر اسلامی مہینے کی تین روزے یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے، اسی طرح پیر اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔کہ ہر پیر اور جمعرات کے دن امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے۔کہ جب میرے اعمال پیش ہو ں تو میں روزہ دار ہوں۔ شوال کے چھ روزے، ان کو مسلسل بھی رکھا جاسکتاہے یا درمیان میں وقفہ کے ساتھ بھی، صوم داؤد ؑ یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ یہ روزہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام روزوں سے افضل اور محبوب ہے۔
نفل روزے:۔ مندرجہ بالاروزوں کے علاوہ تمام روزے جن کا مکروہ ہونا ثابت نہ ہو نفل روزے ہیں۔
مکروہ روزے:۔ مکروہ روزے دو قسم کے ہیں ۱) مکروہ تنزیہی ۲) مکروہ تحریمی
۱) مکروہ تنزیہی: صرف یوم عاشورا (دسویں محرم) کا روزہ رکھنا۔ یعنی نویں یا گیارویں تاریخ کا روزہ ساتھ نہ رکھنا۔
۲) مکروہ تحریمی: عیدین کاروزہ، ایام تشریق کا روزہ(ذی الحجہ کی گیارہ اور بارہ تاریخ)، تنہا جمعہ کاروزہ یا تنہا پیر کے دن کا روزہ، صوم دہر یعنی ہر روز روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
https://www.youtube.com/ZahidNEWS
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منجانب: قاری زاہد حسین زاہد ٹوپی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں