منگل، 30 اگست، 2022

ماہ صفر اور توہمات

‏‼️ ماہِ صفر سے متعلق بد شگونیوں، بد فالیوں، توہُّمات کے خیالات کی اصلاح کیجیے!

تحریر: قاری زاھدحسین زاھد

دین اسلام ایک صاف ستھرا اور پاکیزہ دین ہے۔ جس میں ہرقسم کی توہمات اور بدشگونی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اسطرح کسی دن یا مہینہ کو منحوس سمجھنے سے روکا گیا ہے ۔لیکن افسوس کہ اس زمانے میں خود کو مسلمان اور شریعت کا پیروکار سمجھنے والے بعض لوگ بے جا نحوست اور بد فالی کا شکار ہوتے ہے۔جس کی ایک زندہ مثال ماہ صفر کو منحوس سمجھنا ہے۔
صفر اسلامی تقویم میں ترتیب کے لحاظ سے دوسرا مہینہ ہے۔ صفر کے ایک معنی خالی کے ہے چونکہ زمانہ جاہلیت لوگ چار مہینوں ( رجب، ذیقد ہ ، ذی الحجہ اور محرم) کی حرمت کا خیال رکھتے تھے۔ اور ان مہینوں میں لڑائی جھگڑے سے دور رہتے ۔ اگر کسی دوقوموں میں لڑائی کے دوران یہی چار مہینوں میں سے کوئی مہینہ شروع ہو جاتا تو لڑائی کو مؤخر کرتے لیکن جب صفر کا مہینہ شروع ہو جا تا تو اہل عرب جنگ و جدال کے لئے گھروں سے نکل جاتے، جس کے نتیجے میں ان کے گھر خالی ہو جاتے۔ اس طرح عربی میں یہ محاورہ ”صفر المکان“ (گھر کا خالی ہونا) مشہور ہو گیا چنانچہ معروف محدث اور تاریخ داں علامہ سخاوی نے اپنی کتاب ”المشہور فی اسماء الایام و الشھور“ میں صفر کے مہینے کی یہی وجہ تسمیہ لکھی ہے،نیز صفر کو صفر اس لئے بھی کہتے ہیں کہ لگاتار حرمت والے مہینے گزرنے کے بعد باشندگان مکہ جب سفر کرتے تھے تو سارامکہ خالی ہوجاتاتھا۔

زمانہ جاہلیت میں لوگ اس مہینے کو منحوس سمجھتے تھے اس میں شادی کی کوئی تقریب نہیں رچاتے ۔ بدقسمتی سے آجکل بھی بعض علاقوں میں بعض ایسے لوگ موجود ہے جو کہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی طرح اس مہینے میں بدفالی ، بے جانحوست ، توہمات،
بدشگونیوں کا شکار ہے۔ کچھ لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ مہینہ بد بخت اور منحوس ہے ۔اور اسی اعتقاد کی بناء پر اس مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کی دوسری تقاریب منانے سے پر ہیز کرتے ہیں۔ 
اس ماہ میں نہ رشتہ تلاش کیاجاتا تھا، نہ شادی بیاہ کی تقریبات منعقد کی جاتی تھی، بلکہ جن کی شادی ہوچکی ہوتی، ابتداء میں ان شوہر اور بیوی کو تیرہ دن تک جدا رکھا جاتا تھا، اس نظریہ سے کہ ان ایام میں ان کا میل جول آپس میں کشیدگی اور نزاع کا باعث ہوگا۔
یہ خیال بالکل بے بنیاد اور بے اصل ہے۔ اور یہ اعتقاد دراصل تو ہم پرستی ہی کا ایک حصہ ہے ۔ جو کہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے اہل عرب میں عام تھی ۔ یہ لوگ بے جانحوست اور تو ہم پرستی کا شکار ہوتے تھے ۔اور طرح طرح کی الٹی سیدھی خیالات بنا کر اس پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔حضور پاک نے نہ صرف توہم پرستی پر مبنی عقائد کی تردید و ممانعت کی ، بلکہ اس کے بارے میں واضح احکامات بھی صادر فرماۓ ۔ آپ نے فرمایا کہ " بد فالی ایک شرک ہے ۔" اسکو تین دفعہ ارشاد فرمایا۔ نیز احادیث میں اس مہینہ کے ساتھ نحوست وابسطہ کرنے کی سختی سے تردید کی گئی ۔اور اس مہینے کو "صفرالمظفر " اور "صفر الخیر" کہا گیا۔ تا کہ کوئی اسکو منحوس یا شر و آفت والا مہینہ نہ کہے۔ بلکہ " کامیابی و کامرانی" و "خیر و برکت" کا مہینہ کہا جاۓ ۔آپ نے فرمایا لا صفر یعنی صفر کچھ چیز نہیں ۔ علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہے ۔ کہ عوام اس مہینہ یعنی صفر کو بلاؤں ،مصیبتوں اور حادثات کے نازل ہو نے کا وقت قرار دیتے ہے ۔ یہ عقیدہ باطل ہے اسکی کوئی حقیقت نہیں ۔ کوئی بھی وقت برکت عظمت اور فضیلت والا تو ہوسکتا ہے جیسے رمضان المبارک ، لیلۃ لقدر، یا جمعہ کا دن وغیرہ لیکن کوئی دن یا وقت منحوس نہیں ہوسکتی ۔ کیونکہ تمام اوقات اللہ تعالی کے بناۓ ہوۓ ہیں ۔ لیکن افسوس کہ دینی تعلیمات سے دوری اور جہالت و کم علمی کی وجہ سے اب بھی بعض جاہل موجود ہیں ، جو کہ نہ صرف اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اس کے بارے میں عجیب و غریب باتیں مشہور کر رکھے ہوۓ ہیں۔ مثلاً : کچھ لوگ ابتدائی 13 دنوں منحوس ۔ سمجھتے ہیں ۔ بعض لوگ اس مہینے میں جنات کو بھگانے ۔ کے لئے الٹے سیدھے کام کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ مروجہ قرآن خوانی کر کے اسکے ذریعے نحوست سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس مہینے کی آخری بدھ کو عید کے طور پر منانے ہیں۔ کئی لوگ اس مہینے میں نقصان کے اندیشے کے باعث کسی کاروبار کا آغاز نہیں کرتے اور بعض لوگ گھر سے باہر سفر پر جانا مناسب نہیں سمجھتے، اس گمان سے کہ آفات نازل ہورہی ہیں، بعض نادانوں کا خیال ہے کہ اس مہینے میں آسمان سے لولے، لنگڑے، اور اندھے جنات بڑی کثرت سے زمین پر اترتے ہیں جو کہ لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ بعض خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے معاملے میں کافی محتاط اور خوف زدہ رہتی ہیں ۔ کہ کہیں جنات نقصان نہ پہنچاۓ ۔ایک مخصوص طبقہ ہر سال 20 صفر کو امام حسین کے چہلم کے طور پر بھی مناتی ہے اور اس دن جلسے جلوس نکال کر کاروبار زندگی مفلوج اور معطل کر دیتی ہے۔ 
حالانکہ دین اسلام کی واضح ، روشن اور دوٹوک تعلیمات کے بعد ایسے تو ہمات کی کوئی حقیقت اور اہمیت باقی نہیں رہتی۔

واللہ اعلم


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

اتوار، 14 اگست، 2022

وطن کی محبت ایمان کی علامت ھے۔

 وطن کی محبت ایمان کی علامت ھے۔


تحریر: قاری زاھد ٹوپی 
آج مدرسہ سیدنا سلمان فارسی بائی پاس روڈ ٹوپی میں 14 اگست یوم آزادی کے مناسبت سے ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مدرسے کے طلباء نے تلاوت قرآن کریم ، حمد و نعت، اردو، انگش، اور عربی میں تقاریر، قومی ترانہ، ملی نغمے پیش کیے۔
اس موقع پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے، مہمان خصوصی شیخ ابنِ شیخ حضرت مولانا عزاز الحق صاحب نے پرچم کشائی کی، اور آزادی، آزاد مملکت ، ملک کی بقاء سالمیت، اپنے ملک و وطن سے محبت اور اسکے اظہار کے حوالے سے تفصیلی خطاب فرمائی، تقریب کے آخر میں مملکت خداد پاکستان کی حفاظت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء کی بلندی درجات اور پاکستان کی حفاظت کے لیے خصوص دعائیں کی گئیں۔
#زاھدنیوز #viralvideo #qarizahid #14agust #azadi #یوم #youtubeshorts #swabi #pakistan #صوابی #topi #izazulhaq 


ہفتہ، 30 جولائی، 2022

شان سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

 شان سیدنا عمر فاروق

تحریر ؛ قاری زاھد حسین زاھد


یکم محرم سے نئے ہجری سال کا آغاز ہوتا ھے۔ نئے اسلامی سال کا آغاز ایک طرف تو ہمیں حضرات صحابہ کرام کی بے سروسامانی کی حالت میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اور مدینہ میں مقیم انصار کی بے مثال بھائی چارے ، ہمدردی ، اور اخوت کی یاد دلاتی ہے، دوسری جانب نبیوں کی اوصاف والے غیر نبی یعنی خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا حضرت عمر ابن خطاب کے یوم شہادت کا یاد بھی دلاتا ہے، حضرت عمر فاروق کے یوم شہادت پر یکم محرم کو صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے حسب معمول عام تعطیل کا اعلان خوش آئندہ اور وفاقی حکومت اور دوسرے صوبائی حکومتوں کے لئے قابل تقلید عمل ہے، ویسے تو تمام صحابہ کرام آسمان کے چمکتے  دھمکتے ستاروں کی مانند ہے (اصحابی کالنجوم۔  حدیث ) اور کیوں نہ ہونگے کہ اللہ تعالی نے خود صحابہ کرام کا انتخاب کر کے پورے امت محمدیہ ﷺ کے لئے معیارحق بنا دیا ہے ۔ تفسیر معارف القرآن میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ تمام صحابہ کرام کا ادب واحترام انکی تعظیم اور مدح وثنا ہے مسلمان پر واجب ہے، تمام صحابہ کرام میں سے با الاتفاق یار غار خلیفہ اول سید نا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رتبہ بلند وممتاز ہے۔ ابوبکر صدیق کے بعد خلیفہ ثانی ، خسر پیغمبر حق وصداقت کا علمبردار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ و مقام ہے، خلیفہ ثانی کی فضیلت کے لئے یہی ایک ہی حدیث کافی ہے کہ سرور دو جہان حضوراکرمﷺ نے ارشادفرمایا کہ : میرے بعد اگر نبی ہوتا تو عمر ہوتا، ایک اور مقام پر آپﷺ نے فرمایا کہ میرے دو وزیر آسمانوں میں ہیں اور دو زمین پر ہیں ، جبرائیل میکائیل میرے آسمانوں کے وزیر جبکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میرے زمین کے وزیر ہیں، ایک اور  موقع پر ارشادفرمایا کہ قیامت کے دن ہم ایسے اٹھینگے کے میرے دائیں جانب سے ابوبکر اٹھے گا ، اور میرے بائے جانب سے حضرت عمر اٹھے گا۔ ایک اور مقام پر ارشادفرمایا کہ عمر جس راستے سے گزرتا ہے شیطان وہی راستہ بدلتا ہے۔

آپ مراد نبی ہے، آپ کو حضور پاک ﷺ نے اللہ تعالی سے مانگا، حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے ایک رات اللہ تعالی سے دعا مانگی، کہ یا اللہ عمر ابن خطاب یا عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو قوت عطاء فرماۓ ، چنانچہ آپ کے حق میں یہ دعا قبول ہوئی ، اور آپ کو اللہ تعالی نے ایمانی دولت سے سرفراز فرمایا۔

شجاعت اور بہادری کا یہ عالم تھا کہ تمام غزوات میں بہادری کے جوہر دیکھائے ، کسی ایک غزوہ میں پیچھے نہ رہے، سب مسلمانوں نے خفیہ ہجرت کی ، جبکہ آپ نے جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو تلوار گلے میں لٹکا دی ، کمان کند ھے پر جبکہ تیر ہاتھ میں لئے اور خانہ کعبہ کے پاس جا کر بیت اللہ شریف کا طواف کیا، مقام ابرھیم پرنفل پڑھے، اور مشرکین کے ہجوم کے پاس جاکر فرمانے لگے ، تمہارے چہرے بدشکل ہو جاۓ، تم میں سے جو یہ چاہتا ھے کہاس کی ماں اس پر روئے، جو یہ چاہتا ھے کہ اس کی اولاد یتیم ھوجائے، تو وہ اس وادی کے پر لے کنارے پر آ جاۓ ، اور پھر وہاں سے ہجرت کے لئے روانہ ہوۓ ، حضور پاک ﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ دنیا سے پردہ فرمائے ، تو تلوار ہاتھ میں آٹھائی اور باہر نکل کر اعلان کیا کہ اگر کسی نے کہا کہ آپ ﷺ انتقال کر گئے ، تو میں اسکا سر قلم کر دونگا۔ ایک مرتبہ ایک منافق بظاہر مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان ایک تنازعہ آیا، دونوں آقائے دو جہان کے دربار میں گئے، تو آپﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کیا، منافق نے حضرت عمر فاروق کے پاس جانے کا اصرار کیا، جب دونوں حضرت عمر فاروق کے پاس حاضر ہوۓ تو دلائل سننے کے بعد یہودی نے کہا کہ آپﷺ نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا تھا، لیکن اسکو اعتراض تھا، کہ حضرت عمر کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے چلتے ہیں، آپ نے کہا کہ ٹھہرو میں گھر سے ہو کر واپس آتا ہوں ، گھر سے تلوار لا کر منافق کا سرقلم کر کے فرمایا کہ جس کو حضوراکرمﷺ کا فیصلہ قبول نہ ہوتو اس
اس کے حق میں میرا یہی فیصلہ ہے۔

حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ علم کے دس حصوں میں سے ایک حصہ ساری امت کو دیا گیا ،اور باقی نو حصے حضرت عمر فاروق کو دئے گئے ۔ قرآن کریم سے موافقت کا یہ کہ عالم تھا کہ قرآن کریم میں تقریبا ستائیس بار آپ کے رائے کے عین مطابق آیتیں نازل ہوئی ، جس میں عورتوں کے پردے کا حکم نازل ہونا ، مقام ابراہیم میں نماز پڑھنے کا حکم، منافقین کے نماز جنازہ نہ پڑھانے ، اور ان کے لئے استغفار نہ مانگنے وغیرہ کے احکامات شامل ہیں۔ زهد و قناعت ، عاجزی و انکساری ، اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے، ہمیشہ سوکھی روٹی تناول فرماتے تھے، خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ ایک بار سورۃ طور کی تلاوت فرما رہے تھے، کہ اس آیت تک پہنچے۔ ان عذاب ربك لواقع تو ایک آہ بھری اور بیس دن تک بیمار رہے، لوگ عیادت کے لئے آتے رہے لیکن کسی کو پتہ نہ چلی کہ کیا بیماری ہے ،اکثر اوقات خود کو مخاطب کر کے خود کو ملامت بھی کرتے تھے، بے شمار کارناموں میں ایک عظیم کارنامہ بغیر ٹیکنالوجی، جہازروں میزائیلوں اور سیٹلائیٹ ۔ سسٹم کے بائیس لاکھ مربع میل پر اسلام کا جھنڈا لہرانا ہے، اور اسلامی حکومت قائم کر کے اسکا انتظام اور انصرام چلانا ہے۔ آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں اتنا بڑا سلطنت کسی حکمران کے پاس نہیں آپ کے دور خلافت میں ایک ہزار چھتیس علاقے فتح ہوۓ ، نوسو جامع مسجد اور چار ہزا چھوٹی مساجد تعمیر کی گئی۔ 

الغرض خلیفہ ثانی امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر فاروق کی پوری زندگی اور انکی طرز حکمرانی ،عدل وانصاف، مساوات، زہد وقناعت
خدمت خلق، خوف خدا، حقوق کی ادائیگی
ہمارے عام عوام اور خصوصا حکمرانوں کے لئے۔
یک بہترین مشعل راہ ہے۔



#زاھدنیوز کو ضرور لائیک اور فالوکیجیے۔👇

https://Facebook.com/Zahidnews

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘

https://twitter.com/ZahidNewss
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

پیر، 18 جولائی، 2022

خلیفہ ثالث سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین

شان سیدنا حضرت عثمانِ ذوالنورین

تحریر ؛ قاری زاھد حسین زاھد

سلام اس کی شہادت پر کہ ہے پیش نظر قرآں

سلام اس خوں پر جس کا امیں ہے مصحف قرآں



ملک بھر کی طرح تحصیل ٹوپی میں بھی خلیفہ ثالث سید نا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی یوم شہادت مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت کے ساتھ منائی گئی ۔مظلوم مدینہ سیدنا حضرت عثمان بن عفان کا تعلق قبیلہ قریش کی مشہور شاخ بنو امیہ سے تھا۔ پیشہ کے لحاظ سے تجارت کیا کرتے تھے۔آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضور اکرمﷺ سے جا کر ملتا ہے۔ آپ کے بہت ساری امتیازی فضائل و مناقب ہے جو کہ آپ کو باقی صحابہ سے ممتاز کرتے ہے۔ سب سے بڑی فضیلت نبی کریم ﷺ کے دہرے داماد کے ہے کہ یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور ۔ حضرت ام کلثوم آپ کی نکاح میں آئی۔اس وجہ سے آپ" ذوالنورین " کا لقب پاۓ ۔حضرت علی فرماتے کہ عرش والے بھی آپ کو ذوالنورین ہی کے نام سے ۔ پکارتے ہیں۔ اور آپﷺ نے فرمایا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتی تو میں انکے انتقال کی صورت میں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان کی زوجیت میں دے دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور پاک ﷺ کو کتنے محبوب تھے۔

دربار رسالت مآب ﷺ سے متعدد بار آپ کو جنتی ہونے کی بشارتیں ملی ۔ امت مسلمہ آپ کو "جامع القرآن" کے لقب سے یادکرتے ہیں۔ جبکہ آپ کا تاریخ ساز کارنامہ مصحف عثمانی کی تدوین و اشاعت ہے۔ دین اسلام کی خاطر دو بار ہجرت کی ایک مرتبہ حبشہ کی طرف جبکہ دوسری بار مدینہ منورہ کو ہجرت کی ہے اور سب سے پہلے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کرنے کی شرف حاصل کی ۔ شرم وحیا کے پیکر جود وسخا اور انفاق فی السبیل اللہ کے خوگر، دوہرے داماد النبی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہہ نے مسلمانوں کے فلاح و بہبود اور اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے اتنا مال و دولت خرچ کیا کہ غنی کا لقب پائے۔

ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی تکلیف تھی۔ کیونکہ شہر کے باہر بیٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا۔ جو کہ ایک لالچی یہودی کی ملکیت میں تھا۔ وہ  مسلمانوں پر مہنگے داموں پانی کو فروخت کرتا تھا۔ آپ نے یہودی کومنہ مانگا قیمت دیکر کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیا۔اور جنت کی بشارت حاصل کی ۔اسی طرح مسجد نبوی کی توسیع کیلئے پلاٹ خرید کر وقف کی ۔اس طرح اسلام لانے کے بعد شہادت تک یہ معمول تھا کہ ہر جمعے کے دن ایک غلام خرید کر آزاد کیا کرتے تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کل دو ہزار چار سو (2400) غلام آزاد کئے ۔اسی طرح غزوہ تبوک کےموقع پر حضور نبی کریم ﷺ کی ترغیب پر 300 اونٹ 🐫  سازوسامان سے لدے ہوۓ پیش کئے ۔اور ساتھ ایک کی ہزار دینار نقد پیش کئے ۔تو آپﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد حضرت عثمان کا کوئی بھی عمل اسے نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ اور دعافرمائی کہ یا اللہ میں عثمان سے راضی ہوں، آپ بھی راضی ہو جا! اسی طرح دور صدیقی میں جب مسلمان سخت قحط میں مبتلا ہو گئے اور اشیائے خورد و نوش کے ذخیرے بھی ختم ہو گئے ، تو شام سے آنے والا کی اپنا ایک ہزار اونٹوں پرمشتمل غلہ سے لدا ہوا قافلہ صدقہ کیا۔ حالانکہ تاجر کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کے لئے راضی تھے۔

آپ کے چند نمایاں کارنامے: حضرت ابوبکر صدیق کی دور خلافت میں شروع ہونے والے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور  44لاکھ مربع میل پر اسلام کا پرچم لہرایا۔ یعنی کابل سے لیکر مراکش تک اسلام پھیلایا۔ جمعہ کے دن اذان اول کا حکم بھی آپ نے صادر فرمائی۔

مؤذنین کے لئے باقاعدہ تنخواہیں مقرر فرمائی۔

سب سے پہلے کہ پولیس اور اسکے عہدے مقرر کئے۔

تمام مسلمانوں کو ایک قرات (لغت قریش پر جمع کیا۔

بیت المال کی تنظیم نو کی۔

حجاز میں شہروں کا جال بچھا دیا،

مدینہ کو سیلاب کی پانی سے بچانے کے لئے ڈیم تعمیر کئے۔ سڑکیں، پل اور کنوئیں بناۓ۔

سرکاری دفاتر اور عمارتیں قائم کئے ۔

جانوروں کے لئے با قاعدہ چراگاہیں قائم کی۔

پرانے مساجد کی توسیع اور تزین و آرائش اور نئے مساجد کی تعمیر آپ خاصا رہی۔


ایک روایت کے مطابق حضور پاک ﷺ نے ایک آپ کو فرمایا کہ اللہ تعالی آپکو خلافت کی قمیص پہنائیں گے۔ جبکہ منافق لوگ آپ سے اتارنے کی کوشش کرینگے، لیکن مت اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آکر ملوں کے (یعنی کہ شہید ہو جاؤ) چنانچہ آخری وقت میں آپ ﷺ کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور ذی القعدہ کے آخری کے عشرے 35 ھ میں ایسے وقت میں جب کہ اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ گئے ہوئے ہیں۔ تھے۔ بلوائیوں، باغیوں اور منافقوں نے یہ موقع غنیمت جان کر آپ کے گھر کا محاصرہ کیا لیکن ان حالت میں بھی آپ نے صبر واستقامت کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان ظالموں نے چالیس دن تک آپ پر پانی اور کھانا بند سے کر دیا تھا۔ اور آپ کے اہل خانہ کو کھانے پینے کی کوئی چیز نہ پہنچنے دی۔اس کے باوجود آپ نے اپنے ساتھیوں اور خدام کو مقابلے سے روکا ۔اور فرمایا کہ میں نبی کی شہر میں خون بہانا نہیں چاہتا۔ چالیس دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کوان بلوائیوں نے گھر میں داخل ہو کر آپ کو بحالت روز ہ ، قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے 82 سال کی عمر میں بڑی بے رمی و بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ رضی اللہ عنہ


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل  لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇


https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS


جمعہ، 8 جولائی، 2022

خطبہ حج 2022

 امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے

آپ کی مصیبت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا ‘ بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو نیک کام میں جلدی کرتے ہیں۔ مسجد نمرہ میں محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کا خطبہ حج


اس سال خطبہ حج دینے والے شیخ محمد بن عبدالکریم کون ہیں؟


شیخ محمد سیاست دان ،مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ، بین الاقوامی اسلامی حلال تنظیم کے صدراورسابق سعودی وزیرانصاف کے عہدے پر بھی رہے ۔

ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم کو متعدد ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے ۔ وہ مذاہب کے مابین روابط اورمکالوں کو پیش کیے جانے ، شدت پسندی اورمختلف مذاہب میں نفرت انگیزی کے خلاف آواز اٹھانے کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں ۔

2020 میں ڈاکٹر شیخ محمد بن عبدالکریم کا نام دنیا کے 500 باثر مسلمانوں میں شامل تھا ۔

ڈاکٹرعیسیٰ نے امریکہ ، یورپ ، افریقہ اور ایشیا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مذہبی وسیاسی شخصیات سے ملاقات کیں۔ مذاہب کے مابین بہتر تعلقات کو فروغ دینے کے لئے بھی انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔

گذشتہ برس سعودی فرمانزوا نے حج 1442 ہجری کا خطبہ دینے کے لئے مسجد الحرام کے خطیب ڈاکٹر بند بلیلہ کومقررکردیاگیا تھا۔
محمد بن عبدالکریم العیسیٰ مسجد نمرہ خطبہ حج دے رہے ھے


محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے آج عرفات کی مسجد نمرہ میں حج 2022 کا خطبہ دیتے ہوئے کہاھے کہ مسلمانوں اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں وہ یکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اللہ نے فرمایا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراوَ اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارو ، اللہ نے اپنے اوپر رحم کو لازم کیا ، اللہ نے انسانوں کو اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے زمین اور آسمان کو 6 دن میں تخلیق کیا ، اللہ نے فرمایا اپنے نفس کا تزکیہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے رسول اللہﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا ، اللہ کی کتاب قرآن مجید دیگر آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اللہ نے قرآن میں فرمایا تم پر حج فرض ہے ، اللہ نے فرمایا اس نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور ان میں سے ہی پیغمبر چنا ، اللہ نے فرمایا متقی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے ، اللہ نے فرمایا میں نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم اللہ کے شکر گزار رہو ، بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو نیک کام میں جلدی کرتے ہیں، اللہ کے ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے ، ورنہ انسان تو سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ لوگوں پر خون و مال اور عزتیں ایک دوسرے پر حرام کر دی گئی ہیں، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر معاملے میں حکمت سے کام لو ، اللہ نے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا ، اسلام بھائی چارے اور اخوت کا درس دیتا ہے ، اللہ کا حکم ہے کہ والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کرو ، بہترین انسان وہ ہے جو خیر کی راہ پر گامزن ہو ، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے ، اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے۔
محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے جو بندہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے تو اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، اللہ کے سوا انسان کی مصیبت کوئی دور نہیں کرسکتا ، قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کسی عربی کو عجمی پراور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں ، قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے ، اللہ کا فرمان ہے جب بھی مجھے پکارو گے تو اپنے قریب ہی پاو گے ، اللہ کا فرمان ہے انسان ہو یا جانور،سب سے رحمت کا معاملہ کریں، اللہ نے فرمایا اپنے رب کی ایسے عبادت کرو جیسے اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ نے فرمایا اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا اس نے انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت میں اللہ کے رحم و فضل کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو گا ، اللہ نے فرمایا مرد اور عورت میں جو بھی بھلائی کا کام کرے اس کو اجر دیا جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دین کامل کر دیا، اللہ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو نیکی کا حکم دو، اچھی تربیت کرو۔
خیال رہے کہ عالمی وباء کورونا وائرس کے بعد پہلی بار 10 لاکھ سے زائد عازمین حج کی سعادت حاصل کررہے ہیں ، پاکستان سے بھی اس سال 85 ہزار کے قریب افراد حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ، مناسکِ حج کی ادائیگی کا سلسلہ 8 ذی الحج سے شروع ہوتا ہے جو 12 ذی الحج تک جاری رہتا ہے، 8 ذی الحج کو عازمین مکہ مکرمہ سے منیٰ کی جانب سفر کرتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں، 9 ذی الحج کو فجر کی نماز کے بعد عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام لازمی ہے اور اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں پر مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں اور رات بھر یہاں قیام لازم ہوتا ہے۔
10 ذی الحج قربانی کا دن ہوتا ہے اور عازمین ایک مرتبہ پھر مزدلفہ سے منیٰ آتے ہیں، جہاں قربانی سے قبل شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں، مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً 9 کلو میٹر ہے اور یہاں پر عازمین مخصوص مناسک کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جا کر ایک طوافِ زیارت کرتے ہیں اور منیٰ واپس آجاتے ہیں، 11 اور 12 ذی الحج کو تمام مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عازمین ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرم میں الوداعی طواف کرتے ہیں۔
حجاج کرم میدان عرفات میں جمع ھے۔


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

جمعہ، 24 جون، 2022

صلح میں خیر ھے۔

 صلح کروانا پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں صلح کروانے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے۔ پارہ26 سورۃ الحجرات کی آیت نمبر9 میں اللہ عزوجل کا فرمان عالیشان ہے:


(ترجمہ ) ’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کرائو‘‘۔
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' کیا میں تمہیں روزے،نمازاور صدقے سے بڑھ کر افضل درجات کے اعمال نہ بتاؤں؟ '' صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ''آپس کے میل جول اور روابط کو بہتر بنانا ۔ (اور اس کے برعکس) آپس کے میل جول اور روابط میں پھوٹ ڈالنا (دین کو) مونڈ دینے والی خصلت ہے ۔ ''


گدون کے علاقہ بادہ تحصیل ٹوپی میں آٹھ سالہ پرانی دشمنی جرگہ مشران کی کوششوں سے دوستی میں بدل گئی اوردونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ راضی نامہ ہوگیا۔

جرگہ مشران مولانا فضل باقی صاحب حاجی غفورخان  جدون 
گل عجب کاکا، ایس ایچ او تھانہ گدون انڈسٹریل اسٹیٹ  شمس القمر صاحب،  اجون خان جدون، محمد رحیم جدون تحصیل میئر ٹوپی، عادل خان تحصیل میئر چھوٹا لاہور سھیل خان ٹوپی،  قاری محمد سلیمان و دیگر جرگہ مشران کی کاوشوں سے بادہ گدون میں 02خاندانوں حاجی نوررحمان جدون گل حمید محلہ عیسی خیل اور نوراز ولد امان خان ہمٹ خیل کے مابین آٹھ سالہ دشمنی ختم ھوکر دونوں خاندان کے درمیان آج باقاعدہ ایک تقریب میں راضی نامہ ہوگیا۔


 جرگہ مشران کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت دونوں فریقین کے مابین صلح ممکن ہوا. 
ذرائع کے مطابق آٹھ سال سے دو خاندانوں گل حمید نوررحمان فضل الرحمان علی رحمان جلالی عیسی خیل اور نوراز ولد امان خان کے درمیان قتل مقاتلے کی دشمنی چلی آرہی تھی۔ دونوں فریقین کا تعلق ایک ہی گاوں سے ہے ۔آج علاقہ مشران و جرگہ مشران کی کوششوں سے دشمنی دوستی میں بدل گئی اور دونوں فریقین شیر و شکر ہوگئے اور مسجد میں جرگہ مشران اور عمائدین علاقہ کی موجودگی میں قران پاک پر حلف اٹھا لیا کہ آیندہ کے لئے بھائیوں جیسے زندگی گزاریں گے. جرگہ کی انتھک کوششوں سے اللہ تعالٰی نے آج صلح کو عملی شکل دی اور آج مسجد صدیق اکبرؓ بادہ گدون برجماعت میں دونوں فریقین ایک دوسرے کیساتھ بغلگیر ہوگئے۔

چائے سے معیشت کو خطرہ! جامعات میں طلبہ کو ستّو اور لسّی پلائیں، ہائیر ایجوکیشن

 احسن اقبال کا معیشت ٹھیک کرنے کے لیے قوم کو چائے کم پینے کا مشورہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے چند دن پہلے معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے قوم کو چائے کم پینے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر انکا ویڈیو کلپ وائرل ھوگیا، اور سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان برپا ہو گیا۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ھے کہ حکومت کا کام پالیسی بنانا مشورے دینا نہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے پاکستانی لوگوں اور پڑوسی ملک سے آنے والے ’حملہ آوروں کی تواضح‘ بھی چائے کی پیالی سے کرنے والی پاکستانی قوم کو احسن اقبال کا چائے کم کرنے کا مشورہ بالکل پسند نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ دن میں چائے کم پینے کا کہنے پر احسن اقبال نے پاکستانی عوام سے تاحیات دشمنی مول لی ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پتھر کھا کر گزارا کر لیں گے مگر چائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا !!

دودھ، پانی، پتی ہے، کوئی اسلحہ تو نہیں۔۔۔۔دو کپ چائے پی لی، اب ایک اور پی لوں کوئی مسئلہ تو نہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان چائے کی درآمد پر خاصی رقم خرچ کرتا ہے اور مگر بقول شاعر:

مانا کہ تم بہت حسین ہو مگر
محبت ہمیں پھر بھی چائے سے ہے۔۔۔

اور ہم تو بس اتنا کہیں گے: احسن اقبال صاحب غریب کو جینے دیں اور چائے پینے دیں!

اس میں شک نہیں کہ پاکستان کا شمار دنیا بھر میں زیادہ چائے پینے والوں میں ہوتا ہے۔
جہاں وقت کی کوئی قید نہیں, اور نہ ہی چائے پینے کی کوئی وجہ
ہمارے ہاں چائے کو بطور "دوا " بھی پیا جاتا ہے
*سر میں درد ہو رہا ہے.......... چاہ پی!!
تھکاوٹ ہو گئی ہے............ چاہ پی!!!
نیند نہیں آ رہی........ چاہ پی!!!!
اور پھر گھر میں مہمان آگے ہیں.... کڑیے چاہ بنا... 
نا!!! چاہ نہ ہوگئی امرت جل ہو گیا...
ویسے ایک بات تو ہے چائے میں.. زندگی میں دھوکے کے بعد چائے وہ چیز ہے جو بندے کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔
وغیرہ وغیرہ


حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان چائے درآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست پر آگیا ھے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان 59 کروڑ ڈالر کی سالانہ چائے درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے جبکہ پاکستان کے مقابلے میں امریکا نے 47 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی چائے درآمد کی حالانکہ امریکا پاکستان سے 100 گنا زیادہ دولت مند امیر ملک ہے اور اس کی آبادی پاکستان سے کافی زیادہ ہے اس طرح برطانیہ 34 کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی چائے امپورٹ کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ چین چائے امپورٹ کرنے والے ملکوں میں چوتھے نمبر پر اور مصر 5 ویں نمبرپر ہے۔ چین کی چائے کی سالانہ امپورٹ 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے اور مصر کی سالانہ امپورٹ 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔ اس طرح وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے جو یہ دانشمندانہ جملہ کہا تھا کہ پاکستان جو کم وبیش 60 کروڑ ڈالر کی چائے سالانہ درآمد کر رہا ہے چونکہ ہم پاکستانی یومیہ کئی کپ چائے پیتے ہیں اگر اس میں سے یومیہ ایک کپ بھی کم کر دیں تو پاکستان کا چائے کی درآمد کا مجموعی بل تیزی سے کم ہوجائے گا۔





آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں خیبرپختونخوا کے علاقے شنکیاری ضلع مانسہرہ میں چائے کے باغات موجود ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے یہاں پر چائے مقامی سطح پر کاشت کی جا رہی ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں بہت کم لوگوں کو اس بات معلومات ہے کہ پاکستان میں چائے کے اتنے خوبصورت باغات موجود ہیں۔  
دنیا میں چائے پیدا کرنے والے ممالک نے جہاں چائے کی کاشت سے زرمبادلہ کمایا وہاں ساتھ ہی ساتھ اس کی ٹورازم کو پرموٹ کر کے بھی بے پناہ پیسہ کمایا۔ 
لیکن ہمارے ہاں نہ تو چائے کی کاشت کو فروغ مل سکا اور نہ ہی اتنے خوبصورت شنکیاری ٹی گارڈن کی ٹورازم کو اجاگر کیا جا سکا۔ 
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں چائے کی کاشت کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات کی ٹورازم کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میں چائے کا قومی دن منانے کے لیے نیشنل ٹی گارڈن فیسٹیولز منانے کا بھی آغاز کیا ھے اس سلسلے میں اے ٹی ڈی سی پی ، این ٹی ایچ ار آئی اور پے اے آر سی کے تعاون سے پاکستان میں چائے کا قومی دن ڈکلیئر کیا گیا ۔ سنڈے 26 جون 2022 کو اسی سلسلے کا تیسرا سالانہ قومی ٹی گارڈن فیسٹیول 2022 کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں مقامی سطح پر خود کی اپنی چائے کی کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات کی سیاحت کو بھی فروغ مل سکے جس سے ہم اپنی چائے کی کاشت کو اپنی ٹورازم کی طاقت بنا کر اس گاؤں میں بے پناہ پیسہ انجیکٹ کر سکتے ہیں ۔ 
21 جون کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی طرف سے پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کو ایک لیٹر کے ذریعے مطلع کیا گیا کی پاکستان میں چائے کی مقامی سطح پر کاشت کو فروغ دیا جائے، اور مقامی کاشت کی گئی چائے کے ساتھ ساتھ مقامی مشروبات جیسے کہ ستو، لسی کو فروغ دیا جائے۔ 

گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے مانسہرہ میں قائم چائے اور دیگر بڑی فصلوں کے قومی تحقیقی ادارے (نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) شنکیاری مانسہرہ کا دورہ کیا۔اس موقع پران کے ہمراہ مرتضیٰ جاوید عباسی (وفاقی وزیر ، پارلیمانی امور )، سردار محمد یوسف، (ایم پی اے صوبائی اسمبلی کے پی کے) اور ڈاکٹر اکمل صدیق (مشیر برائے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق)نیز صوبائی محکمہ جنگلات اور زراعت کے نمائندگان بھی شریک تھے۔چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی اور ڈائریکٹر این ٹی ایچ آر آئی شنکیاری ڈاکٹر عبدالوحید دونوں نے مل کر شرکاءکو ملک کے ممکنہ ترقی پذیر علاقوں میں چائے کے فروغ کے لیے تحقیق اور ترقی کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے حکومت کے طور پر مقامی چائے کی پیداوار کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ حکومت چائے کی درآمد پر بھاری رقم یعنی 0.50 بلین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائے کی کمرشلائزیشن کے لیے تمام ضروری اقدامات پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی یعنی چائے کی پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ تاکہ چائے کی پیداوار کو ایک کامیاب کاروبار بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ چائے کی کمرشلائزیشن پلان میں نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جائے گا اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلات اور زراعت این ٹی ایچ آر آئی کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ساتھ چائے کی کمرشلائزیشن کے منصوبے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
 اس موقع پر احسن اقبال نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ چائے کی کمرشلائزیشن میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی زیر نگرانی چائے کی کمرشلائزیشن موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کو چائے پیدا کرنے والا ملک بنانے کے لیے چائے کی کاشت کے لیے موزوں مٹی اور موسمی حالات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ شرکاءنے NTHRI میں چائے کے باغات اور چائے کے پروسیسنگ پلانٹس (بلیک اینڈ گرین ٹی) کا بھی دورہ کیا اور چائے کی کاشت اور پروسیسنگ میں شامل اقدامات کے بارے میں روشنی ڈالی۔
  چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی نے چائے کی پیداوار اور پروسیسنگ ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے پی اے آرسی کے کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے شرکاءکو بتایا کہ چائے کی کاشت کی ترقی پر کامیاب تحقیقی کام اس ادارہ کے سائنسدانوں نے کیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ چائے کی پیداوار کو بڑے پیمانے پر تجارتی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کے شمالی علاقوں میں 158,000 ایکڑ رقبہ چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWShttps://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘

https://twitter.com/ZahidNewss

پیر، 20 جون، 2022

حکومت نے 2000 روپے دینا شروع کر دیا۔

 بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ھونے والی مستحق خواتین آج سے اپنی 2000 روپے کی رقم نزدیکی ریٹیلر سے انگوٹھے کی تصدیق کے بعد وصول کریں۔ 

دو ہزار رقم پوری نہ ملنے کی صورت میں اپنے تحصیل میں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں شکایت کا اندراج کریں۔
تفصیلات جانیں اس ویڈیو میں



تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مدنظر بینظیر کفالت میں رجسٹرڈ 80 لاکھ خاندانوں کو سستا پیٹرول / سستا ڈیزل سکیم کے تحت 2000 روپےکی ادایئگیوں کا آج سے آغاز کر دیا گیا ہے۔
  بینظیر کفالت کے رجسٹرڈ مستحقین خواتین سے گزارش ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ کی جانب سے رقم وصولی کا پیغام ملنے پر پنجاب سندھ اور بلوچستان کے رہائشی حبیب بنک جبکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے رہائشی بینک الفلاح سے 2000 روپے کی رقم وصول کریں۔ 
  وہ تمام مستحقین جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ نہیں ہیں اور انہوں نے 786 پر ایس ایم ایس کر کے خود کو رجسٹرڈ کرا چکے ہیں ان سے گرازش ہے کہ وہ رقوم کی ادائیگی کےلیے ایس ایم ایس پیغامات کا انتظار کریں۔ اہلیت کا معیار جانچنے کے بعد آپ کو جلد ہی ادائیگی کا پیغام موصول ہو جائے گا۔
مزید جانیں اس ویڈیو میں 
https://youtu.be/x7GwOO3gu2E

#زاھدنیوز کو ضرور لائیک اور فالوکیجیے۔👇

https://Facebook.com/Zahidnews

منگل، 7 جون، 2022

ٹوپی میں کتب میلہ کا انعقاد

 ٹوپی شہر کی تاریخ میں پہلی بار کتب میلہ کا انعقاد

تحریر؛ قاری زاھد ٹوپی
کہتے ہیں کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہےـ کتب بینی انسان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کرتی ہے ـ کتاب دوست لوگ معاشرے میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں جبکہ مطالعہ کے عادی افراد اپنے حلقے میں ہر دل عزیز ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ اپنی ذخیرہ الفاظ اور معلومات کی بنیاد پر دوسروں کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں ـ مطالعہ انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے ـ آج بھی جو لوگ اپنا رشتہ کتابوں کے مطالعے سے جڑے ہوئے ہیں، وہ بالکل ہی الگ شخصیت کے حامل دکھائی دیتے ہیں ـ آج ہم اپنے اطراف ذرا نظر دوڑائیں تو ہم پر منکشف ہوگا کہ معروف و کامیاب شخصیات نے زمانہ طالبِ علمی سے ہی کتاب بینی کی عادت اپنا رکھی تھی ـ اسی وجہ سے انکا ایک الگ نام اور پہچان ھوتا ھےـ

کتابیں روشنی ھے،  کتابیں علم بانٹتی ھے،  شعور بانٹتی ھے، کتاب لکھنے کےلیے مصنف برسوں لگا دیتا ھے، کتابیں رہتی دنیا تک انسانوں کو زندہ رکھتی ھے، کتابیں خریدنا اور پڑھنا  باشعور لوگوں کی پہچان ھے، کتابیں انسان کو سجاتی، سنوارتی، رہنے سہنے کا سلیقہ اور تہذیب سکھاتی ھیں.

ذوق مطالعہ ایک اچھی عادت ھے، کتابوں کی مطالعہ سے آپ کے علم میں اضافہ ھوتا ھے، نئی باتیں سیکھنے کو ملتی ھیں۔ انسان کے خیالات میں وسعت اور گفتگو میں ربط و گہرائی پیدا ھوتی ھے۔

ٹوپی شہر کی تاریخ میں پہلی بار ضلعی انتظامیہ صوابی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن پشاور کی جانب سے 7 اور 8 جون، 2022 کو گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول، ٹوپی (پرانا میلا لار ٹوپی) میں دو روزہ کتب میلہ کا افتتاح کردیا گیا ھے، جس میں مختلف پبلشرز کی نایاب اور معروف کتابیں، جس میں شاعری، افسانے، اسلامی کتب، اردو، انگریزی ادب اور طلباء و طالبات کی نصابی کتب %50 ڈسکاؤنٹ پر دستیاب ہونگی۔ بک فیئر کا باقاعدہ افتتاح آج ڈپٹی کمشنر صوابی جناب کیپٹن (ریٹائرڈ) ثناءاللہ خان صاحب نے فیتہ کاٹ کرکی۔ اس موقع پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی عدنان ممتاز خٹک، پروفیسرز، سکول ٹیچرز، عوامی نمائندے، طلباء، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صوابی نے اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی جناب عدنان ممتاز خٹک صاحب کے کوششوں کو سراہا جس کی بدولت تحصیل ٹوپی میں کتاب میلہ کو ممکن بنایا جاسکا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صوابی نے کہا کہ جو قومیں کتابوں کو اپنی اثاثہ سمجھ کر ان سے مستفید ہوتی ہیں وہ دنیا کے کسی بھی میدان میں ناکام نہیں ہوتیں، موجودہ سوشل میڈیا کے دور میں ہم کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں لیکن کتابوں کے بغیر علمی ترقی کے منازل طے نہیں کی جا سکتیں۔

تقریب کے اختتام پر سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر صوابی کے سامنے اپنے مسائل کے ڈھیر رکھ دئیے جس کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر صوابی نے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کیے۔

تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS




پیر، 6 جون، 2022

ووٹ کے اندراج اور تبدیلی کا طریقہ

ووٹ کی اندراج کا آخری موقع



ووٹس کی درستگی ہماری انتہائی اہم قومی ذمہ داری ہے  آپ سب لوگ جو جو یہ بلاگ پڑھ رہا ہے خود اپنے خاندان اپنے رشتے داروں اور دوست احباب کے لازمی طور پر ووٹس کی تصدیق کروائے اور ان کی درستگی کے بارے میں معلومات ان کو فراہم کرے آسان طریقہ کار 3 اسٹیمپ میں درج ذیل ہے۔

1: سب سے پہلے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8300 پر میسیج کریں جواب آنے کی صورت میں اپنا شماریاتی بلاک کوڈ نوٹ کریں اور اپنے قریبی ڈسپلے سینٹر چیک کرنے کے لیے درجہ ذیل لنکس کھول کر اپنا ضلع تلاش کریں اور PDF فائل کی صورت میں لسٹ ڈاؤنلوڈ کریں پھر اس میں سے اپنا قریبی ڈسپلے سینٹر تلاش کر فوری وہاں پہنچیں۔

اسلام آباد: 
https://drive.google.com/drive/folders/1reEhtreQCVrxKvZZnS_ej7klDMhQNQYn

پنجاب: 
https://drive.google.com/drive/folders/1enpsEgbsRCwP_9d9YcWeCchKftzahN5k

سندھ:
https://drive.google.com/drive/folders/1hy595JQf2DH9Ok7U3I2FJJ3GtR8WAUd0

کے پی کے:

https://drive.google.com/drive/folders/1pl8UjI8ggt40UmC3qsElET9K1LxcDT94

بلوچستان:
https://drive.google.com/drive/folders/13aGUCNaxqgbeGm7eQmcbc-G3sT8ij2Bl

2: اب آپ ڈسپلے سینٹر میں مجاز آفیسر کے سامنے کھڑے ہیں اس کے سامنے اپنا شناختی کارڈ اور نوٹ کیا ہوا شماریاتی بلاک کوڈ رکھیں اس سے کہیں میرا ایڈریس یہ ہے اور میرا ووٹ اس بلاک کوڈ میں ہے جو کہ درست نہیں میں اس کی درستگی چاہتا ہوں وہ آپ کو فارم 15 دے گا فارم پندرہ کی تصویر بھی نیچے موجود ہے اور اگر فارم پندرہ اس کے پاس نہ ہو یا دینے سے انکار کرے تو درج ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ کر کے اسکا پرنٹ نکلوا لیں۔

http://www.ecp.gov.pk/documents/er/Form%2015%20Urdu%2001-02-2022.pdf

3: جس جس ووٹر کی درستگی درکار ہو اسے اپنے ساتھ ڈسپلے سینٹر لائیں اور اسی افسر سے فارم پر کروانے کے بعد سائین انگوٹھے کر کے رسید حاصل کریں یوں آپ کا ووٹ درست ہو جائے گا۔


یاد رہے کہ
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک بھر میں غیرحتمی انتخابی فہرستوں کی اشاعت کے لئے ملک بھر میں ڈسپلے سینٹرقائم کر دیئے ہیں۔ جس میں غیر حتمی انتخابی فہرستیں عوام الناس کے معائنہ کے لئے رکھی گئ ھیں۔ اس دوران ووٹرز اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ناموں کے اندراج اورکوائف کی جانچ پڑتال کرسکتے ہیں ۔ڈسپلے سینٹر 19جون 2022 تک کھلے رہیں گے۔

✓✓اگر کسی 18 سال سے زائد عمر کے فرد کا ووٹ درج نہیں ہے تو وہ شناختی کارڈ کے مستقل یاعارضی پتہ کےمطابق اپنا ووٹ درج کروا سکتا ہے۔

✓✓نیزکسی غیر متعلقہ / فوت شدہ ووٹر کے ووٹ کااخراج اور شناختی کارڈ کے مطابق کوائف کی درستگی بھی کروائی جاسکتی ہے۔

✓✓سرکاری ملازمین او ر ان کے اہل خانہ عارضی پتہ پر اپنے ووٹ کا اندراج و منتقلی کرواسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں ملک بھر میں کل  20159 ڈسپلے سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ جن میں سے
صوبہ پنجاب 12037، 
سندھ 3609 ، 
خیر پختونخوا ہ میں 3040
جبکہ بلوچستان میں 1473 ہیں۔
تمام فارموں) اندراج ، اخراج ودرستگی ( پر کارروائی کے لئے 525 حاکم نظرثانی کی تعیناتی بھی کردی گئی ہے ۔ فارم ڈسپلے سینٹرز کے علاوہ ،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وں ، اسسٹنٹ رجسٹریشن افسران کے دفاتر اور اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ www.ecp.gov.pk پر بھی موجود ہیں ۔ ووٹ کے اندراج کے لئے بھی فارم 15 کوائف کی درستگی کے لئے فارم 17جبکہ ووٹ کے ٹرانسفر کے لئے بھی فارم 15 پُر کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ کوئی بھی ووٹر اپنے انتخابی علاقے کی انتخابی فہرستوں میں موجود کسی بھی غیر متعلقہ ووٹر کےخلاف فارم 16 پُرکرکے اعتراض بھی جمع کرا سکتا ہے ۔ 
تمام ڈسپلے سینٹر ز میں مطلوبہ فارم فراہم کر دیئے گئےہیں تاکہ عوام الناس کو مہیا کئے جائیں ۔
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS


#زاھدنیوز کو ضرور لائیک اور فالوکیجیے۔👇

https://Facebook.com/Zahidnews

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘

https://twitter.com/ZahidNewss

جمعہ، 3 جون، 2022

پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

 پیٹرول 30روپے اور بجلی 8روپے مہنگی؛


وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عوام کوماموں بنا دیا، جذباتی تقاریر کرکے مہنگائی کا ایسا طوفان لے آئے کہ غریب کا ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا۔

سابق حکومت پر تنقید کرنیوالی پی ڈیم ایم کی حکومت سے بھی مہنگائی کا جن قابو میں نہ آسکا۔ عمران خان کی حکومت کیخلاف مہنگائی مارچ کرنیوالے خود مہنگائی کا طوفان لے آئے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محض ایک ہفتے میں 60روپے تک اضافہ کر دیا گیا ھے،

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈبل سنچری کراس کرکے 200 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں دو ہفتوں کے دوران دوسری مرتبہ اضافہ کیے جانے پر جہاں شدید مہنگائی کی نئی لہر کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں ہر عوام کا کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے سزا صرف عام عوام کو نہیں ملنی چاہیے سب کو قربانی دینی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر صارفین پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مقتدر حلقے اصلاحات کے نام پر صرف عوام پر بوجھ نہ ڈالیں۔

خیال رہے کہ آج جمعے کے دن سے پاکستان بھر میں پیٹرول 209 روپے 86 پیسے، ڈیزل 204.15 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل 178 روپے 03 پیسے جب کہ مٹی کا تیل 181.94 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔

حکومت نے ایک ہفتے کے اندر دوسری بار پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت 30 روپے اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل27  مئی 2022 کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔

اور تاریخ میں پہلی بار پیٹرول کی قیمت ڈبل سنچری سے تجاوز کرکے فی لیٹر 209روپےہو گئی۔ پی ٹی آئی حکومت میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا تو یہی ن لیگ اور تمام پی ڈی ایم آسمان سر پر اٹھا لیتی لیکن آج خود پیٹرول مہنگا کرنے کا جواز پیش کر رہی ہے۔ بقول ن لیگی وزیر مصدق ملک کے حکومت کے پاس زہر کھانے کو تو پیسے نہیں لیکن اخبارات اور میڈیا پر اشتہارات کی مد میں کروڑوں اربوں روپے کی نوازشات کی جارہی ہیں۔ اخبار میں کروڑوں روپے کے خالی صفحات پر مبنی اشتہارات چلائے جارہے ہیں اور خوب پیسہ اڑایا جارہا ہے لیکن غریب عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کہتے تھے اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا دوں گا۔ لیکن آفسوس اب تک نہ کپڑے بِکے نہ آٹا سستا ہوا، اور پیٹرول کی قیمتوں کو تو جیسے پر لگ گئے ہوں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے طوفان کی ایسی لہر آئیگی کہ غریب آدمی کیلئے ایک وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوجائیگا۔ اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بھی 8روپے تک اضافہ کر دیا ہے اور عوام کی چیخیں آسمان پر پہنچانے کی تیاریاں مکمل ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ بے تحاشا اضافہ ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔ اشرافیہ کے علاوہ ہر طبقہ خصوصاً مڈل کلاس لوگ جو کہ 90 فیصد سے زائد ھے اس حالیہ مہنگائی سے شدید متاثر ہوگا، فضول خرچیوں میں ضائع ہونے والے پیسوں سے کھربوں بچایا جا سکتا ہیں تو صرف پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کیوں ؟

عوام کا مطالبہ ھے کہ ‏وزیروں، مشیروں، ججوں، جرنیلوں، سرکاری افسروں وغیرہ کو فری پٹرول کی فراہمی بند کی جائے، اضافی مفت سہولتیں ختم کی جائے، امیروں سے ٹیکس لیا جائے، دفتروں میں فالتو بجلی AC کا استعمال کا استعمال روکھا جائے۔

پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عمران  خان نے ’پُرامن احتجاج‘ کی کال دے دی ھے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جنھوں نے ان کی حکومت گرانے کی ’سازش کی‘، ان کے پاس معیشت سنبھالنے کا کوئی منصوبہ نہ تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سابق وزیراعظم کہتے ہیں کہ ’موڈیز نے پاکستانی معیشت کے آؤٹ لُک کو نیچے گراتے ہوئے ’مستحکم‘ سے ’منفی‘ کر دیا ہے۔ جنھوں نے ہماری حکومت گرانے کی سازش کی ان کے پاس معیشت سنبھالنے کا کوئی منصوبہ نہ تھا۔ چئیرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا  ہیں کہ موجودہ حکومت کی بنیادی ترجیحات ہی خود کو این آر او ٹو یعنی بدعنوانی کے مقدمات سے نجات دلوانا، انتخابات کو آلودہ کرنا، اپنےغنڈوں کے ساتھ مل کر اداروں برباد کروانا اور مقدمات میں ریاستی قوت سے مخالفین کو کچلنا تھیں۔’مجرموں کا یہ گروہ ہمارے کسی بھی بیرونی دشمن سے کہیں بڑھ کر پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS







جمعرات، 2 جون، 2022

 مہینے 2000 وصول کرنے کا طریقہ


حکومت پاکستان نے پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد مستحق افراد کو ٹارگٹڈ پیٹرول و ڈیزل سبسڈی دینے کا اعلان کیا ھے، جسکو وزیراعظم سستا ڈیزل اور وزیراعظم سستا پٹرول سکیم کا نام دیا گیا ھے،
یر وہ پاکستانی جس کی ماہانہ آمدنی چالیس ہزار روپے سے کم ھو، ان افراد کے لئے رجسٹریشن کوڈ جاری کردیا گیا ھے۔
786 پر اپنا شناختی کارڈ Sms کریں 2000 ہر ماہ ریلیف ملے گا
یکم جون سے میسج کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے
73 لاکھ Bisp سے پیسے لینے والی خواتین کو msg کرنے کی ضرورت نہیں انہیں automatic ان کے نام پہلے سے رجسٹرڈ سموں کے ذریعے 2000 روپے کی subsidy ہفتے کے اندر ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائے گی باقی 67 لاکھ خاندان جو Bisp سے پیسے وصول نہیں کر رہے اور ان کی آمدن 40000 سے کم ہے یکم جون سے شادی شدہ خاتون یا بیوہ خاتون کا شناختی کارڈ نمبر اپنی سم سے 786 پر بھیجیں جانچ پڑتال کے بعد اہل خواتین کے اکاؤنٹ میں 2000 روپے کی سبسڈی جلد ٹرانسفر کر دی جائے گی،  پیغام کو اردگرد غریب لوگوں تک پھیلائیں تاکہ کسی ایک کا بھلا ہو سکے۔  شکریہ
مزید جانیں اس ویڈیو 👇میں
https://youtu.be/x7GwOO3gu2E


خطبہ حج 2023

شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے، ایسی ہر چیز جس سے اتحاد ٹوٹے دور رہنے کا حکم ہے: خطبہ حج میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن مح...