احسن اقبال کا معیشت ٹھیک کرنے کے لیے قوم کو چائے کم پینے کا مشورہ
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے چند دن پہلے معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے قوم کو چائے کم پینے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر انکا ویڈیو کلپ وائرل ھوگیا، اور سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان برپا ہو گیا۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ھے کہ حکومت کا کام پالیسی بنانا مشورے دینا نہیں۔
دنیا میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے پاکستانی لوگوں اور پڑوسی ملک سے آنے والے ’حملہ آوروں کی تواضح‘ بھی چائے کی پیالی سے کرنے والی پاکستانی قوم کو احسن اقبال کا چائے کم کرنے کا مشورہ بالکل پسند نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ دن میں چائے کم پینے کا کہنے پر احسن اقبال نے پاکستانی عوام سے تاحیات دشمنی مول لی ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پتھر کھا کر گزارا کر لیں گے مگر چائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا !!
دودھ، پانی، پتی ہے، کوئی اسلحہ تو نہیں۔۔۔۔دو کپ چائے پی لی، اب ایک اور پی لوں کوئی مسئلہ تو نہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان چائے کی درآمد پر خاصی رقم خرچ کرتا ہے اور مگر بقول شاعر:
مانا کہ تم بہت حسین ہو مگر
محبت ہمیں پھر بھی چائے سے ہے۔۔۔
اور ہم تو بس اتنا کہیں گے: احسن اقبال صاحب غریب کو جینے دیں اور چائے پینے دیں!
اس میں شک نہیں کہ پاکستان کا شمار دنیا بھر میں زیادہ چائے پینے والوں میں ہوتا ہے۔
جہاں وقت کی کوئی قید نہیں, اور نہ ہی چائے پینے کی کوئی وجہ
ہمارے ہاں چائے کو بطور "دوا " بھی پیا جاتا ہے
*سر میں درد ہو رہا ہے.......... چاہ پی!!
تھکاوٹ ہو گئی ہے............ چاہ پی!!!
نیند نہیں آ رہی........ چاہ پی!!!!
اور پھر گھر میں مہمان آگے ہیں.... کڑیے چاہ بنا...
نا!!! چاہ نہ ہوگئی امرت جل ہو گیا...
ویسے ایک بات تو ہے چائے میں.. زندگی میں دھوکے کے بعد چائے وہ چیز ہے جو بندے کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔
وغیرہ وغیرہ
حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان چائے درآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست پر آگیا ھے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان 59 کروڑ ڈالر کی سالانہ چائے درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے جبکہ پاکستان کے مقابلے میں امریکا نے 47 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی چائے درآمد کی حالانکہ امریکا پاکستان سے 100 گنا زیادہ دولت مند امیر ملک ہے اور اس کی آبادی پاکستان سے کافی زیادہ ہے اس طرح برطانیہ 34 کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی چائے امپورٹ کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ چین چائے امپورٹ کرنے والے ملکوں میں چوتھے نمبر پر اور مصر 5 ویں نمبرپر ہے۔ چین کی چائے کی سالانہ امپورٹ 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے اور مصر کی سالانہ امپورٹ 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔ اس طرح وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے جو یہ دانشمندانہ جملہ کہا تھا کہ پاکستان جو کم وبیش 60 کروڑ ڈالر کی چائے سالانہ درآمد کر رہا ہے چونکہ ہم پاکستانی یومیہ کئی کپ چائے پیتے ہیں اگر اس میں سے یومیہ ایک کپ بھی کم کر دیں تو پاکستان کا چائے کی درآمد کا مجموعی بل تیزی سے کم ہوجائے گا۔



آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں خیبرپختونخوا کے علاقے شنکیاری ضلع مانسہرہ میں چائے کے باغات موجود ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے یہاں پر چائے مقامی سطح پر کاشت کی جا رہی ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں بہت کم لوگوں کو اس بات معلومات ہے کہ پاکستان میں چائے کے اتنے خوبصورت باغات موجود ہیں۔
دنیا میں چائے پیدا کرنے والے ممالک نے جہاں چائے کی کاشت سے زرمبادلہ کمایا وہاں ساتھ ہی ساتھ اس کی ٹورازم کو پرموٹ کر کے بھی بے پناہ پیسہ کمایا۔
لیکن ہمارے ہاں نہ تو چائے کی کاشت کو فروغ مل سکا اور نہ ہی اتنے خوبصورت شنکیاری ٹی گارڈن کی ٹورازم کو اجاگر کیا جا سکا۔
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں چائے کی کاشت کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات کی ٹورازم کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میں چائے کا قومی دن منانے کے لیے نیشنل ٹی گارڈن فیسٹیولز منانے کا بھی آغاز کیا ھے اس سلسلے میں اے ٹی ڈی سی پی ، این ٹی ایچ ار آئی اور پے اے آر سی کے تعاون سے پاکستان میں چائے کا قومی دن ڈکلیئر کیا گیا ۔ سنڈے 26 جون 2022 کو اسی سلسلے کا تیسرا سالانہ قومی ٹی گارڈن فیسٹیول 2022 کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں مقامی سطح پر خود کی اپنی چائے کی کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات کی سیاحت کو بھی فروغ مل سکے جس سے ہم اپنی چائے کی کاشت کو اپنی ٹورازم کی طاقت بنا کر اس گاؤں میں بے پناہ پیسہ انجیکٹ کر سکتے ہیں ۔
21 جون کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی طرف سے پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کو ایک لیٹر کے ذریعے مطلع کیا گیا کی پاکستان میں چائے کی مقامی سطح پر کاشت کو فروغ دیا جائے، اور مقامی کاشت کی گئی چائے کے ساتھ ساتھ مقامی مشروبات جیسے کہ ستو، لسی کو فروغ دیا جائے۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے مانسہرہ میں قائم چائے اور دیگر بڑی فصلوں کے قومی تحقیقی ادارے (نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) شنکیاری مانسہرہ کا دورہ کیا۔اس موقع پران کے ہمراہ مرتضیٰ جاوید عباسی (وفاقی وزیر ، پارلیمانی امور )، سردار محمد یوسف، (ایم پی اے صوبائی اسمبلی کے پی کے) اور ڈاکٹر اکمل صدیق (مشیر برائے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق)نیز صوبائی محکمہ جنگلات اور زراعت کے نمائندگان بھی شریک تھے۔چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی اور ڈائریکٹر این ٹی ایچ آر آئی شنکیاری ڈاکٹر عبدالوحید دونوں نے مل کر شرکاءکو ملک کے ممکنہ ترقی پذیر علاقوں میں چائے کے فروغ کے لیے تحقیق اور ترقی کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے حکومت کے طور پر مقامی چائے کی پیداوار کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ حکومت چائے کی درآمد پر بھاری رقم یعنی 0.50 بلین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائے کی کمرشلائزیشن کے لیے تمام ضروری اقدامات پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی یعنی چائے کی پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ تاکہ چائے کی پیداوار کو ایک کامیاب کاروبار بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ چائے کی کمرشلائزیشن پلان میں نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جائے گا اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلات اور زراعت این ٹی ایچ آر آئی کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ساتھ چائے کی کمرشلائزیشن کے منصوبے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
اس موقع پر احسن اقبال نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ چائے کی کمرشلائزیشن میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی زیر نگرانی چائے کی کمرشلائزیشن موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کو چائے پیدا کرنے والا ملک بنانے کے لیے چائے کی کاشت کے لیے موزوں مٹی اور موسمی حالات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ شرکاءنے NTHRI میں چائے کے باغات اور چائے کے پروسیسنگ پلانٹس (بلیک اینڈ گرین ٹی) کا بھی دورہ کیا اور چائے کی کاشت اور پروسیسنگ میں شامل اقدامات کے بارے میں روشنی ڈالی۔
چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی نے چائے کی پیداوار اور پروسیسنگ ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے پی اے آرسی کے کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے شرکاءکو بتایا کہ چائے کی کاشت کی ترقی پر کامیاب تحقیقی کام اس ادارہ کے سائنسدانوں نے کیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ چائے کی پیداوار کو بڑے پیمانے پر تجارتی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کے شمالی علاقوں میں 158,000 ایکڑ رقبہ چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇
تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘
https://twitter.com/ZahidNewss