اتوار، 16 اپریل، 2023

مردے کو برا بھلا کہنے کی ممانعت

جمعیت علمائے اسلام کے درویش صفت اور سادگی کی پیکر رہنماء اور وفاقی وزیر مذہبی امور پاکستان مولانا مفتی عبد الشکور شہید ایک نظریاتی ' فکری اور مستقل مزاج سیاسی ورکر تھے زمانہ طالبعلمی سے جے یو آئی کے ذیلی طلباء ونگ جے ٹی آئی کے متحرک کارکن تھے- فکر دیوبند اور مسلک دیوبند کے سچے پیروکار تھے، 2018  کے الیکشن میں جے یو آئی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے تھے اور گذشتہ سال عدم اعتماد کے نتیجے میں بننے والے پی ڈی ایم حکومت کے  وفاقی وزیر مذہبی امور کا قلمدان سنبھال کر وفاقی کابینہ کا رکن بن گئے تھے۔

گذشتہ رات مفتی عبد الشکور کی ٹریفک حادثے میں وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئ پوری قوم نے اس المناک حادثے پر گہرے رنج والم کا اظہار کر دیا، لیکن دوسرے طرف کل سے سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ مفتی صاحب کی اچانک موت پر خوش ہو رہے ہیں۔ زندگی میں پہلی بار کسی کی موت پر تعزیت کی بجائے خرافات اور گالیاں دیکھ رہا ہوں۔ کیا ہم نے یہ وقت بھی دیکھنا تھا ؟ نفرتوں کے یہ بیج آخر کس مقصد کے حصول کے لئے بوئے گئے ہیں ؟ کچھ انسانیت کا ہی خیال رکھ لینا چاہئیے۔

یاد رکھیں کہ مردوں کو برا بھلا کہنا نہ صرف غیر انسانی غیر اخلاقی عمل ھے بلکہ مسلمانوں کو اس مکروہ عمل سے سختی سے منع کیا گیا ھے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ {البقرة:134}

" یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی ، ان کی کمائی ان کے لئے ہے اور تمہاری کمائی تمہارے لئے اور ان کے اعمال کے بارے میں تم سے باز پرس نہ ہوگی " ۔

ارشاد نبوی ہے :

"لا تسبو الاموات فانھم قد افضوا الی ما قدموا "

مردوں کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ جو کچھ اچھے برے اعمال وہ آگے بھیجے اس تک پہنچ گئے "

{ صحیح بخاری :1393 ، الجنائز – سنن النسائی :1936 ، الجنائز – مسند احمد6/180، بروایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا }

بلکہ ہمیں حکم یہ ہے کہ مردوں کے عیبوں کو ظاہر کرنے سے بچیں اور ان کی خوبیوں کو واضح کریں "

ارشاد نبوی ہے :

" اذکروا محاسن موتاکم وکفوا عن ساوئھم "

" اپنے مردوں کی خوبیوں کا ذکر کرو اور ان کے عیوب کو نہ چھیڑو "

{ سنن ابو داود :4900، الادب – سنن الترمذی :1019، الجنائز – مستدرک الحاکم :1/358 ، بروایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما }







جمعہ، 14 اپریل، 2023

روزے کی تاریخ اور اسکی اقسام

تحریر:

قاری زاہد حسین زاہد ؔ  ٹوپی           

بارہ اسلامی مہینوں میں سے نویں مہینے کا نام رمضان ہے، رمضان عربی کے لفظ   ”رمض“ سے نکلا ہے۔جس کے معنی جلا دینے کے ہیں۔ یعنی گناہوں کو جلا دینے والی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر عاقل بالغ مسلمان پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں۔ روزے کو عربی میں ”صوم“ کہتے ہیں، صوم کے لغوی معنی کسی کام سے رکنے، ترک کرنے اور چپ رہنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں صبح صادق سے لیکرشام تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے رُک جانے کا نام روزہ ہے۔

روزہ ہر دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں مذہبی یا نظریاتی توہماتی نظریات کی بنا پر رکھا جاتارہا ہے۔قدیم جنگلی قبائل میں بھی ایک مخصوص وقت کے لئے کھانے پینے سے اجتناب کی روایت ملتی ہے۔قدیم مذاہب میں عموما روزہ رکھنے کا رواج مذہبی پروہتوں تک محدود ہوتا تھا۔اور اسے دیوتا تک رسائی کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔قدیم یونانی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کھانے پینے کی چیزیں استعمال کرنے سے شیطانی قوتیں جسم میں داخل ہو جاتی ہیں۔ شائد اسی نظریئے نے ان میں کچھ وقت کے لئے کھانے پینے  کی چیزوں سے اجتناب کو رواج دیا۔اسلام کے آنے سے پہلے عرب قبائل میں بھی روزہ رکھنے کا رواج موجود تھا۔اور عرب بت پرست کم و بیش اسی نمونے پر روزے رکھتے تھے۔جیسے کہ مسلمان۔ عراقی سابی بھی روزہ رکھتے تھے۔پارسی مذہب غالباً  ایسی واحد مذہب ہے،  جس میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے،  پارسی مذہب کے پیروکاروں کے خیال میں یہ عمل انہیں کمزور کر دیتا ہے۔اور نتیجتاً وہ بُرائی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا حکم نہیں بلکہ زمانہ  قدیم سے رائج ہے۔ اور روحانیت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ 

 مسلمانوں پررمضان کے روزے دو ہجری کو مدینہ منورہ میں فرض ہوئے۔اسی رمضان کے مہینے کی آخری عشرے کی طاق راتوں میں ایک رات ہے۔ جس کی عبادت کا ثواب قرآن کریم کے مطابق ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔اکثر علماء کا خیال ہے کہ یہ ستائیس ویں رات ہے۔

 روزے کی فرضیت کے بارے میں فرمانِ خداوندی ہے۔ یَا اَیُّھَاالَذِینَ اٰمَنُو کُتِب َ عَلَیکُم الصِیَام ُ کَمَا کُتِبَ عَلی الذِینَ مِن قَبلِکُم    (البقرہ: ۳۸۱)   یعنی اے مسلمانوں! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جسطرح تم سے پہلے امتوں پر فرض کئے گئے تھے۔

اس ایت کریمہ سے یہ بھی واضح ہوا کہ کہ روزے صرف اسی امت پر فرض نہیں کئے گئے بلکہ پچھلی امتوں پربھی فرض کئے گئے تھے۔ یعنی جسطرح امت محمدی ﷺ روزے رکھتی ہے اسی طرح پچھلی امتیں بھی رکتی تھیں۔ البتہ روزے کے احکا م،  تعداد میں فرق رہا ہے۔ آجکل بھی اکثر مذاہب میں روزہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہے  اگرچہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی باتیں ملاکر اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔

روزہ کی چھ قسمیں ہیں۔  فرض،  واجب،  سنت،  مستحب،  نفل  اور  مکروہ

فرض روزے:۔  رمضان المبارک کے مہینے کے روزے فرض ہیں۔ ادا  ہو  یا  قضا۔

 واجب روزے:۔ کفارے کے روزے اور منت (نذر) مانے ہوئے روزے واجب ہے۔ کوئی نفلی روزہ جس کو توڑ دیا ہو تو اس کی قضا بھی واجب ہے۔

سنت روزے:۔ محرم الحرام کی دسویں تاریخ (یوم عاشورہ) کا روزہ اور اس کے ساتھ نویں تاریخ کا روزہ رکھنا سنت ہے۔

مستحب روزے:۔ ہر اسلامی مہینے کی تین روزے یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں  تاریخ کے،  اسی طرح پیر  اور  جمعرات کے دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔کہ ہر پیر اور جمعرات کے دن امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے۔کہ جب میرے اعمال پیش ہو ں تو میں روزہ دار ہوں۔ شوال کے چھ روزے، ان کو مسلسل بھی رکھا جاسکتاہے  یا درمیان میں وقفہ کے ساتھ بھی،  صوم داؤد ؑ  یعنی  ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ یہ روزہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام روزوں سے افضل اور محبوب ہے۔

نفل روزے:۔  مندرجہ بالاروزوں کے علاوہ تمام روزے جن کا مکروہ ہونا ثابت نہ ہو نفل روزے ہیں۔

مکروہ روزے:۔  مکروہ روزے دو قسم کے ہیں   ۱)  مکروہ تنزیہی      ۲)  مکروہ تحریمی

۱) مکروہ تنزیہی:  صرف یوم عاشورا (دسویں محرم) کا روزہ  رکھنا۔ یعنی نویں یا گیارویں تاریخ کا روزہ  ساتھ نہ رکھنا۔

۲)  مکروہ تحریمی:  عیدین کاروزہ، ایام تشریق کا روزہ(ذی الحجہ کی گیارہ اور بارہ تاریخ)، تنہا جمعہ کاروزہ  یا  تنہا  پیر کے دن کا روزہ، صوم دہر یعنی ہر روز روزہ رکھنا مکروہ ہے۔


https://www.youtube.com/ZahidNEWS

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منجانب: قاری زاہد حسین زاہد ٹوپی

جمعہ، 3 مارچ، 2023

ڈیڑھ سال تک نماز کی امامت کرنے والا خواجہ سراء گرفتار

 راولپنڈی میں ڈیڑھ سال تک امامت کرنے ، متعدد نکاح اور جنازے پڑھانے والے امام مسجد کو خواجہ سراء کے روپ میں گرفتار کر لیا گیا۔

https://www.youtube.com/ZahidNEWS

تفصیلات کے مطابق تھانہ روات پولیس کو راجہ امیر شفیق نے مقدمہ درج کرواتے ہوئے بتایاکہ روات کا رہائشی ہوں جامعہ ڈھلکی روات میں امام مسجد کی ضرورت تھی تو میں نے اور ممبران نے مل کر امام مسجد کو تلاش کیا۔ اور محمد خان کو امام مسجد رکھ لیا جس نے بتایا کہ میں امامت بھی کرواتا ہوں اور حافظ قرآن بھی ہوں۔بچوں کو قرآن کی تعلیم بھی دونگا۔ میں نے دوسرے ممبران سے باہم صلاح مشورہ ہو کر محمد خان کو امام مسجد رکھ لیا جو کہ تقریبا دو سال تک بطور عام مسجد فرائض سر انجام دیتا رہا اس دوران اس نے متعدد جنازے اور نکاح بھی پڑھائے۔ ماہ فروری 2023 کو محمد خان جو کہ ہمار امام مسجد تھانے بتایا کہ میر سعودیہ جانے کا پرو گرام ہے آپ مجھے فارغ کر دیں۔ جس پر اہل علاقہ نے بڑے احترام کے ساتھ الوداع کیا۔ اب کچھ دن پہلے مجھے اور باقی ممبران کو تشویش ہوئی کہ ہمارے علاقہ میں خواجہ سراء کے روپ میں بھیگ مانگنے والا ہمار امام مسجد رہ چکا ہے جس پر میں نے اور اہل علاقہ نے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ یہ وہی محمد خان ہے جو ہمارا امام مسجد رہ چکا ہے محمد خان نے اپنا جنس چھپا کر اور متعدد مرحوم اشخاص کے نماز جنازہ پڑھا کر ، متعدد اشخاص کے نکاح پڑھا کر سخت زیادتی کی ہے ، پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے ، مزید تفتیش جاری ہے

جمعرات، 2 مارچ، 2023

سپریم کورٹ کا فیصلہ اردو ترجمہ کے ساتھ

  

سپریم کورٹ نے دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات میں تاخیر کے خلاف لئے گئے از خود نوٹس کیس کس تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے 13 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ تین دو کے تناسب سے جاری کیا گیاہے تین فاضل ججز کا حکم پہلے 11 صفحات اور 16 پیراگراف پر مشتمل ہے جبکہ 2 ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کا فیصلہ 2 صفحات پر مشتمل ہے ۔

28 فروری 2023 کو محفوظ کیا گیا اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس منیب اختراور جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا ہے یہ فیصلہ 1 ازخود نوٹس اور 2 درخواستوں جو کہ بالترتیب اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور پنجاب اسمبلی کے سابق اسپیکر محمدسبطین خان کی جانب سے دائرکردہ درخواستوں پر سنایا گیا ہے۔

عدالت نے لکھا ہے کہ یہ حکم دو تین کی اکثریت سے جاری کیا جا رہا ہے جس میں دو ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ لکھا ہے اس فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

پیراگراف نمبر 1
عدالت نے اکثریتی فیصلے میں لکھا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت آئین پاکستان کا بنیادی جزو ہے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے بغیر پارلیمانی جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی اس طرح عام انتخابات کے انعقاد کے بغیرپارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں وجود میں نہیں آ سکتیں۔ انتخابات کا انعقاد آئینی اور قانونی تقاضہ ہے ، انتخابات اور جز وقتی انتخابات آئین کاتقاضہ ہے جو پارلیمانی جمہوریت کے لئے انتہائی ضروری ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکےکہ پاکستان کے عوام نے ملکی سلامتی کا معاملہ اپنے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں دیا ہے۔

پیراگراف نمبر 2
عدالت نے کہاہے کہ عام انتخابات کے انعقاد کے دوران مختلف پہلو اور ضروریات ہوتی ہیں جن میں سے سب اہم ٹائم فریم یا دورانیہ ہوتا ہے جس میں انتخابات کا انعقاد کا کرایا جانا ہوتا ہےملک کا آئین اس حوالے سے2 دورانیوں 60 اور 90 تعین کرتا ہے۔ پہلا دورانیے کا اس وقت اطلاق ہوتا ہے جب اسمبلی مدت پوری ہونے کے بعد آئین کے آرٹیکل 107 کے تحت تحلیل ہوتی ہے اور دوسرےدورانیے کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب اسمبلی آئین کے آرٹیکل 112 کے تحت تحلیل ہوتی ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں اوقات کار کا تعین آئین کے آرٹیکل 224 ون اور ٹو میں کیا گیا ہے اس معاملے میں عدالت کے سامنے 2 صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کا معاملہ ہے جو اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے تحلیل ہوئی ہیں اس لئے ان میں انتخابات کا انعقاد 90 دن کے اندر ہونا ہے ۔

پیراگراف نمبر 3
اس معاملے میں عدالت نے 3 سوالات کا جائزہ لیا ہے یہ تینوں سوال دونوں اسمبلیوں پنجاب اور خیبر پختونخوا سے متعلق ہیں جو بالترتیب 14 اور 18 جنوری 2023 کو تحلیل ہوئیں دونوں صوبوں میں وزرائے اعلی نے آئین کے آرٹیکل 112 ون کے تحت فاضل گورنرز کو اسمبلیوں کی تحلیل کی تجویز بھجوائی۔ پنجاب کے معاملے میں گورنر نے وزیراعلی کی ایڈوائس پر عمل نہ کرنے کا اتخاب کیا اس طرح 48 گھنٹے گزرنے کے بعد پنجاب اسمبلی ازخود 14 جنوری 2023 کو تحلیل ہو گئی ۔ صوبہ خبیر پختونخوا کے معاملے میں گورنر نے تجویز پر عمل کرتے ہوئے اسمبلی 18 جنوری 2023 کو تحلیل کر دی ۔عدالت نے مختلف جماعتوں کے وکلاء اور لاء افسران کی مدد سے ان سوالوں کا جائزہ لیا ۔ عدالت نے ان تینوں سوالات کو اپنے حکم کا حصہ بنایا ہے
سوال نمبر 1۔ آئین پاکستان کے تحت صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل ہونے کی صورت میں عام انتخابات کی تاریخ کا تعین کرناکس کی ذمہ داری اور اختیار ہے؟
سوال نمبر 2۔ کیسے اور کب یہ آئینی زمہ داری ادا کی جائے گی؟
سوال نمبر 3۔عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے وفاق اور صوبے کی کیا آئینی ذمہ داریاں ہیں؟۔

پیراگراف نمبر4
عدالت نے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میںآئین 3 طرح کی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جن میں گورنر کا کردار ہوتا ہے۔

پیراگراف نمبر5
پہلی صورتحال آئین کے آرٹیکل 112 کی ذیلی شق 2 میں بتائی گئی ہےجس میں صدر کی منظوری کے بعد گورنر اپنی صوابدید کے تحت اسمبلی تحلیل کرتا ہے اس صورتحال میںاسمبلی گورنر کے حکم کے بغیر تحلیل نہیں ہو سکتی اور اگر گورنر حکم جاری کر دے تو اسمبلی فوری طور پر تحلیل ہو جائے گی۔

پیراگراف نمبر 6
دوسری صورتحال آئین کے آرٹیکل 112 کی ذیلی شق ون میں دی گئی ہے جب وزیراعلی اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس بھجواتا ہے یہ صورتحال 2 سب کیٹگریز میں تقسیم کی جا سکتی ہے
(اے)
پہلی کیٹگری یہ ہے کہ گورنر ایڈوائس پر عمل کرتے ہوئے اسمبلی کی تحلیل کا حکم جاری کر دیتا ہے ایسی صورت میں حکم جاری ہونے کے فورا بعد اسمبلی تحلیل ہو جاتی ہے۔
(بی)
دوسری کیٹگری یہ ہے کہ جس میں گورنر وزیراعلی کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرنے کا حکم جاری نہیں کرتا ایسی صورت میں وزیراعلی کی طرف سے بھجوائی گئی تجویز کے بعد 48 گھنٹے گزرنے کے بعد خودبخود اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔اس صورت میں گورنر کے حکم کی ضرورت نہیں رہتی۔

پیراگراف نمبر 7
تیسری صورتحال آئین کے آرٹیکل 107 میں دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی5 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہوتی ہے تو اس میں گورنر کا کوئی کردار نہیں ہے ۔

پیراگراف نمبر 8
آئین کے آرٹیکل 105 کی ذیلی شق تین اے کہتی ہے کہ جہاں گورنر اسمبلی تحلیل کرتا ہے وہاں اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ سے 90 دن کے اندر گورنر انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے گا۔

پیراگراف نمبر 9
عدالت نے لکھا ہے کہ پارلیمنٹ نے اپنی قانون سازی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے الیکشن ایکٹ 2017 منظور کیا ہے جس کو آئین شیڈول 4 میں شامل کیا گیا ہے ۔ آرٹیکل 222 وفاق کے انتخابات کے معاملات میں موجود دائرہ اختیار سے متعلق واضح ہے ایکٹ 2017 قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے متعلق ہے اس قانون کی شق 57 ون کہتی ہے کہ صدر الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد عام انتخابات کی تاریخ یا تاریخوں کا اعلان کر سکتا ہے۔

پیراگراف نمبر 10
)اے)
عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 105 تین- اے کی روشنی میں ایسی صورتحال جہاں گورنر اسمبلی تحلیل کرے وہاں عام انتخابات کی تاریخ کا تعین گورنر کرے گا ۔
(بی)
عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایسی صورتحال جہاں گورنر کے حکم سے اسمبلی تحلیل نہ ہوئی ہو وہاں پر الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 57 ون کی روشنی میں صدر پاکستان عام انتخابات کی تاریخ دینے کے مجاز ہیں۔

پیراگراف نمبر 11
فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ تحلیل کی گئی اسمبلی میں انتخابات کا انعقاد آئین میں دیئے گئے وقت کے اندرکرانا آئینی تقاضہ ہے صدر یا گورنر کو کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر بغیر کسی تاخیر کے انتخابات کے انعقاد کے لئے تاریخ کے تعین کی آئینی ذمہ داری ضرور پوری کرنی ہوتی ہے۔ عدالت نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن کو عام انتخابا ت کے حوالے سے مشاورت کے لئے ہر صورت میں صدر اور گورنر کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

پیراگراف نمبر 12
عدالت نے لکھا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے جو موجودہ صورتحال ہے اس میں صدر پاکستان نے عام انتخابات کے لئے جو تاریخ متعین کی ہے اس پر ضرور عمل کیا جانا چاہئے تاہم جہاں تک خیبر پختونخوا کی اسمبلی کی تحلیل کا تعلق ہے اس کے لئے تاریخ کے تعین کی ذمہ داری گورنر کی ہے ۔

پیراگراف نمبر 13
عدالت نے لکھا ہے کہ صدر کی طرف سے 20 فروری 2023 کو جاری کیا گیا حکم آئینی طور پر ٹھیک ہےصدر نے پنجاب اسمبلی کے بارے میں جو تاریخ دی ہے وہ درست ہے لیکن خیبر پختونخوا کے حوالے سے جو حکم دیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے اس لئے خیبر پختونخوا کے حوالے سے صدارتی حکم کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔اسی طرح گورنر کے پی کے نے ابھی تک صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ نہیں دی جو اس کی آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے۔

پیراگراف نمبر 14
عدالت کے سامنے موجود معاملے کے حوالے سے قرار دیا جاتا ہے کہ
(اے)
عام صورتحال میں پنجاب اسمبلی کے جنرل الیکشن صدر کی طرف سے20فروری 2023 کو دی گئی تاریخ 9 اپریل 2023 پر ہونا ہیںتاہم ہمیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں آئین میں دی گئی 90 دن کی ڈیڈ لائن کے مطابق عام انتخابات کرانا ممکن نہیںہے یہ
معاملہ ممکنہ طور پر قانون کی مس انڈرسٹینڈنگ کا ہے الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 57 اے کے تحت مشاورت کے لئے اپنی دستیابی یقینی نہیں بنا سکا اس لئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 57 اور 58 کو مدنظر رکھتے ہوئے صدر کی طرف سے دی گئی تاریخ پر عمل کرے ۔ لیکن اگر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر الیکشن کمیشن اس ڈیڈ لائن کے قریب ترین کی کوئی تاریخ انتخابات کے انعقاد کے لئے مقرر کر سکتا ہے صدر پاکستان الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
(بی)
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فوری طور پر الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کےانتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں گے ۔

پیراگراف نمبر 15
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 148 تین کے تحت وفاقی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ ہر صوبے میں حکومت کا قیام یقینی بنائے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وفاقی حکومت کی اس ذمہ داری میں یہ بھی شامل ہے کہ ہر صوبے کے عام انتخابات کا انعقاد بروقت اور آئین میں دئیے گئے وقت کے اندر کروائے ۔عدالت نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت وفاق اور صوبوں کے تمام حکام چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کو عمور کی انجام دہی میں معاونت کے پابند ہیں۔ عدالت نے کہا ہے کہ وفاق خصوصا وفاقی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر الیکشن کمیشن کو افرادی قوت اور سیکورٹی سمیت وہ تمام سہولیات فراہم کرے جو عام انتخابات کے انعقاد کے لئے ضروری ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نگران کابینہ کے تحت قائم صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہےوہ الیکشن کمیشن کو مطلوبہ مدد اور معاونت فراہم کرے۔ عدالت نے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 50 کے تحت حکام فوری طور پر متحرک انداز میں اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

پیراگراف نمبر 16
عدالت نے کہا ہے کہ اس عدالت کے سامنے لائے گئے تینوں معاملات قابل سماعت ہیں اور مندرجہ بالا ہدایت کے ساتھ نمٹائے جاتے ہیں۔

اختلافی نوٹ۔

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے دو صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ وہ اس حکم کی تفصیلی وجوہات بعد میں دیں گے تاہم قرار دیتے ہیں کہ

پیراگراف نمبر 1
یہ ازخود سماعت کیس کے حقائق اورصورتحال کے حوالے سے بالکل غیر منصفانہ ہیںجس طریقہ کار اور انداز میںآئین کے آرٹیکل 183 تین کے تحت یہ معاملہ اٹھایا گیا ہےوہ درست نہیں ہے۔

پیراگراف نمبر 2
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ ازخود نوٹس کیس نمبر 1/2023 اور آئین کے آرٹیکل 183 تین کے تحت دائر 2 آئینی پٹیشنز منظور الہی اور بینظیر بھٹو کیسز میں طے کئے گئے اصولوں کی روشنی میںازخود نوٹس کیس کے معیار پر پورا نہیں اترتیں اس لئے اس معاملے میں عدالت آئین کے آرٹیکل 183 تین کے تحت حاصل غیر معمولی دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی اس لئے یہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں۔ کیونکہ انہی قانونی سوالات کے حوالے سے لاہور اور پشاور ہائیکورٹ میں ریلیف کے لئے مقدمات زیر التواء ہیںاور یہ معاملات ان عدالتوں میں تاخیر کا شکار بھی نہیں ہیں۔

پیراگراف نمبر 3
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 183 تین کے تحت دائر کی گئی ان درخواستوں پر ازخود پروسیڈنگ اور ان درخواستوں کو سماعت کے لئے منظور کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے کیونکہ لاہور ہائیکورٹ کا سنگل بینچ 10 فروری 2023 کو درخواست گزار کے حق میں پہلے ہی فیصلہ دے چکا ہےاور لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ ابھی تک فیلڈ میں موجود ہے اس حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے زیر سماعت ہیں ان درخواستوں میں جتنے بھی درخواست گزار موجود ہیں کسی نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آئین کے آرٹیکل 185 تین کے تحت سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کی۔

پیراگراف نمبر 4
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ جب صوبائی ہائیکورٹ میں ایک آئینی معاملہ زیر التواء ہے تو ہمارے آئین کے وفاقی سٹرکچر کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی آئینی عدالت کی آزادی و خودمختاری میں مداخلت نہیں کی جانی چاہئے اور صوبائی آئینی عدالتوں کی خودمختاری کو انڈر مائن کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے انہیں مضبوط کرنے کے لئے سپورٹ کیا جانا چاہئے۔

پیراگراف نمبر 5
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ ہائیکورٹ کے سامنے زیر سماعت مقدمات میں کوئی غیر ضروری تاخیر نہیں ہو رہی اس صورتحال میں سپریم کورٹ میں جو کارروائی شروع کی ہے اس کی وجہ سے ہائیکورٹس میں معاملہ غیر ضروری تاخیر کا شکار ہوا ہے ہم اس معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے توقع کرتے ہیں کے متعلقہ ہائیکورٹس آج کے بعد سے تین ایام میں ان معاملات کا فیصلہ سنا دیں گی۔

پیراگراف نمبر 6
فاضل ججز نے لکھا ہے کہ اگر معاملات عدالتوں میں نہ بھی ہوں تو ایسے معاملات پارلیمنٹ کے اندر حل ہونے چاہئیں اس لئے ہم اس بات پر 23 فروری 2023 کے جسٹس یحی آفریدی اور اطہر من اللہ کی طرف سے جاری احکامات سے اتفاق کرتے ہیںاور یہ آئینی درخواستیں خارج کرتے ہیں اور ازخود کارروائی ختم کرتے ہیں

جمعہ، 24 فروری، 2023

#نسوار کی تاریخ اور اسکی مضر صحت اثرات

 #نسوار کی تاریخ اور اسکی مضر صحت اثرات

#نسوار تمباکو سے بنی ہوئی گہرے سبز رنگ کی ہلکی نشہ آور چیز ہے.#نسوار کھانے والا ایک چٹکی کے برابر اپنے منہ میں رکھتا ہے.اور اس سے لطف لیتا ہے.#نسوار تمباکو کے پتوں کو باریک پیس کر اور پھر اس میں حسب منشا #چونا ملا کر تیار کی جاتی ہے.



#نسوار خور اسے ایک ڈبی میں یا پڑیا میں ڈال کر جیب میں رکھتا ہے اور حسب خواہش منہ میں ڈالتا رہتا ہے.عام طور پر پٹھان اس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی اس کا استعمال کافی ہے.

اکثر دوست سمجھتے ہوں گے کہ #نسوار پشتونوں کی ثقافت ہے اور اس کو پختون قوم نےایجاد کیا ہے ایک غلط فہمی ہے.#نسوار ابتدائی طور پر امریکہ سے شروع ہوئی . 

جس کا تذکرہ پندرویں صدی کی کتب میں ملتا ہے اور یورپ میں سترہویں صدی سے عام استعمال ہوا.

عام طور پر اس کا استعمال ناک، سانس یا انگلی کےذریعے کیا جاتا ہے.

ریاست ہائے متحدہ اور کینیڈا میں ہونٹ کے نیچے رکھ کر استعمال کرنے سے ہوئی۔

روس میں اس کا استعمال 1643میں شروع ہوا.روس میں #نسوار کو ناک سے استعمال کرنے کی وجہ سے اس پر سزا مقرر کی گئی .

فرانس میں بادشاہ لوئیس XIIIنے اس پر حد مقرر کی

 #نسوار کو پسند کرنے والوں میں نپولین بونا پاٹ ، برطانیہ کے کنگ جارجIII کی ملکہ شارلٹ اور پوپ بینڈکٹ سمیت اشرافیہ اور ممتاز صارفین شامل ہیں۔ 

امریکہ میں #نسوار پر پہلا وفاقی ٹیکس 1794میں اس لئے لگا کیونکہ اسیے عیش و عشرت کی نشانی سمجھا جاتا تھا.

اٹھارویں صدی میں Gentlewoman نامی میگزین میں پرتگالی نسوار کی اقسام اور استعمال کے مشورے شائع ہوئے.

افریقہ کے کچھ علاقوں میں #نسوار یورپی ممالک کے افراد کی وجہ سے پھیلی اور دیہاتیوں نے #نسوار ناک کے ذریعے استعمال کیا .

ہندوستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی آمد کے ساتھ یہ مصنوعات بھی متعارف ہوئی

نسوار کی موجودہ اقسام میں ہری نسوار اور کالی نسوار کا استعمال عام ہے .جو تمباکو، کوئلے کی راکھ، چونے کی مدد سے بنائی جاتی ہے.کالی نسوار کے لئے خصوصی تمباکو صوابی سے آتا ہے۔

اس لئے یہ کہنا کہ نسوار پختون ثقافت ہے محض غلط فہمی اور کم آگاہی پر منحصر ہے ۔۔۔۔ اسلیے نسوار کو پختونوں سے منسلک کرنا غلط رائے ہیں ۔۔۔ ****نسوار کے صحت پر مضر اثرات


نسوار یا چبانے والے تمباکو میں نیکوٹین کے ساتھ ساتھ بہت سے معروف کارسنوجنز (کینسر کا باعث بننے والے مادے) بھی ہوتے ہیں۔ سگریٹ پینے سے زیادہ نکوٹین تمباکو چبانے سے جذب ہوتی ہے۔ تمباکو چبانا منہ کے کینسر اور پری کینسر کی نشوونما کے لیے ایک خطرناک عنصر ہے۔ میں نے اپنے ہاوس جاب کے دوران جتنے بهی منہ کے کنسر مریض دیکھے تھے سب میں نسوار لگانے کی ہسٹری تھی۔۔۔

    

   نسوار کے دیگر صحت کے خطرات میں مسوڑھوں کی بیماری، دانتوں کی خرابی اور دانتوں کا گرنا، اور دیگر کینسر اور قلبی امراض کے ممکنہ روابط شامل ہیں۔


    ایسی مصنوعات جو تمباکو نوشی چھوڑنے میں مدد کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں ان کا استعمال تمباکو چبانے کو چھوڑنے میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

جمعہ، 7 اکتوبر، 2022

سات سال سے انصاف کے منتظر 65 سالہ بزرگ نے بھائی کے قاتلوں کو احاطہ عدالت میں قتل کر دیا۔

  سات سال سے انصاف کے منتظر 65 سالہ بزرگ نے بھائی کے قاتلوں کو احاطہ عدالت میں قتل کر دیا

صوابی میں سات  سالوں سے انصاف کے منتظر 65 سالہ بزرگ نے بھائی کے قاتلوں کو احاطہ عدالت میں قتل کر دیا، صوابی میں پیش آئے واقعے کے بعد 2 افراد کو قتل کرنے والے بزرگ نے بنا کسی مزاحمت کے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ضلع صوابی میں برسوں تک بھائی کے قاتلوں کو سزا دلوانے کیلئے عدالتوں کے چکر لگانے والے شخص نے قانون اپنے ہی ہاتھ میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ضلع صوابی کے جوڈیشل کمپلیکس میں 65 سالہ شخص نے فائرنگ کرکے اپنے بھائی کے 2 قاتلوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 

*ڈی پی او صوابی، ایس پی انوسٹی گیشن صوابی اور ایس ڈی پی او صوابی نے فوری طور پر کرائم سین کا وزٹ کیا اور جائے واردات کا جائزہ لیا*

*فریقین کے مابین عرصہ دراز یعنی 2015 سے قتل مقاتلے کی دشمنی چلی آرہی تھی،
مقتولین افسر اقبال ولد رضاء خان سکنہ باچائی اور اورنگزیب ولد اکرام سکنہ ڈوڈھیر تاریخ پیشی کی غرض سے عدالت آئے ہوئے تھے کہ اس دوران ملزم فقیر گل ولد حسین خان سکنہ باچائی نے ان پر پستول سے فائرنگ کرکے جس سے مسمی اورنگزیب سکنہ ڈوڈھیر موقع پر جانبحق جبکہ مسمی افسر اقبال سکنہ باچائی ہسپتال میں دوران علاج معالجہ زخموں کی تاب نہ لا کر جانبحق ہوا۔

ملزم اور مقتول فریق کے مابین 2015 سے قتل مقاتلے کی دشمنی چلی آرہی تھی، ملزم کو موقع پر ہی بغیر کسی مزاحمت کے آلہ قتل پستول سمیت پولیس نے گرفتار کرلیا 
بتایا گیا ہے کہ 65 سالہ گرفتاری بزرگ شہری کا چھوٹا بھائی 2015 میں اراضی کے تنازعے پر قتل کردیا گیا تھا۔ بھائی کے قتل کے بعد ملزم نے بدلہ لینے کے بجائے قانون کا راستہ اپنایا اور قانون کے ذریعے بھائی کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کی کوشش کی، تاہم گزشتہ 7 سالوں سے عدالت کے چکر کاٹتے کاٹتے بزرگ شہری کی ہمت جواب دے گئی۔
ملزمان کا تعلق بااثر افراد سے بتایا گیا جبکہ یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اثر ورسوخ کی وجہ سے ہی گرفتاری بزرگ شہری کے بھائی کے قاتلوں کو تاریخ پر تاریخ ملتی رہی۔ ان تمام حالات میں 65 سالہ ملزم نے عدالت میں پیشی پر آنے والے 2 افراد کو احاطہ عدالت میں ہی فائرنگ کر کے قتل کر دیا، جبکہ بعد ازاں بزرگ نے بنا کسی مزاحمت کے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
#Swabi #police #swabipolice #


بدھ، 7 ستمبر، 2022

7 ستمبر ایک تاریخ ساز دن

 تحریر: قاری زاھدحسین زاھد

6 ستمبر 1965ء کا دن دفاعی لحاظ سے عالمی تاریخ میں کبھی نہ بولنے والا ایک قابلِ فخر دن ہے جس دن کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور بھاری بھر کم دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں حملہ کر دیا۔ مگر اس چھوٹے مگر غیور ملک نے اپنے دشمن کے بزدلانہ حملے کا اس جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے ۔ اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے والا غیور اور چھوٹا ملک پاکستان ہے۔

چھ سمبر کو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ ہوا۔ چھ ستمبر کی طرح سات ستمبر بھی ملک خداد پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین بلکہ عظیم ترین دن ہے، یہ دن صرف پاکستان ہی کے لیے نہیں ، بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اسی دن حضوراکرم ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ ہوا۔ اسی دن آنحضرتﷺ کی عزت و ناموس کا جھنڈا بلند ہوا۔ اسی دن آپ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ذلیل و رسوا ہوۓ ، اسی دن آپﷺ کی تاج ختم نبوت کو چوری کرنے والے ناکام و نامراد ہوۓ ، یہی وہ دن ہے جس دن پاکستانی پارلیمنٹ اور پوری قوم نے مل کر مرزائی اور قادیانیوں کو جسد ملت اسلامیہ سے کاٹ کر علیحدہ ثابت کر دیا ۔ اور انہیں آئینی و قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیدیا گیا ، اس پر صرف پوری پاکستانی قوم نے ہی نہیں، بلکہ پوری  امت مسلمہ نے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر ادا کیا، کیوں کہ قادیانیت کے تعفن اور نحوست نے پوری امت مسلم کو بے چین اور مضطرب کیا ہوا تھا۔

7 ستمبر 1974ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام ممبران قومی اسمبلی کی اجتماعی جدوجہد سے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا۔ یہ سابقہ وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت کا واقعہ ہے، کہ 22 مئی 1974 ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ چناب نگر کے راستے پشاور کے تفریحی دورے پر جا رہے تھے کہ پنجاب کے شہر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانی اپنی لٹریچر تقسیم کر نے لگے ، جس پر انہوں نے احتجاج کیا۔ اور لٹریچر لینے سے انکار کیا۔ تفریحی دورے سے واپسی پر 29 مئی- 1974 ء کو انہی طلبہ کی ریل گاڑی خلاف ضابطہ پنجاب کے شہر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر روک کر نہتے طلبہ پر قادیانیوں نے حملہ کر کے بدترین تشدد کیا، انکے ناک، کان اور جسم کے دیگر اعضا بے دردی سے علیحدہ کیے۔ جس سے 30 طلبہ شدید زخمی ہوگئے، تاریخ میں اسے سانحہ ربوہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں پریشانی کی ایک بڑی لہر دوڑ گئی ، دینی و مذہبی و جماعتوں کی اپیل پر پاکستان کے مختلف شہروں  میں پرجوش ہڑتالوں اور مظاہروں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اور یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ، کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ اس واقعے کے تھوڑے عرصے بعد مولانا شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی میں 30 جون 1974 کو احمد ہوں اور لاہوری گروہ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی کہ " یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ تعالٰی کے آخری نبی اور رسول ھے، لہذا اس باطل عقیدے کی

بناء پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جاۓ ۔" قومی اسمبلی میں اس وقت مولا نا عبد المصطفی اظہری پروفیسر غفور احمد مولا نا مفتی محمود ، مولا تا عبدالحق اور دیگر علماء سمیت نوابزادہ نصر اللہ خان بھی موجود تھے ۔ فوری طور پر اجلاس ہوا ، مرزائی ، لاہوری گروپ کے نمائندوں کو ان کی خواہش کے مطابق اپنی صفائی کا مکمل موقع بھی دیا گیا، اور دو ماہ اس پر بحث ہوتی رہی پوری قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک کمیٹی کی شکل دے دی گئی تھی۔ اور کئی کئی گھنٹے کیمرے کے سامنے بیانات و دلائل و جرح کا سلسلہ جاری رہتا تھا ،اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار فریقین کے مؤقف کو سن کر ایک دوسرے تک بیان پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ آخر کار قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم عبدالحفیظ پیرزادہ وزیر قانون کے ذریعے پیش کی گئی۔7 ستمبر  1974 کو 4 بجے قومی اسمبلی کا فیصلہ کن اجلاس ہوا ، اور 4 بجکر 35 منٹ پر قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ اس تحریک میں سب مکا تب فکر کے علمائے گرام شامل تھے، علما کے علاوہ دیگر بہت سے سیاست دانوں نے بھی اس میں حصہ لیا ،سواۓ چند ایک رکن قومی اسمبلی کے اکثر ارکان نے اس قرار داد کی حمایت میں دستخط کردیے۔ بہت سے سیاست دان اس تحریک سے قبل اس مسئلے کی سنگینی سے ناواقف تھے، لیکن جب
انہیں کیمرے کے سامنے مرزائی اور قادیانی نمائندوں ( مرزا ناصر وغیرہ) کے قول واقرار سے اصلی صورت حال کا علم ہوا، تو وہ بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے سلسلے میں سنجیدہ ہو گئے، بالآخر ۔ مرزا ناصر سے ایک سوال ہوا کہ اگر کبھی دنیا میں کہیں تم لوگوں کی حکومت قائم ہو جاۓ تو تم ( مرزائی/ قادیانی ) غیر مرزائی کلمہ گو مسلمانوں کو وہاں کس درجے میں رکھو گے؟ تو اس نے جواب دیا کہ ہم انہیں اقلیت سمجھیں گے ، یوں اس کے کلیہ کے مطابق قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔

اس قانون کے پاس ہوتے ہی قادیانیوں نے عدالتی سہارا لینے کیلئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس قانونی ترمیم کو چیلنج بھی کیا، مسلمانوں کی طرف سے ڈاکٹر سید ریاض احسن گیلانی اور قادیانیوں کی طرف سے فخر الدین جی ابراہیم نے اس کیس کی پیروی کی لیکن مرزا غلام احمد کی  تصانیف میں لکھی ہوئی اسلام مخالف باتیں دلائل قاطعہ ثابت ہوئیں ، اور قادیانی اعلی عدالتوں میں بھی خود کو مسلمان ثابت نہ کر سکے۔ اب پاکستان کے مسلمان ہر سال غیر سرکاری طور پر17 ستمبر کو یوم فتح ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں۔ 


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

پیر، 5 ستمبر، 2022

شہد شفا ہی شفا


شہد 🍯کو سینکڑوں سالوں سے دنیا کے مختلف حصوں میں بطور دوا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو بہترین غذا بھی سمجھا جاتا ہے۔ شہد کو ایک صحت مند ناشتہ تصور کیا جاتا ہے، جب کہ اس کے باقاعدہ استعمال سے صحت میں بہتری آتی ہے۔

شہد کو اس کی طبی خصوصیات کی بنیاد پر سپر فوڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے میٹھے ذائقے کی وجہ سے اسے تمام عمر کے افراد پسند کرتے ہیں۔ یہ گاڑھا سیال نہ صرف ذائقہ دار ہوتا ہے بلکہ اس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے۔

شہد کے ایک چمچ یا اکیس گرام میں چونسٹھ کیلوریز موجود ہوتی ہیں، اس کے علاوہ شہد پائے جانے والے غذائی اجزاء میں کیلشیم، میگنیز، میگنیشیم، نیاسین، فاسفورس، پینٹو تھینک ایسڈ، ریبوفلاوین، زنک، اور پوٹاشیم شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہد بہت سے مفید امائینو ایسڈز اور انزائمز حاصل کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔



شہد کے فوائدِ 


اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ

اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل

کولیسٹرول لیول میں بہتری

شفاف جِلد

ٹرائی گلیسرائڈز میں کمی

سر کی خشکی کا خاتمہ

زخم بھرنے میں مددگار

کھانسی کا مؤثر علاج

یادداشت میں بہتری

وزن میں کمی

معدے کے لیے مفید

شہد کے فوائد

شہد کو اگر روازنہ استعمال کیا جائے تو مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ

شہد میں بہت سے کیمیکلز پائے جاتے ہیں جو اینٹی آکسیڈنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس کی کچھ اقسام میں سبزیوں اور پھلوں جتنے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو جسم کو فری ریڈیکلز کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان سے بچاتے ہیں۔

فری ریڈیکلز کی وجہ سے بڑھاپے کی آثار جلدی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس کے علاوہ دائمی بیماریوں جیسا کہ کینسر اور دل کے مسائل کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ طبی تحقیقات کے مطابق شہد میں پولی فینول نامی سوزش کو کم کرنے والا جز پایا جاتا ہے جو آکسی ڈیٹو دباؤ کو کم کرتا ہے۔


شہد کے استعمال سے سانس کی نالی، ہاضمے کے نظام، دل کی صحت، اور اعصابی نظام میں بھی بہتری آتی ہے۔


اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل

طبی تحقیقات کے مطابق شہد کے غذائی اجزاء میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں، جب کہ شہد کی مختلف اقسام میں اینٹی بیکٹیریل اور فنگل خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔

کولیسٹرول لیول میں بہتری

نقصان دہ کولیسٹرول یا ہائی ڈینسٹی لپو پروٹین کی وجہ سے دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے، اس کے علاوہ اس کی وجہ سے خون کی شریانوں میں فیٹ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے فالج اور دل کے دورے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

شہد کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے نقصان دہ کولیسٹرول میں کمی آتی ہے اور فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔


شفاف جِلد

شہد چوں کہ ایک زبردست اینٹی آکسیڈنٹ ہے اس لیے اس کو ہر روز استعمال کرنے سے جسم سے زیادہ تر زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں، جب کہ اس کی جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے جِلد شفاف ہوتی ہے اور اس کی صحت میں بھی بہتری آتی ہے۔

ٹرائی گلیسرائڈز میں کمی

ہائی بلڈ ٹرائی گلیسرائڈ کی وجہ سے بھی دل کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، جب کہ اس کی وجہ سے انسولین کی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ذیابیطس ٹائپ ٹو لاحق ہو سکتی ہے۔


طبی تحقیقات کے مطابق شہد کے استعمال سے ٹرائی گلیسرائڈ کی سطح میں کمی آتی ہے اور چینی کے مقابلے میں اس کا استعمال محفوظ اور فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔


سر کی خشکی کا خاتمہ

شہد کو بالوں پر استعمال کرنے سے سر کی خشکی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس کو سر پر باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے سر کی جِلد نم رہتی ہے جس کی وجہ سے خشکی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔


سر کی خشکی سے نجات حاصل کرنے کے لیے دو چمچ شہد اور چار چمچ نیم گرم پانی کو مکس کے کریں اور اس کی مدد سے کچھ منٹوں تک انگلیوں کی مدد سے مالش کریں، مالش کرنے کے بعد سر کو آدھے گھنٹے بعد کسی اچھے شیمپو سے دھو لیں، سر کی خشکی سے چھٹکارا پانے کے لیے یہ ایک نہایت آزمودہ نسخہ ہے۔


زخم بھرنے میں مددگار

شہد کو زخموں کے علاج کے لیے سینکڑوں سالوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہد کے استعمال سے زخم تیزی کے ساتھ مندمل ہونا شروع ہو جاتے ہیں کیوں کہ یہ اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہد ذیابیطس کی وجہ سے لاحق ہونے والے پاؤں کے السر کے علاج کے لیے بھی مفید ہے۔


طبی ماہرین کے مطابق شہد کے استعمال سے جِلد کے مختلف مسائل جیسا کہ چنبل جیسی علامات میں بھی کمی آ سکتی ہے، اس کے علاوہ شہد زخموں کے اردگرد ٹشوز کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔


کھانسی کا مؤثر علاج

شہد کو کھانسی کا مؤثر علاج سمجھا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے سانس کی نالی کی صحت میں بہتری آتی ہے اور کھانسی کی علامات بھی کم ہوتی ہیں۔ طبی تحقیقات کے مطابق کھانسی کے علاج کے لیے شہد دواؤں کی نسبت زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد کو بچوں کی کھانسی ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔


یادداشت میں بہتری

کچھ طبی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہد میں شدید ذہنی تناؤ سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، اس کے استعمال سے جسم میں ایسا دفاعی نظام بحال ہوتا ہے جس کی وجہ سے یادداشت میں بہتری آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہد میں پایا جانے والا کیلشیم دماغ میں آسانی کے ساتھ جذب ہو جاتا ہے، جو بالآخر دماغی افعال کی کارکردگی میں بہتری لاتا ہے۔


وزن میں کمی

شہد کو اگر متوازن مقدار میں استعمال کیا جائے تو وزن میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وزن میں کمی لانے کے لیے شہد کو گرم پانی اور لیموں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ خیال رہے کہ شہد کے ایک چمچ میں چونسٹھ کیلوریز پائی جاتی ہیں، اس لیے آپ کو باقی غذا سے کیلوریز کم لینا ہوں گی۔


اس کے علاوہ شہد کے استعمال سے بھوک کم لگتی ہے اور کھانا کم کھانے کی وجہ سے وزن میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔


معدے کے لیے مفید

شہد کو جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے معدے کے لیے بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔ صبح نہار منہ شہد کو استعمال کرنے سے ایسے امراض کی علامات میں کمی آتی ہے جو ہاضمہ کے نظام سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہد کے استعمال سے معدے کے معمولی زخم بھی ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔



شہد کے مزید فوائد کے متعلق معلومات کسی ماہرِ غذائیت سے حاصل کی جا سکتی ہیں، کسی بھی ماہرِ غذائیت کے ساتھ آسانی سے رابطہ کرنے کے لیے آپ ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں، کیوں کہ ہیلتھ وائر نے رابطوں کو بہت آسان بنا دیا ہے۔



اتوار، 4 ستمبر، 2022

آج کی شخصیت: ڈاکٹر بخت زمان یوسفزئی

 تحریر و تحقیق: عامر شہزاد 

دلکش شخصیت، اعلی صلاحتیوں کا پیکر، اور شعبہ صحافت کا ایک جگمگاتا مایہ ناز ستارہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر بخت زمان یوسفزئی 

مشہور و معروف براڈ کاسٹر ، خوش آواز گلوکار، قابل ادا کار، مکالمہ نگار۔ اور پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ کے اولین پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر بخت زمان یوسفزئی پاکستان کے خوبصورت علاقے تربیلا میں عبدالقادر کے ہاں پیدا ہوئے۔خداداد صلاحیتوں کی بناء پر بچپن سے ہی ان میں ایک عظیم شخصیت کے آثار نمایاں تھے اس ذہین اور ہونہار طالبعلم نے میٹرک اور انٹر کے امتحانات امتیازی نمبروں کے ساتھ جبکہ گریجویشن پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ سے گولڈ میڈل کے اعزاز کے کیا۔۔بعد ازاں اپنے تعلیمی شوق کی تسکین کے لیئے انٹر نیشنل ریلیشنز میں بھی ماسٹرز کیا۔۔ان دنوں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت و ابلاغ عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہےجبکہ کیمپس ریڈیو کے انچارج کے فرائض بھی سر انجام دے رہیں ہے۔۔۔آپ پشاور یونیورسٹی کے سینٹ ممبر اور پیوٹا کے پہلے منتخب میڈیا سیکرٹری رہ چکے ہیں۔۔۔۔شعبہ صحافت کے پہلے ایم فل ہولڈر کے ساتھ ساتھ کچھ ہی عرصہ قبل اپنے فیلڈ میں درجہ کمال کو پہنچتے ہوئے پی ایچ ڈی کا اعزاز حاصل کر لیا۔ان کے ایم فل مقالے کا عنوان تھا ''غیر قانونی ریڈیو سٹیشنز کا کردار'' اور ان کے پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان تھا '' کمیونٹی ریڈیو سٹیشن ''جس کا انھوں نےاپریل 2022 میں کامیابی سے دفاع کیا۔۔۔۔معتبر ترین اسلامیہ کالج پشاور یونیورسٹی میں سات سال تک 2000سے 2007 تک صحافت کا مضمون پڑھاتے رہے ہیں ۔۔۔عرصہ 20 سال سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہے جبکہ ساتھ میں پی ٹی وی کے ساتھ بطور نیوز کاسٹر اور سکرپٹ رائٹر جڑے ہوئے ہیں ۔جب کہ ایف ایم ریڈیو سے ڈرامہ کرنے والوں کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔پی ٹی وی ہوم اور نیشنل پر پشتو خبریں جبکہ نیشنل سرکٹ سے رات 9 بجے کا خبر نامہ بھی پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے۔پی ٹی وی سے ہی کرنٹ افئیر کا پروگرام ' پارلیمانی نوٹ بک '' بطور سکرپٹ رائٹر اور اینکر پرسن کرتے رہے ہیں ۔اے وی ٹی اور پی ٹی وی کے لیئے متعدد ڈاکومینٹریز تیار کیں۔مختلف این جی اوز کے ساتھ کام کیا اور فورمز اور سیمینارز میں شرکت کی۔اخبارات کی دنیا سے بھی وابستہ رہے مختلف اخبارات میں بطور سب ایڈیٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے کام کیا2009 سے 2011 تک تقریبا 100 ڈرامے پروڈیوس کئے ۔۔ہمہ جہت شخصیت بخت زمان یوسفزئی نے کئی تنظیموں کے ساتھ بطور تحقیق کار، رپورٹ رائٹر، کوآرڈینیٹر؟، میڈیا سیکرٹری اور ریسورس پرسن کے کام کیا۔۔حمید نظامی ایوارڈ کا بڑا صحافتی اور ادبی اعزاز بھی حاصل کیا۔۔جہاں تک بات بیرونی دنیا کی ہے تو وائس آف جر منی سے وابستہ رہے اور جاپان کے ٹی وی کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ بین الاقوامی اخبارات میں بھی کالم لکھتے ہیں ۔۔جبکہ اسی سلسلے میں کئی ممالک امریکہ، فرانس، بیلجیئم،ہالینڈ اور متحدہ عرب امارات کےلئے عازم سفر بھی ہو چکے ہیں ۔۔اس با صلاحیت تحقیق کار نے پاکستان سپر لیگ میں کے پی کے کی اپنی ٹیم پشاور زلمی کے لیئے گانا تیار کر کے پھر خود ہی اس پر گلوکاری کے سر اور رنگ بکھیر دیئے۔۔۔۔



تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇


https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

منگل، 30 اگست، 2022

ماہ صفر اور توہمات

‏‼️ ماہِ صفر سے متعلق بد شگونیوں، بد فالیوں، توہُّمات کے خیالات کی اصلاح کیجیے!

تحریر: قاری زاھدحسین زاھد

دین اسلام ایک صاف ستھرا اور پاکیزہ دین ہے۔ جس میں ہرقسم کی توہمات اور بدشگونی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اسطرح کسی دن یا مہینہ کو منحوس سمجھنے سے روکا گیا ہے ۔لیکن افسوس کہ اس زمانے میں خود کو مسلمان اور شریعت کا پیروکار سمجھنے والے بعض لوگ بے جا نحوست اور بد فالی کا شکار ہوتے ہے۔جس کی ایک زندہ مثال ماہ صفر کو منحوس سمجھنا ہے۔
صفر اسلامی تقویم میں ترتیب کے لحاظ سے دوسرا مہینہ ہے۔ صفر کے ایک معنی خالی کے ہے چونکہ زمانہ جاہلیت لوگ چار مہینوں ( رجب، ذیقد ہ ، ذی الحجہ اور محرم) کی حرمت کا خیال رکھتے تھے۔ اور ان مہینوں میں لڑائی جھگڑے سے دور رہتے ۔ اگر کسی دوقوموں میں لڑائی کے دوران یہی چار مہینوں میں سے کوئی مہینہ شروع ہو جاتا تو لڑائی کو مؤخر کرتے لیکن جب صفر کا مہینہ شروع ہو جا تا تو اہل عرب جنگ و جدال کے لئے گھروں سے نکل جاتے، جس کے نتیجے میں ان کے گھر خالی ہو جاتے۔ اس طرح عربی میں یہ محاورہ ”صفر المکان“ (گھر کا خالی ہونا) مشہور ہو گیا چنانچہ معروف محدث اور تاریخ داں علامہ سخاوی نے اپنی کتاب ”المشہور فی اسماء الایام و الشھور“ میں صفر کے مہینے کی یہی وجہ تسمیہ لکھی ہے،نیز صفر کو صفر اس لئے بھی کہتے ہیں کہ لگاتار حرمت والے مہینے گزرنے کے بعد باشندگان مکہ جب سفر کرتے تھے تو سارامکہ خالی ہوجاتاتھا۔

زمانہ جاہلیت میں لوگ اس مہینے کو منحوس سمجھتے تھے اس میں شادی کی کوئی تقریب نہیں رچاتے ۔ بدقسمتی سے آجکل بھی بعض علاقوں میں بعض ایسے لوگ موجود ہے جو کہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی طرح اس مہینے میں بدفالی ، بے جانحوست ، توہمات،
بدشگونیوں کا شکار ہے۔ کچھ لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ مہینہ بد بخت اور منحوس ہے ۔اور اسی اعتقاد کی بناء پر اس مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کی دوسری تقاریب منانے سے پر ہیز کرتے ہیں۔ 
اس ماہ میں نہ رشتہ تلاش کیاجاتا تھا، نہ شادی بیاہ کی تقریبات منعقد کی جاتی تھی، بلکہ جن کی شادی ہوچکی ہوتی، ابتداء میں ان شوہر اور بیوی کو تیرہ دن تک جدا رکھا جاتا تھا، اس نظریہ سے کہ ان ایام میں ان کا میل جول آپس میں کشیدگی اور نزاع کا باعث ہوگا۔
یہ خیال بالکل بے بنیاد اور بے اصل ہے۔ اور یہ اعتقاد دراصل تو ہم پرستی ہی کا ایک حصہ ہے ۔ جو کہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے اہل عرب میں عام تھی ۔ یہ لوگ بے جانحوست اور تو ہم پرستی کا شکار ہوتے تھے ۔اور طرح طرح کی الٹی سیدھی خیالات بنا کر اس پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔حضور پاک نے نہ صرف توہم پرستی پر مبنی عقائد کی تردید و ممانعت کی ، بلکہ اس کے بارے میں واضح احکامات بھی صادر فرماۓ ۔ آپ نے فرمایا کہ " بد فالی ایک شرک ہے ۔" اسکو تین دفعہ ارشاد فرمایا۔ نیز احادیث میں اس مہینہ کے ساتھ نحوست وابسطہ کرنے کی سختی سے تردید کی گئی ۔اور اس مہینے کو "صفرالمظفر " اور "صفر الخیر" کہا گیا۔ تا کہ کوئی اسکو منحوس یا شر و آفت والا مہینہ نہ کہے۔ بلکہ " کامیابی و کامرانی" و "خیر و برکت" کا مہینہ کہا جاۓ ۔آپ نے فرمایا لا صفر یعنی صفر کچھ چیز نہیں ۔ علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہے ۔ کہ عوام اس مہینہ یعنی صفر کو بلاؤں ،مصیبتوں اور حادثات کے نازل ہو نے کا وقت قرار دیتے ہے ۔ یہ عقیدہ باطل ہے اسکی کوئی حقیقت نہیں ۔ کوئی بھی وقت برکت عظمت اور فضیلت والا تو ہوسکتا ہے جیسے رمضان المبارک ، لیلۃ لقدر، یا جمعہ کا دن وغیرہ لیکن کوئی دن یا وقت منحوس نہیں ہوسکتی ۔ کیونکہ تمام اوقات اللہ تعالی کے بناۓ ہوۓ ہیں ۔ لیکن افسوس کہ دینی تعلیمات سے دوری اور جہالت و کم علمی کی وجہ سے اب بھی بعض جاہل موجود ہیں ، جو کہ نہ صرف اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں ۔ بلکہ اس کے بارے میں عجیب و غریب باتیں مشہور کر رکھے ہوۓ ہیں۔ مثلاً : کچھ لوگ ابتدائی 13 دنوں منحوس ۔ سمجھتے ہیں ۔ بعض لوگ اس مہینے میں جنات کو بھگانے ۔ کے لئے الٹے سیدھے کام کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ مروجہ قرآن خوانی کر کے اسکے ذریعے نحوست سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس مہینے کی آخری بدھ کو عید کے طور پر منانے ہیں۔ کئی لوگ اس مہینے میں نقصان کے اندیشے کے باعث کسی کاروبار کا آغاز نہیں کرتے اور بعض لوگ گھر سے باہر سفر پر جانا مناسب نہیں سمجھتے، اس گمان سے کہ آفات نازل ہورہی ہیں، بعض نادانوں کا خیال ہے کہ اس مہینے میں آسمان سے لولے، لنگڑے، اور اندھے جنات بڑی کثرت سے زمین پر اترتے ہیں جو کہ لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ بعض خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے معاملے میں کافی محتاط اور خوف زدہ رہتی ہیں ۔ کہ کہیں جنات نقصان نہ پہنچاۓ ۔ایک مخصوص طبقہ ہر سال 20 صفر کو امام حسین کے چہلم کے طور پر بھی مناتی ہے اور اس دن جلسے جلوس نکال کر کاروبار زندگی مفلوج اور معطل کر دیتی ہے۔ 
حالانکہ دین اسلام کی واضح ، روشن اور دوٹوک تعلیمات کے بعد ایسے تو ہمات کی کوئی حقیقت اور اہمیت باقی نہیں رہتی۔

واللہ اعلم


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

اتوار، 14 اگست، 2022

وطن کی محبت ایمان کی علامت ھے۔

 وطن کی محبت ایمان کی علامت ھے۔


تحریر: قاری زاھد ٹوپی 
آج مدرسہ سیدنا سلمان فارسی بائی پاس روڈ ٹوپی میں 14 اگست یوم آزادی کے مناسبت سے ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مدرسے کے طلباء نے تلاوت قرآن کریم ، حمد و نعت، اردو، انگش، اور عربی میں تقاریر، قومی ترانہ، ملی نغمے پیش کیے۔
اس موقع پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے، مہمان خصوصی شیخ ابنِ شیخ حضرت مولانا عزاز الحق صاحب نے پرچم کشائی کی، اور آزادی، آزاد مملکت ، ملک کی بقاء سالمیت، اپنے ملک و وطن سے محبت اور اسکے اظہار کے حوالے سے تفصیلی خطاب فرمائی، تقریب کے آخر میں مملکت خداد پاکستان کی حفاظت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء کی بلندی درجات اور پاکستان کی حفاظت کے لیے خصوص دعائیں کی گئیں۔
#زاھدنیوز #viralvideo #qarizahid #14agust #azadi #یوم #youtubeshorts #swabi #pakistan #صوابی #topi #izazulhaq 


ہفتہ، 30 جولائی، 2022

شان سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

 شان سیدنا عمر فاروق

تحریر ؛ قاری زاھد حسین زاھد


یکم محرم سے نئے ہجری سال کا آغاز ہوتا ھے۔ نئے اسلامی سال کا آغاز ایک طرف تو ہمیں حضرات صحابہ کرام کی بے سروسامانی کی حالت میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اور مدینہ میں مقیم انصار کی بے مثال بھائی چارے ، ہمدردی ، اور اخوت کی یاد دلاتی ہے، دوسری جانب نبیوں کی اوصاف والے غیر نبی یعنی خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا حضرت عمر ابن خطاب کے یوم شہادت کا یاد بھی دلاتا ہے، حضرت عمر فاروق کے یوم شہادت پر یکم محرم کو صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے حسب معمول عام تعطیل کا اعلان خوش آئندہ اور وفاقی حکومت اور دوسرے صوبائی حکومتوں کے لئے قابل تقلید عمل ہے، ویسے تو تمام صحابہ کرام آسمان کے چمکتے  دھمکتے ستاروں کی مانند ہے (اصحابی کالنجوم۔  حدیث ) اور کیوں نہ ہونگے کہ اللہ تعالی نے خود صحابہ کرام کا انتخاب کر کے پورے امت محمدیہ ﷺ کے لئے معیارحق بنا دیا ہے ۔ تفسیر معارف القرآن میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ تمام صحابہ کرام کا ادب واحترام انکی تعظیم اور مدح وثنا ہے مسلمان پر واجب ہے، تمام صحابہ کرام میں سے با الاتفاق یار غار خلیفہ اول سید نا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رتبہ بلند وممتاز ہے۔ ابوبکر صدیق کے بعد خلیفہ ثانی ، خسر پیغمبر حق وصداقت کا علمبردار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مرتبہ و مقام ہے، خلیفہ ثانی کی فضیلت کے لئے یہی ایک ہی حدیث کافی ہے کہ سرور دو جہان حضوراکرمﷺ نے ارشادفرمایا کہ : میرے بعد اگر نبی ہوتا تو عمر ہوتا، ایک اور مقام پر آپﷺ نے فرمایا کہ میرے دو وزیر آسمانوں میں ہیں اور دو زمین پر ہیں ، جبرائیل میکائیل میرے آسمانوں کے وزیر جبکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میرے زمین کے وزیر ہیں، ایک اور  موقع پر ارشادفرمایا کہ قیامت کے دن ہم ایسے اٹھینگے کے میرے دائیں جانب سے ابوبکر اٹھے گا ، اور میرے بائے جانب سے حضرت عمر اٹھے گا۔ ایک اور مقام پر ارشادفرمایا کہ عمر جس راستے سے گزرتا ہے شیطان وہی راستہ بدلتا ہے۔

آپ مراد نبی ہے، آپ کو حضور پاک ﷺ نے اللہ تعالی سے مانگا، حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے ایک رات اللہ تعالی سے دعا مانگی، کہ یا اللہ عمر ابن خطاب یا عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو قوت عطاء فرماۓ ، چنانچہ آپ کے حق میں یہ دعا قبول ہوئی ، اور آپ کو اللہ تعالی نے ایمانی دولت سے سرفراز فرمایا۔

شجاعت اور بہادری کا یہ عالم تھا کہ تمام غزوات میں بہادری کے جوہر دیکھائے ، کسی ایک غزوہ میں پیچھے نہ رہے، سب مسلمانوں نے خفیہ ہجرت کی ، جبکہ آپ نے جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو تلوار گلے میں لٹکا دی ، کمان کند ھے پر جبکہ تیر ہاتھ میں لئے اور خانہ کعبہ کے پاس جا کر بیت اللہ شریف کا طواف کیا، مقام ابرھیم پرنفل پڑھے، اور مشرکین کے ہجوم کے پاس جاکر فرمانے لگے ، تمہارے چہرے بدشکل ہو جاۓ، تم میں سے جو یہ چاہتا ھے کہاس کی ماں اس پر روئے، جو یہ چاہتا ھے کہ اس کی اولاد یتیم ھوجائے، تو وہ اس وادی کے پر لے کنارے پر آ جاۓ ، اور پھر وہاں سے ہجرت کے لئے روانہ ہوۓ ، حضور پاک ﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ دنیا سے پردہ فرمائے ، تو تلوار ہاتھ میں آٹھائی اور باہر نکل کر اعلان کیا کہ اگر کسی نے کہا کہ آپ ﷺ انتقال کر گئے ، تو میں اسکا سر قلم کر دونگا۔ ایک مرتبہ ایک منافق بظاہر مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان ایک تنازعہ آیا، دونوں آقائے دو جہان کے دربار میں گئے، تو آپﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کیا، منافق نے حضرت عمر فاروق کے پاس جانے کا اصرار کیا، جب دونوں حضرت عمر فاروق کے پاس حاضر ہوۓ تو دلائل سننے کے بعد یہودی نے کہا کہ آپﷺ نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا تھا، لیکن اسکو اعتراض تھا، کہ حضرت عمر کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے چلتے ہیں، آپ نے کہا کہ ٹھہرو میں گھر سے ہو کر واپس آتا ہوں ، گھر سے تلوار لا کر منافق کا سرقلم کر کے فرمایا کہ جس کو حضوراکرمﷺ کا فیصلہ قبول نہ ہوتو اس
اس کے حق میں میرا یہی فیصلہ ہے۔

حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ علم کے دس حصوں میں سے ایک حصہ ساری امت کو دیا گیا ،اور باقی نو حصے حضرت عمر فاروق کو دئے گئے ۔ قرآن کریم سے موافقت کا یہ کہ عالم تھا کہ قرآن کریم میں تقریبا ستائیس بار آپ کے رائے کے عین مطابق آیتیں نازل ہوئی ، جس میں عورتوں کے پردے کا حکم نازل ہونا ، مقام ابراہیم میں نماز پڑھنے کا حکم، منافقین کے نماز جنازہ نہ پڑھانے ، اور ان کے لئے استغفار نہ مانگنے وغیرہ کے احکامات شامل ہیں۔ زهد و قناعت ، عاجزی و انکساری ، اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے، ہمیشہ سوکھی روٹی تناول فرماتے تھے، خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ ایک بار سورۃ طور کی تلاوت فرما رہے تھے، کہ اس آیت تک پہنچے۔ ان عذاب ربك لواقع تو ایک آہ بھری اور بیس دن تک بیمار رہے، لوگ عیادت کے لئے آتے رہے لیکن کسی کو پتہ نہ چلی کہ کیا بیماری ہے ،اکثر اوقات خود کو مخاطب کر کے خود کو ملامت بھی کرتے تھے، بے شمار کارناموں میں ایک عظیم کارنامہ بغیر ٹیکنالوجی، جہازروں میزائیلوں اور سیٹلائیٹ ۔ سسٹم کے بائیس لاکھ مربع میل پر اسلام کا جھنڈا لہرانا ہے، اور اسلامی حکومت قائم کر کے اسکا انتظام اور انصرام چلانا ہے۔ آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں اتنا بڑا سلطنت کسی حکمران کے پاس نہیں آپ کے دور خلافت میں ایک ہزار چھتیس علاقے فتح ہوۓ ، نوسو جامع مسجد اور چار ہزا چھوٹی مساجد تعمیر کی گئی۔ 

الغرض خلیفہ ثانی امیرالمومنین سیدنا حضرت عمر فاروق کی پوری زندگی اور انکی طرز حکمرانی ،عدل وانصاف، مساوات، زہد وقناعت
خدمت خلق، خوف خدا، حقوق کی ادائیگی
ہمارے عام عوام اور خصوصا حکمرانوں کے لئے۔
یک بہترین مشعل راہ ہے۔



#زاھدنیوز کو ضرور لائیک اور فالوکیجیے۔👇

https://Facebook.com/Zahidnews

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘

https://twitter.com/ZahidNewss
تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

پیر، 18 جولائی، 2022

خلیفہ ثالث سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین

شان سیدنا حضرت عثمانِ ذوالنورین

تحریر ؛ قاری زاھد حسین زاھد

سلام اس کی شہادت پر کہ ہے پیش نظر قرآں

سلام اس خوں پر جس کا امیں ہے مصحف قرآں



ملک بھر کی طرح تحصیل ٹوپی میں بھی خلیفہ ثالث سید نا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی یوم شہادت مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت کے ساتھ منائی گئی ۔مظلوم مدینہ سیدنا حضرت عثمان بن عفان کا تعلق قبیلہ قریش کی مشہور شاخ بنو امیہ سے تھا۔ پیشہ کے لحاظ سے تجارت کیا کرتے تھے۔آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضور اکرمﷺ سے جا کر ملتا ہے۔ آپ کے بہت ساری امتیازی فضائل و مناقب ہے جو کہ آپ کو باقی صحابہ سے ممتاز کرتے ہے۔ سب سے بڑی فضیلت نبی کریم ﷺ کے دہرے داماد کے ہے کہ یکے بعد دیگرے آپ ﷺ کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور ۔ حضرت ام کلثوم آپ کی نکاح میں آئی۔اس وجہ سے آپ" ذوالنورین " کا لقب پاۓ ۔حضرت علی فرماتے کہ عرش والے بھی آپ کو ذوالنورین ہی کے نام سے ۔ پکارتے ہیں۔ اور آپﷺ نے فرمایا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتی تو میں انکے انتقال کی صورت میں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان کی زوجیت میں دے دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور پاک ﷺ کو کتنے محبوب تھے۔

دربار رسالت مآب ﷺ سے متعدد بار آپ کو جنتی ہونے کی بشارتیں ملی ۔ امت مسلمہ آپ کو "جامع القرآن" کے لقب سے یادکرتے ہیں۔ جبکہ آپ کا تاریخ ساز کارنامہ مصحف عثمانی کی تدوین و اشاعت ہے۔ دین اسلام کی خاطر دو بار ہجرت کی ایک مرتبہ حبشہ کی طرف جبکہ دوسری بار مدینہ منورہ کو ہجرت کی ہے اور سب سے پہلے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کرنے کی شرف حاصل کی ۔ شرم وحیا کے پیکر جود وسخا اور انفاق فی السبیل اللہ کے خوگر، دوہرے داماد النبی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہہ نے مسلمانوں کے فلاح و بہبود اور اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے اتنا مال و دولت خرچ کیا کہ غنی کا لقب پائے۔

ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی تکلیف تھی۔ کیونکہ شہر کے باہر بیٹھے پانی کا صرف ایک کنواں تھا۔ جو کہ ایک لالچی یہودی کی ملکیت میں تھا۔ وہ  مسلمانوں پر مہنگے داموں پانی کو فروخت کرتا تھا۔ آپ نے یہودی کومنہ مانگا قیمت دیکر کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیا۔اور جنت کی بشارت حاصل کی ۔اسی طرح مسجد نبوی کی توسیع کیلئے پلاٹ خرید کر وقف کی ۔اس طرح اسلام لانے کے بعد شہادت تک یہ معمول تھا کہ ہر جمعے کے دن ایک غلام خرید کر آزاد کیا کرتے تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کل دو ہزار چار سو (2400) غلام آزاد کئے ۔اسی طرح غزوہ تبوک کےموقع پر حضور نبی کریم ﷺ کی ترغیب پر 300 اونٹ 🐫  سازوسامان سے لدے ہوۓ پیش کئے ۔اور ساتھ ایک کی ہزار دینار نقد پیش کئے ۔تو آپﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد حضرت عثمان کا کوئی بھی عمل اسے نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ اور دعافرمائی کہ یا اللہ میں عثمان سے راضی ہوں، آپ بھی راضی ہو جا! اسی طرح دور صدیقی میں جب مسلمان سخت قحط میں مبتلا ہو گئے اور اشیائے خورد و نوش کے ذخیرے بھی ختم ہو گئے ، تو شام سے آنے والا کی اپنا ایک ہزار اونٹوں پرمشتمل غلہ سے لدا ہوا قافلہ صدقہ کیا۔ حالانکہ تاجر کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کے لئے راضی تھے۔

آپ کے چند نمایاں کارنامے: حضرت ابوبکر صدیق کی دور خلافت میں شروع ہونے والے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور  44لاکھ مربع میل پر اسلام کا پرچم لہرایا۔ یعنی کابل سے لیکر مراکش تک اسلام پھیلایا۔ جمعہ کے دن اذان اول کا حکم بھی آپ نے صادر فرمائی۔

مؤذنین کے لئے باقاعدہ تنخواہیں مقرر فرمائی۔

سب سے پہلے کہ پولیس اور اسکے عہدے مقرر کئے۔

تمام مسلمانوں کو ایک قرات (لغت قریش پر جمع کیا۔

بیت المال کی تنظیم نو کی۔

حجاز میں شہروں کا جال بچھا دیا،

مدینہ کو سیلاب کی پانی سے بچانے کے لئے ڈیم تعمیر کئے۔ سڑکیں، پل اور کنوئیں بناۓ۔

سرکاری دفاتر اور عمارتیں قائم کئے ۔

جانوروں کے لئے با قاعدہ چراگاہیں قائم کی۔

پرانے مساجد کی توسیع اور تزین و آرائش اور نئے مساجد کی تعمیر آپ خاصا رہی۔


ایک روایت کے مطابق حضور پاک ﷺ نے ایک آپ کو فرمایا کہ اللہ تعالی آپکو خلافت کی قمیص پہنائیں گے۔ جبکہ منافق لوگ آپ سے اتارنے کی کوشش کرینگے، لیکن مت اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آکر ملوں کے (یعنی کہ شہید ہو جاؤ) چنانچہ آخری وقت میں آپ ﷺ کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور ذی القعدہ کے آخری کے عشرے 35 ھ میں ایسے وقت میں جب کہ اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ گئے ہوئے ہیں۔ تھے۔ بلوائیوں، باغیوں اور منافقوں نے یہ موقع غنیمت جان کر آپ کے گھر کا محاصرہ کیا لیکن ان حالت میں بھی آپ نے صبر واستقامت کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان ظالموں نے چالیس دن تک آپ پر پانی اور کھانا بند سے کر دیا تھا۔ اور آپ کے اہل خانہ کو کھانے پینے کی کوئی چیز نہ پہنچنے دی۔اس کے باوجود آپ نے اپنے ساتھیوں اور خدام کو مقابلے سے روکا ۔اور فرمایا کہ میں نبی کی شہر میں خون بہانا نہیں چاہتا۔ چالیس دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کوان بلوائیوں نے گھر میں داخل ہو کر آپ کو بحالت روز ہ ، قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے 82 سال کی عمر میں بڑی بے رمی و بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ رضی اللہ عنہ


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل  لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇


https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS


جمعہ، 8 جولائی، 2022

خطبہ حج 2022

 امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے

آپ کی مصیبت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا ‘ بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو نیک کام میں جلدی کرتے ہیں۔ مسجد نمرہ میں محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کا خطبہ حج


اس سال خطبہ حج دینے والے شیخ محمد بن عبدالکریم کون ہیں؟


شیخ محمد سیاست دان ،مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ، بین الاقوامی اسلامی حلال تنظیم کے صدراورسابق سعودی وزیرانصاف کے عہدے پر بھی رہے ۔

ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم کو متعدد ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے ۔ وہ مذاہب کے مابین روابط اورمکالوں کو پیش کیے جانے ، شدت پسندی اورمختلف مذاہب میں نفرت انگیزی کے خلاف آواز اٹھانے کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں ۔

2020 میں ڈاکٹر شیخ محمد بن عبدالکریم کا نام دنیا کے 500 باثر مسلمانوں میں شامل تھا ۔

ڈاکٹرعیسیٰ نے امریکہ ، یورپ ، افریقہ اور ایشیا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مذہبی وسیاسی شخصیات سے ملاقات کیں۔ مذاہب کے مابین بہتر تعلقات کو فروغ دینے کے لئے بھی انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں۔

گذشتہ برس سعودی فرمانزوا نے حج 1442 ہجری کا خطبہ دینے کے لئے مسجد الحرام کے خطیب ڈاکٹر بند بلیلہ کومقررکردیاگیا تھا۔
محمد بن عبدالکریم العیسیٰ مسجد نمرہ خطبہ حج دے رہے ھے


محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے آج عرفات کی مسجد نمرہ میں حج 2022 کا خطبہ دیتے ہوئے کہاھے کہ مسلمانوں اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں وہ یکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اللہ نے فرمایا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراوَ اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارو ، اللہ نے اپنے اوپر رحم کو لازم کیا ، اللہ نے انسانوں کو اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے زمین اور آسمان کو 6 دن میں تخلیق کیا ، اللہ نے فرمایا اپنے نفس کا تزکیہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے رسول اللہﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا ، اللہ کی کتاب قرآن مجید دیگر آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اللہ نے قرآن میں فرمایا تم پر حج فرض ہے ، اللہ نے فرمایا اس نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور ان میں سے ہی پیغمبر چنا ، اللہ نے فرمایا متقی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے ، اللہ نے فرمایا میں نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم اللہ کے شکر گزار رہو ، بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو نیک کام میں جلدی کرتے ہیں، اللہ کے ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے ، ورنہ انسان تو سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ لوگوں پر خون و مال اور عزتیں ایک دوسرے پر حرام کر دی گئی ہیں، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر معاملے میں حکمت سے کام لو ، اللہ نے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا ، اسلام بھائی چارے اور اخوت کا درس دیتا ہے ، اللہ کا حکم ہے کہ والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کرو ، بہترین انسان وہ ہے جو خیر کی راہ پر گامزن ہو ، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے ، اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے۔
محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے جو بندہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے تو اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، اللہ کے سوا انسان کی مصیبت کوئی دور نہیں کرسکتا ، قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کسی عربی کو عجمی پراور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں ، قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے ، اللہ کا فرمان ہے جب بھی مجھے پکارو گے تو اپنے قریب ہی پاو گے ، اللہ کا فرمان ہے انسان ہو یا جانور،سب سے رحمت کا معاملہ کریں، اللہ نے فرمایا اپنے رب کی ایسے عبادت کرو جیسے اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ نے فرمایا اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا اس نے انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت میں اللہ کے رحم و فضل کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو گا ، اللہ نے فرمایا مرد اور عورت میں جو بھی بھلائی کا کام کرے اس کو اجر دیا جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دین کامل کر دیا، اللہ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو نیکی کا حکم دو، اچھی تربیت کرو۔
خیال رہے کہ عالمی وباء کورونا وائرس کے بعد پہلی بار 10 لاکھ سے زائد عازمین حج کی سعادت حاصل کررہے ہیں ، پاکستان سے بھی اس سال 85 ہزار کے قریب افراد حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ، مناسکِ حج کی ادائیگی کا سلسلہ 8 ذی الحج سے شروع ہوتا ہے جو 12 ذی الحج تک جاری رہتا ہے، 8 ذی الحج کو عازمین مکہ مکرمہ سے منیٰ کی جانب سفر کرتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں، 9 ذی الحج کو فجر کی نماز کے بعد عازمینِ حج منیٰ سے میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام لازمی ہے اور اس کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جہاں پر مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں اور رات بھر یہاں قیام لازم ہوتا ہے۔
10 ذی الحج قربانی کا دن ہوتا ہے اور عازمین ایک مرتبہ پھر مزدلفہ سے منیٰ آتے ہیں، جہاں قربانی سے قبل شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں، مزدلفہ سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً 9 کلو میٹر ہے اور یہاں پر عازمین مخصوص مناسک کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جا کر ایک طوافِ زیارت کرتے ہیں اور منیٰ واپس آجاتے ہیں، 11 اور 12 ذی الحج کو تمام مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عازمین ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرم میں الوداعی طواف کرتے ہیں۔
حجاج کرم میدان عرفات میں جمع ھے۔


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

جمعہ، 24 جون، 2022

صلح میں خیر ھے۔

 صلح کروانا پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں صلح کروانے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے۔ پارہ26 سورۃ الحجرات کی آیت نمبر9 میں اللہ عزوجل کا فرمان عالیشان ہے:


(ترجمہ ) ’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کرائو‘‘۔
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : '' کیا میں تمہیں روزے،نمازاور صدقے سے بڑھ کر افضل درجات کے اعمال نہ بتاؤں؟ '' صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ''آپس کے میل جول اور روابط کو بہتر بنانا ۔ (اور اس کے برعکس) آپس کے میل جول اور روابط میں پھوٹ ڈالنا (دین کو) مونڈ دینے والی خصلت ہے ۔ ''


گدون کے علاقہ بادہ تحصیل ٹوپی میں آٹھ سالہ پرانی دشمنی جرگہ مشران کی کوششوں سے دوستی میں بدل گئی اوردونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ راضی نامہ ہوگیا۔

جرگہ مشران مولانا فضل باقی صاحب حاجی غفورخان  جدون 
گل عجب کاکا، ایس ایچ او تھانہ گدون انڈسٹریل اسٹیٹ  شمس القمر صاحب،  اجون خان جدون، محمد رحیم جدون تحصیل میئر ٹوپی، عادل خان تحصیل میئر چھوٹا لاہور سھیل خان ٹوپی،  قاری محمد سلیمان و دیگر جرگہ مشران کی کاوشوں سے بادہ گدون میں 02خاندانوں حاجی نوررحمان جدون گل حمید محلہ عیسی خیل اور نوراز ولد امان خان ہمٹ خیل کے مابین آٹھ سالہ دشمنی ختم ھوکر دونوں خاندان کے درمیان آج باقاعدہ ایک تقریب میں راضی نامہ ہوگیا۔


 جرگہ مشران کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت دونوں فریقین کے مابین صلح ممکن ہوا. 
ذرائع کے مطابق آٹھ سال سے دو خاندانوں گل حمید نوررحمان فضل الرحمان علی رحمان جلالی عیسی خیل اور نوراز ولد امان خان کے درمیان قتل مقاتلے کی دشمنی چلی آرہی تھی۔ دونوں فریقین کا تعلق ایک ہی گاوں سے ہے ۔آج علاقہ مشران و جرگہ مشران کی کوششوں سے دشمنی دوستی میں بدل گئی اور دونوں فریقین شیر و شکر ہوگئے اور مسجد میں جرگہ مشران اور عمائدین علاقہ کی موجودگی میں قران پاک پر حلف اٹھا لیا کہ آیندہ کے لئے بھائیوں جیسے زندگی گزاریں گے. جرگہ کی انتھک کوششوں سے اللہ تعالٰی نے آج صلح کو عملی شکل دی اور آج مسجد صدیق اکبرؓ بادہ گدون برجماعت میں دونوں فریقین ایک دوسرے کیساتھ بغلگیر ہوگئے۔

چائے سے معیشت کو خطرہ! جامعات میں طلبہ کو ستّو اور لسّی پلائیں، ہائیر ایجوکیشن

 احسن اقبال کا معیشت ٹھیک کرنے کے لیے قوم کو چائے کم پینے کا مشورہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے چند دن پہلے معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے قوم کو چائے کم پینے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر انکا ویڈیو کلپ وائرل ھوگیا، اور سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان برپا ہو گیا۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ھے کہ حکومت کا کام پالیسی بنانا مشورے دینا نہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے پاکستانی لوگوں اور پڑوسی ملک سے آنے والے ’حملہ آوروں کی تواضح‘ بھی چائے کی پیالی سے کرنے والی پاکستانی قوم کو احسن اقبال کا چائے کم کرنے کا مشورہ بالکل پسند نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ دن میں چائے کم پینے کا کہنے پر احسن اقبال نے پاکستانی عوام سے تاحیات دشمنی مول لی ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پتھر کھا کر گزارا کر لیں گے مگر چائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا !!

دودھ، پانی، پتی ہے، کوئی اسلحہ تو نہیں۔۔۔۔دو کپ چائے پی لی، اب ایک اور پی لوں کوئی مسئلہ تو نہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان چائے کی درآمد پر خاصی رقم خرچ کرتا ہے اور مگر بقول شاعر:

مانا کہ تم بہت حسین ہو مگر
محبت ہمیں پھر بھی چائے سے ہے۔۔۔

اور ہم تو بس اتنا کہیں گے: احسن اقبال صاحب غریب کو جینے دیں اور چائے پینے دیں!

اس میں شک نہیں کہ پاکستان کا شمار دنیا بھر میں زیادہ چائے پینے والوں میں ہوتا ہے۔
جہاں وقت کی کوئی قید نہیں, اور نہ ہی چائے پینے کی کوئی وجہ
ہمارے ہاں چائے کو بطور "دوا " بھی پیا جاتا ہے
*سر میں درد ہو رہا ہے.......... چاہ پی!!
تھکاوٹ ہو گئی ہے............ چاہ پی!!!
نیند نہیں آ رہی........ چاہ پی!!!!
اور پھر گھر میں مہمان آگے ہیں.... کڑیے چاہ بنا... 
نا!!! چاہ نہ ہوگئی امرت جل ہو گیا...
ویسے ایک بات تو ہے چائے میں.. زندگی میں دھوکے کے بعد چائے وہ چیز ہے جو بندے کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔
وغیرہ وغیرہ


حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان چائے درآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست پر آگیا ھے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان 59 کروڑ ڈالر کی سالانہ چائے درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے جبکہ پاکستان کے مقابلے میں امریکا نے 47 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی چائے درآمد کی حالانکہ امریکا پاکستان سے 100 گنا زیادہ دولت مند امیر ملک ہے اور اس کی آبادی پاکستان سے کافی زیادہ ہے اس طرح برطانیہ 34 کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی چائے امپورٹ کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ چین چائے امپورٹ کرنے والے ملکوں میں چوتھے نمبر پر اور مصر 5 ویں نمبرپر ہے۔ چین کی چائے کی سالانہ امپورٹ 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے اور مصر کی سالانہ امپورٹ 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔ اس طرح وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے جو یہ دانشمندانہ جملہ کہا تھا کہ پاکستان جو کم وبیش 60 کروڑ ڈالر کی چائے سالانہ درآمد کر رہا ہے چونکہ ہم پاکستانی یومیہ کئی کپ چائے پیتے ہیں اگر اس میں سے یومیہ ایک کپ بھی کم کر دیں تو پاکستان کا چائے کی درآمد کا مجموعی بل تیزی سے کم ہوجائے گا۔





آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں خیبرپختونخوا کے علاقے شنکیاری ضلع مانسہرہ میں چائے کے باغات موجود ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے یہاں پر چائے مقامی سطح پر کاشت کی جا رہی ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں بہت کم لوگوں کو اس بات معلومات ہے کہ پاکستان میں چائے کے اتنے خوبصورت باغات موجود ہیں۔  
دنیا میں چائے پیدا کرنے والے ممالک نے جہاں چائے کی کاشت سے زرمبادلہ کمایا وہاں ساتھ ہی ساتھ اس کی ٹورازم کو پرموٹ کر کے بھی بے پناہ پیسہ کمایا۔ 
لیکن ہمارے ہاں نہ تو چائے کی کاشت کو فروغ مل سکا اور نہ ہی اتنے خوبصورت شنکیاری ٹی گارڈن کی ٹورازم کو اجاگر کیا جا سکا۔ 
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں چائے کی کاشت کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات کی ٹورازم کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میں چائے کا قومی دن منانے کے لیے نیشنل ٹی گارڈن فیسٹیولز منانے کا بھی آغاز کیا ھے اس سلسلے میں اے ٹی ڈی سی پی ، این ٹی ایچ ار آئی اور پے اے آر سی کے تعاون سے پاکستان میں چائے کا قومی دن ڈکلیئر کیا گیا ۔ سنڈے 26 جون 2022 کو اسی سلسلے کا تیسرا سالانہ قومی ٹی گارڈن فیسٹیول 2022 کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں مقامی سطح پر خود کی اپنی چائے کی کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ چائے کے باغات کی سیاحت کو بھی فروغ مل سکے جس سے ہم اپنی چائے کی کاشت کو اپنی ٹورازم کی طاقت بنا کر اس گاؤں میں بے پناہ پیسہ انجیکٹ کر سکتے ہیں ۔ 
21 جون کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی طرف سے پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کو ایک لیٹر کے ذریعے مطلع کیا گیا کی پاکستان میں چائے کی مقامی سطح پر کاشت کو فروغ دیا جائے، اور مقامی کاشت کی گئی چائے کے ساتھ ساتھ مقامی مشروبات جیسے کہ ستو، لسی کو فروغ دیا جائے۔ 

گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے مانسہرہ میں قائم چائے اور دیگر بڑی فصلوں کے قومی تحقیقی ادارے (نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) شنکیاری مانسہرہ کا دورہ کیا۔اس موقع پران کے ہمراہ مرتضیٰ جاوید عباسی (وفاقی وزیر ، پارلیمانی امور )، سردار محمد یوسف، (ایم پی اے صوبائی اسمبلی کے پی کے) اور ڈاکٹر اکمل صدیق (مشیر برائے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق)نیز صوبائی محکمہ جنگلات اور زراعت کے نمائندگان بھی شریک تھے۔چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی اور ڈائریکٹر این ٹی ایچ آر آئی شنکیاری ڈاکٹر عبدالوحید دونوں نے مل کر شرکاءکو ملک کے ممکنہ ترقی پذیر علاقوں میں چائے کے فروغ کے لیے تحقیق اور ترقی کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے حکومت کے طور پر مقامی چائے کی پیداوار کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ حکومت چائے کی درآمد پر بھاری رقم یعنی 0.50 بلین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائے کی کمرشلائزیشن کے لیے تمام ضروری اقدامات پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی یعنی چائے کی پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ تاکہ چائے کی پیداوار کو ایک کامیاب کاروبار بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ چائے کی کمرشلائزیشن پلان میں نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جائے گا اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلات اور زراعت این ٹی ایچ آر آئی کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ساتھ چائے کی کمرشلائزیشن کے منصوبے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
 اس موقع پر احسن اقبال نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ چائے کی کمرشلائزیشن میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی زیر نگرانی چائے کی کمرشلائزیشن موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان کو چائے پیدا کرنے والا ملک بنانے کے لیے چائے کی کاشت کے لیے موزوں مٹی اور موسمی حالات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ شرکاءنے NTHRI میں چائے کے باغات اور چائے کے پروسیسنگ پلانٹس (بلیک اینڈ گرین ٹی) کا بھی دورہ کیا اور چائے کی کاشت اور پروسیسنگ میں شامل اقدامات کے بارے میں روشنی ڈالی۔
  چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر غلام محمد علی نے چائے کی پیداوار اور پروسیسنگ ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے پی اے آرسی کے کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے شرکاءکو بتایا کہ چائے کی کاشت کی ترقی پر کامیاب تحقیقی کام اس ادارہ کے سائنسدانوں نے کیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ چائے کی پیداوار کو بڑے پیمانے پر تجارتی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کے شمالی علاقوں میں 158,000 ایکڑ رقبہ چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔


تمام فرینڈز اور فالورز #زاھدنیوز کا یوٹیوب چینل لازمی سبسکرائب کیجئے۔👇

https://www.youtube.com/c/ZahidNEWShttps://www.youtube.com/c/ZahidNEWS

تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کےلیے #زاھدنیوز کو ٹویٹر پر بھی فالو کیجئے۔👇 😘

https://twitter.com/ZahidNewss

خطبہ حج 2023

شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے، ایسی ہر چیز جس سے اتحاد ٹوٹے دور رہنے کا حکم ہے: خطبہ حج میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن مح...