شان سیدنا حضرت عثمانِ ذوالنورین
سلام اس کی شہادت پر کہ ہے پیش نظر قرآں
سلام اس خوں پر جس کا امیں ہے مصحف قرآں
ملک بھر کی طرح تحصیل ٹوپی میں بھی خلیفہ ثالث سید نا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی یوم شہادت مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت کے ساتھ منائی گئی ۔مظلوم مدینہ سیدنا حضرت عثمان بن عفان کا تعلق قبیلہ قریش کی مشہور شاخ بنو امیہ سے تھا۔ پیشہ کے لحاظ سے تجارت کیا کرتے تھے۔آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضور اکرمﷺ سے جا کر ملتا ہے۔ آپ کے بہت ساری امتیازی فضائل و مناقب ہے جو کہ آپ کو باقی صحابہ سے ممتاز کرتے ہے۔ سب سے بڑی فضیلت نبی کریم ﷺ کے دہرے داماد کے ہے کہ یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور ۔ حضرت ام کلثوم آپ کی نکاح میں آئی۔اس وجہ سے آپ" ذوالنورین " کا لقب پاۓ ۔حضرت علی فرماتے کہ عرش والے بھی آپ کو ذوالنورین ہی کے نام سے ۔ پکارتے ہیں۔ اور آپﷺ نے فرمایا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتی تو میں انکے انتقال کی صورت میں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان کی زوجیت میں دے دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور پاک ﷺ کو کتنے محبوب تھے۔
دربار رسالت مآب ﷺ سے متعدد بار آپ کو جنتی ہونے کی بشارتیں ملی ۔ امت مسلمہ آپ کو "جامع القرآن" کے لقب سے یادکرتے ہیں۔ جبکہ آپ کا تاریخ ساز کارنامہ مصحف عثمانی کی تدوین و اشاعت ہے۔ دین اسلام کی خاطر دو بار ہجرت کی ایک مرتبہ حبشہ کی طرف جبکہ دوسری بار مدینہ منورہ کو ہجرت کی ہے اور سب سے پہلے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کرنے کی شرف حاصل کی ۔ شرم وحیا کے پیکر جود وسخا اور انفاق فی السبیل اللہ کے خوگر، دوہرے داماد النبی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہہ نے مسلمانوں کے فلاح و بہبود اور اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے اتنا مال و دولت خرچ کیا کہ غنی کا لقب پائے۔
ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی تکلیف تھی۔ کیونکہ شہر کے باہر بیٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا۔ جو کہ ایک لالچی یہودی کی ملکیت میں تھا۔ وہ مسلمانوں پر مہنگے داموں پانی کو فروخت کرتا تھا۔ آپ نے یہودی کومنہ مانگا قیمت دیکر کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیا۔اور جنت کی بشارت حاصل کی ۔اسی طرح مسجد نبوی کی توسیع کیلئے پلاٹ خرید کر وقف کی ۔اس طرح اسلام لانے کے بعد شہادت تک یہ معمول تھا کہ ہر جمعے کے دن ایک غلام خرید کر آزاد کیا کرتے تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کل دو ہزار چار سو (2400) غلام آزاد کئے ۔اسی طرح غزوہ تبوک کےموقع پر حضور نبی کریم ﷺ کی ترغیب پر 300 اونٹ 🐫 سازوسامان سے لدے ہوۓ پیش کئے ۔اور ساتھ ایک کی ہزار دینار نقد پیش کئے ۔تو آپﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد حضرت عثمان کا کوئی بھی عمل اسے نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ اور دعافرمائی کہ یا اللہ میں عثمان سے راضی ہوں، آپ بھی راضی ہو جا! اسی طرح دور صدیقی میں جب مسلمان سخت قحط میں مبتلا ہو گئے اور اشیائے خورد و نوش کے ذخیرے بھی ختم ہو گئے ، تو شام سے آنے والا کی اپنا ایک ہزار اونٹوں پرمشتمل غلہ سے لدا ہوا قافلہ صدقہ کیا۔ حالانکہ تاجر کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کے لئے راضی تھے۔
آپ کے چند نمایاں کارنامے: حضرت ابوبکر صدیق کی دور خلافت میں شروع ہونے والے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور 44لاکھ مربع میل پر اسلام کا پرچم لہرایا۔ یعنی کابل سے لیکر مراکش تک اسلام پھیلایا۔ جمعہ کے دن اذان اول کا حکم بھی آپ نے صادر فرمائی۔
مؤذنین کے لئے باقاعدہ تنخواہیں مقرر فرمائی۔
سب سے پہلے کہ پولیس اور اسکے عہدے مقرر کئے۔
تمام مسلمانوں کو ایک قرات (لغت قریش پر جمع کیا۔
بیت المال کی تنظیم نو کی۔
حجاز میں شہروں کا جال بچھا دیا،
مدینہ کو سیلاب کی پانی سے بچانے کے لئے ڈیم تعمیر کئے۔ سڑکیں، پل اور کنوئیں بناۓ۔
سرکاری دفاتر اور عمارتیں قائم کئے ۔
جانوروں کے لئے با قاعدہ چراگاہیں قائم کی۔
پرانے مساجد کی توسیع اور تزین و آرائش اور نئے مساجد کی تعمیر آپ خاصا رہی۔
ایک روایت کے مطابق حضور پاک ﷺ نے ایک آپ کو فرمایا کہ اللہ تعالی آپکو خلافت کی قمیص پہنائیں گے۔ جبکہ منافق لوگ آپ سے اتارنے کی کوشش کرینگے، لیکن مت اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آکر ملوں کے (یعنی کہ شہید ہو جاؤ) چنانچہ آخری وقت میں آپ ﷺ کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور ذی القعدہ کے آخری کے عشرے 35 ھ میں ایسے وقت میں جب کہ اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ گئے ہوئے ہیں۔ تھے۔ بلوائیوں، باغیوں اور منافقوں نے یہ موقع غنیمت جان کر آپ کے گھر کا محاصرہ کیا لیکن ان حالت میں بھی آپ نے صبر واستقامت کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان ظالموں نے چالیس دن تک آپ پر پانی اور کھانا بند سے کر دیا تھا۔ اور آپ کے اہل خانہ کو کھانے پینے کی کوئی چیز نہ پہنچنے دی۔اس کے باوجود آپ نے اپنے ساتھیوں اور خدام کو مقابلے سے روکا ۔اور فرمایا کہ میں نبی کی شہر میں خون بہانا نہیں چاہتا۔ چالیس دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کوان بلوائیوں نے گھر میں داخل ہو کر آپ کو بحالت روز ہ ، قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے 82 سال کی عمر میں بڑی بے رمی و بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ رضی اللہ عنہ
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇
https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں