شان سیدنا عمر فاروق
تحریر ؛ قاری زاھد حسین زاھد
یکم محرم سے نئے ہجری سال کا آغاز ہوتا ھے۔ نئے اسلامی سال کا آغاز ایک طرف تو ہمیں حضرات صحابہ کرام کی بے سروسامانی کی حالت میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اور مدینہ میں مقیم انصار کی بے مثال بھائی چارے ، ہمدردی ، اور اخوت کی یاد دلاتی ہے، دوسری جانب نبیوں کی اوصاف والے غیر نبی یعنی خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا حضرت عمر ابن خطاب کے یوم شہادت کا یاد بھی دلاتا ہے، حضرت عمر فاروق کے یوم شہادت پر یکم محرم کو صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے حسب معمول عام تعطیل کا اعلان خوش آئندہ اور وفاقی حکومت اور دوسرے صوبائی حکومتوں کے لئے قابل تقلید عمل ہے، ویسے تو تمام صحابہ کرام آسمان کے چمکتے دھمکتے ستاروں کی مانند ہے (اصحابی کالنجوم۔ حدیث ) اور کیوں نہ ہونگے کہ اللہ تعالی نے خود صحابہ کرام کا انتخاب کر کے پورے امت محمدیہ ﷺ کے لئے معیارحق بنا دیا ہے ۔ تفسیر معارف القرآن میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ تمام صحابہ کرام کا ادب واحترام انکی تعظیم اور مدح وثنا ہے مسلمان پر واجب ہے، تمام صحابہ کرام میں سے با الاتفاق یار غار خلیفہ اول سید نا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رتبہ بلند وممتاز ہے۔ ابوبکر صدیق کے بعد خلیفہ ثانی ، خسر پیغمبر حق وصداقت کا علمبردار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ و مقام ہے، خلیفہ ثانی کی فضیلت کے لئے یہی ایک ہی حدیث کافی ہے کہ سرور دو جہان حضوراکرمﷺ نے ارشادفرمایا کہ : میرے بعد اگر نبی ہوتا تو عمر ہوتا، ایک اور مقام پر آپﷺ نے فرمایا کہ میرے دو وزیر آسمانوں میں ہیں اور دو زمین پر ہیں ، جبرائیل میکائیل میرے آسمانوں کے وزیر جبکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میرے زمین کے وزیر ہیں، ایک اور موقع پر ارشادفرمایا کہ قیامت کے دن ہم ایسے اٹھینگے کے میرے دائیں جانب سے ابوبکر اٹھے گا ، اور میرے بائے جانب سے حضرت عمر اٹھے گا۔ ایک اور مقام پر ارشادفرمایا کہ عمر جس راستے سے گزرتا ہے شیطان وہی راستہ بدلتا ہے۔
آپ مراد نبی ہے، آپ کو حضور پاک ﷺ نے اللہ تعالی سے مانگا، حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے ایک رات اللہ تعالی سے دعا مانگی، کہ یا اللہ عمر ابن خطاب یا عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو قوت عطاء فرماۓ ، چنانچہ آپ کے حق میں یہ دعا قبول ہوئی ، اور آپ کو اللہ تعالی نے ایمانی دولت سے سرفراز فرمایا۔
شجاعت اور بہادری کا یہ عالم تھا کہ تمام غزوات میں بہادری کے جوہر دیکھائے ، کسی ایک غزوہ میں پیچھے نہ رہے، سب مسلمانوں نے خفیہ ہجرت کی ، جبکہ آپ نے جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو تلوار گلے میں لٹکا دی ، کمان کند ھے پر جبکہ تیر ہاتھ میں لئے اور خانہ کعبہ کے پاس جا کر بیت اللہ شریف کا طواف کیا، مقام ابرھیم پرنفل پڑھے، اور مشرکین کے ہجوم کے پاس جاکر فرمانے لگے ، تمہارے چہرے بدشکل ہو جاۓ، تم میں سے جو یہ چاہتا ھے کہاس کی ماں اس پر روئے، جو یہ چاہتا ھے کہ اس کی اولاد یتیم ھوجائے، تو وہ اس وادی کے پر لے کنارے پر آ جاۓ ، اور پھر وہاں سے ہجرت کے لئے روانہ ہوۓ ، حضور پاک ﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ دنیا سے پردہ فرمائے ، تو تلوار ہاتھ میں آٹھائی اور باہر نکل کر اعلان کیا کہ اگر کسی نے کہا کہ آپ ﷺ انتقال کر گئے ، تو میں اسکا سر قلم کر دونگا۔ ایک مرتبہ ایک منافق بظاہر مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان ایک تنازعہ آیا، دونوں آقائے دو جہان کے دربار میں گئے، تو آپﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کیا، منافق نے حضرت عمر فاروق کے پاس جانے کا اصرار کیا، جب دونوں حضرت عمر فاروق کے پاس حاضر ہوۓ تو دلائل سننے کے بعد یہودی نے کہا کہ آپﷺ نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا تھا، لیکن اسکو اعتراض تھا، کہ حضرت عمر کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے چلتے ہیں، آپ نے کہا کہ ٹھہرو میں گھر سے ہو کر واپس آتا ہوں ، گھر سے تلوار لا کر منافق کا سرقلم کر کے فرمایا کہ جس کو حضوراکرمﷺ کا فیصلہ قبول نہ ہوتو اس
اس کے حق میں میرا یہی فیصلہ ہے۔
حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ علم کے دس حصوں میں سے ایک حصہ ساری امت کو دیا گیا ،اور باقی نو حصے حضرت عمر فاروق کو دئے گئے ۔ قرآن کریم سے موافقت کا یہ کہ عالم تھا کہ قرآن کریم میں تقریبا ستائیس بار آپ کے رائے کے عین مطابق آیتیں نازل ہوئی ، جس میں عورتوں کے پردے کا حکم نازل ہونا ، مقام ابراہیم میں نماز پڑھنے کا حکم، منافقین کے نماز جنازہ نہ پڑھانے ، اور ان کے لئے استغفار نہ مانگنے وغیرہ کے احکامات شامل ہیں۔ زهد و قناعت ، عاجزی و انکساری ، اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے، ہمیشہ سوکھی روٹی تناول فرماتے تھے، خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ ایک بار سورۃ طور کی تلاوت فرما رہے تھے، کہ اس آیت تک پہنچے۔ ان عذاب ربك لواقع تو ایک آہ بھری اور بیس دن تک بیمار رہے، لوگ عیادت کے لئے آتے رہے لیکن کسی کو پتہ نہ چلی کہ کیا بیماری ہے ،اکثر اوقات خود کو مخاطب کر کے خود کو ملامت بھی کرتے تھے، بے شمار کارناموں میں ایک عظیم کارنامہ بغیر ٹیکنالوجی، جہازروں میزائیلوں اور سیٹلائیٹ ۔ سسٹم کے بائیس لاکھ مربع میل پر اسلام کا جھنڈا لہرانا ہے، اور اسلامی حکومت قائم کر کے اسکا انتظام اور انصرام چلانا ہے۔ آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں اتنا بڑا سلطنت کسی حکمران کے پاس نہیں آپ کے دور خلافت میں ایک ہزار چھتیس علاقے فتح ہوۓ ، نوسو جامع مسجد اور چار ہزا چھوٹی مساجد تعمیر کی گئی۔
الغرض خلیفہ ثانی امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر فاروق کی پوری زندگی اور انکی طرز حکمرانی ،عدل وانصاف، مساوات، زہد وقناعت
خدمت خلق، خوف خدا، حقوق کی ادائیگی
ہمارے عام عوام اور خصوصا حکمرانوں کے لئے۔
یک بہترین مشعل راہ ہے۔
#زاھدنیوز کو ضرور لائیک اور فالوکیجیے۔👇
https://Facebook.com/Zahidnews
تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘
https://twitter.com/ZahidNewss
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇
https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS
.jpeg)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں